Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188392
Published : 15/7/2017 18:31

سعودی خواتین کی مصیبت(ایک رپورٹ)

یہ واقعہ محض ایک خیال اور تصور نہیں ہے بلکہ یہ کام 2002 ء میں سعودیہ میں ہو چکا ہے۔
ولایت پورٹل
:آپ سوچیں کہ اگر آپ اور کچھ خواتین آگ کے درمیان پھنس جائیں، اور آپ کو اپنی موت نظر آنے لگے، اور امید کے سارے راستے بند ہو جائیں، اور اسی دوران فائربریگیڈ کی آواز سنے تو آپ کے دل میں زندگی کی ایک امید پیدا ہو جائے گی، پر اسی دوران کچھ افراد اپنے آپ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کہیں اور قرآن اور حدیث کے حوالہ سے کہیں کہ خواتین نا محرم ہیں اس لیے ان کو بچانا امدادی ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے، ایسے میں خواتین کے پاس جلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا؟؟!!!!

یہ واقعہ محض ایک خیال اور تصور نہیں ہے بلکہ یہ کام 2002 میں سعودی عرب میں ہو چکا ہے، اس تحریر اور اس کے بعد کے کالم میں ہم اس کے سبب پر بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ سعودی حکومت خواتین کو ایسے معمولی اور ابتدائی حقوق سے کیوں محروم کر رہی ہے؟
21 اپریل 2008 میں انسانی حقوق کے مبصر نے ایک رپورٹ میں کہا کہ سعودی عرب نے خواتین کے بارے میں ایک سیاہ تاریخ اپنے پیچھے چھوڑی ہے،اس ملک میں مرد کی حکمرانی کے نظام کے خلاف ہیومن رائٹس کے ادارے نے عالمی اداروں سے اس نظام کے خاتمہ کے لیے سرگرم ہونے کا مطالبہ کیا،اس انسانی حقوق کے ادارے نے اس سلسلے میں کچھ ویڈیو اپنے فیسبوک پیج پر اور یوٹیوب پر شائع کی ہیں، جن میں سے ایک میں سعودی خاتون ڈاکٹر ایک یونیورسٹی کی دعوت پر علمی تقریب میں اپنے چھوٹے بیٹے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکی،دوسری ویڈیو میں ایک قیدی سعودی خاتون نے کہا ہے کہ: میری سزا کے ختم ہوئے کئی سال گزر گئے ہیں،پر اس کے خاندان والے اسے اپنے خاندان کی بے عزتی سمجھتے ہیں اس لیے اسے قبول نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اب تک قید میں ہے،ان سب مشکلات کے بعد 1981 میں سعودی خواتین نے سرگرم ہونے کا ارادہ کیا جس کے نتیجے میں 1990 میں کئی خواتین نے مل کر ڈرائیونگ کی، جس کے بعد ان کو دبایا گیا اور ان کے مردوں پر «بے غیرتی» کا الزام لگایا گیا، پر سعودی خواتین نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس ظلم کو برداشت نہیں کریینگی،اکثر ماہرین، سعودیہ میں خواتین کی مشکلات کو مرد سالاری کے نظام کی وجہ سے سمجھتے ہیں، پر ہماری نظر میں اصل مشکل خواتین کی ناآگاہی ہے، وہ اپنے حقوق کو نہیں جانتی ہیں اور ان مظالم کو تقدیر الہی سمجھ کر مان لیتی ہیں، اس لیے خواتین کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہئے تاکہ جو بچے ان کی گود میں پرورش پائیں، وہ عورت کو کم سے کم انسان  توسمجھیں،خواتین کے حقوق کے مخالف حضرات ان ماؤں کی گود میں پلے ہیں جو اپنے آپ کو نابالغ اور کمزور سمجھتی ہیں، اس لیے خواتین کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہئے، کیونکہ ظلم کے آگے تسلیم خواتین ہی ایسے معاشرہ کو جنم دینگی۔
Iuvmpress


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16