Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188393
Published : 15/7/2017 18:44

حضرت علی(ع) کی نظر میں حقیقی دوست

حضرت امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:اگر تمہارا دوست تم سے دوری اختیار کرے تو درگزر سے کام لو، جب وہ تم سے دور ہوتو تم اس سے قریب ہو جاؤ،اگر وہ سختی برتےتو تم نرمی کا سلوک کرو اور اگر وہ کسی غلطی یا خطا کا شکار ہوجائے، تو اسکے عذر و معذرت کو قبول کر لو۔


ولایت پورٹل:حضرت امام علی علیہ السلام نے رشتۂ دوستی کی حفاظت پر بہت زیادہ زور دیا ہے،لہٰذا اس بندھن کی مضبوطی و استحکام کا باعث بننے والے عوامل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اگر تمہارا دوست تم سے دوری اختیار کرے تو درگزر سے کام لو، جب وہ تم سے دور ہوتو تم اس سے قریب ہو جاؤ،اگر وہ سختی برتےتو تم نرمی کا سلوک کرو اور اگر وہ کسی غلطی یا خطا کا شکار ہوجائے، تو اسکے عذر و معذرت کو قبول کر لو۔
البتہ جب کم ظرف لوگ تمہاری عالی نفسی اور حسنِ سلوک کو تمہاری کمزوری اور اپنی چالاکی سمجھنے لگیں،تو ایسے موقع کیلئے امام کا فرمان ہے کہ: ان تمام مواقع پر موقع شناسی کا ثبوت دو اور ہوشیار رہو کہ جس طرز عمل کیلئے کہا گیا ہے اسے اسکی موزوں جگہ ہی پر ملحوظ رکھو اور ایسے شخص کے بارے میں روا نہ رکھو جو اس سلوک کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔
دوستی کے حوالے سے ایک اورقابل توجہ نکتہ اپنے دوست کو نصیحت کرنا، اور اس کا خیر خواہ ہونا ہے،امام (ع)فرماتے ہیں:اپنے بھائی کو مخلصانہ نصیحت کرتے رہنا چاہے اسے اچھی لگیں چاہے بری محسوس ہوں۔

حوالہ:نہج البلاغہ:مکتوب٣١۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20