Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188611
Published : 25/7/2017 17:3

حضرت معصومہ قم (س) کی مختصر سوانح حیات

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین قم کی طرف کھلتے ہیں، قم میں ہماری نسل میں سے ایک خاتوں دفن کی جائیں گی جنکا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا، انکی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔


ولایت پورٹل:اول ذی القعدہ یوم ولادت باسعارت حضرت سیدہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا، یومِ دختر کے طور پر منایا جاتا ہے!تمام اہل ولا کو یہ دن بہت بہت مبارک
بی بی کی مختصر سوانح حیات:
حضرت فاطمہ معصومہ(س) کہ جو دنیا میں معصومہ قم کے نام سے مشہور ہیں،امام ہفتم حضرت موسٰی بن جعفر الکاظم(س) کی بیٹی ہیں،آپ کی ولادت یکم ذوالقعدہ سن ۱۷۳ھ ق کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ کمسنی کے عالم میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس وقت سے جناب معصومہ(س) کے بھائی امام رضا علیہ السلام نے آپ کی پرورش کی، یہی وجہ تھی کہ آپ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔
امام رضا(ع) کی مدینہ سے خراسان ہجرت کے بعد آپ نے بھی فیصلہ کیا کہ مدینہ سے ہجرت کر کے اپنے بھائی کے پاس خراسان جائیں گی، اس سفر کے دوران آپ نے بہت مصیبتیں اٹھائیں لیکن اپنے بھائی سے نہ مل سکیں اور خراسان پہنچنے سے پہلے ہی زہر دیئے جانے کی بنا پر شہرِقم میں ۲۸ سال کی عمر میں سن ۲۰۱ ھ میں آپ کی شھادت ہو گئی۔
قم المقدسہ میں آج بھی آپ کا روضہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ موالیان اہلبیت(ع) کی زیارتگاہ بنا ہوا ہے۔
آپ کی حضرت زہراء(س) سے شباہتیں:
۱)نام اور لقب:
حضرت معصومہ(س) کا نام بھی فاطمہ ہے اور جناب سیدہ کونین کا نام بھی فاطمہ ہے۔
جناب سیدہ کونین(س)بھی معصوم اور حضرت معصومہ(س) کو بھی لقب معصومہ سے نوازا گیا ہے۔
امام رضا(ع) فرماتے ہیں:«مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى»
ترجمہ:جس نے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اسنے میری زیارت کی۔
اگرچہ عصمت کے مراتب ہیں اور فقط چہاردہ معصومین(ع) عصمت کے اعلی ترین مراتب پر فائز ہیں لیکن امام معصوم(ع) کی اس حدیث سے علماء یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جناب فاطمہ معصومہ(س) بھی معصومہ ہیں۔
۲)شفیع روز محشر:
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جناب زہراء(س) کا مہر، امت رسول کے گناہگاروں کی شفاعت ہے،لہذا جس طرح سے بنت الرسول جناب فاطمہ(س)بہت وسیع شفاعت کا اختیار رکھتیں ہیں اسی طرح جناب فاطمہ معصومہ(س) بھی وسیع شفاعت کی مالکہ ہیں،چنانچہ حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:«اَلا اِنّ لِلْجَنَّةِ ثَمانِیَةَ اَبْوابٍ ثَلاثَةٌ مِنْها اِلی قُمْ،تُقْبَضُ فیها اِمْرَأةٌ مِنْ وُلْدی اسمُها فاطِمَة بنتَ مُوْسی،و تُدْخَلُ بشفاعَتِها شیعَتی الْجَنَّةَ بِاَجْمَعِهِمْ»۔
ترجمہ:جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین قم کی طرف کھلتے ہیں، قم میں ہماری نسل میں سے ایک خاتوں دفن کی جائیں گی جنکا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا، انکی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔
۳) فداھا ابوھا:
معصوم کبھی بھی مبالغہ یا احساسات کے بہاؤ میں کوئی بات نہیں کرتا، چنانچہ جس طرح رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب  فاطمہ زہرا(س) کے لئے فرمایا تھا:«فَداها اَبُوها».
اسکا باپ اس پر فدا ہو جائے یعنی میں (رسول) فاطمہ پر قربان جائے۔
اسیطرح امام موسیٰ الکاظم(ع)نے جناب معصومہ(س)کے لئے بھی فرمایا:«فَداها اَبُوها»۔
۴)جناب معصومہ قم(س) کا روضہ حضرت زہرا (س)کی قبر کی تجلی گاہ:
مصلحت خداوندی یہ ہے کہ حضرت زہرا (س)کی قبر مخفی رہے لیکن مؤمنین کو انکی قبر کی زیارت سے محروم نہیں رکھا، اس لیے بعض قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جناب معصومہ(س) کا روضہ حضرت زہرا(س) کے قبر کی تجلی گاہ ہے،مثلا جناب معصومہ(س) کی زیارت کے آداب میں تسبیح حضرت زہراء کا پڑھنا یا وہ مشہور واقعہ کہ جس میں آیت اللہ سید محمود مرعشی (رہ) سے خواب میں امام صادق(ع) فرماتے ہیں:«عَلَیْكَ بِكَرِیمَةِ اَهْلِ الْبَیْتِ» یعنی اگر تم جناب سیدہ(س) کی قبر ڈھونڈنا چاہتے ہو تو جاکر جناب فاطمہ معصومہ(س) کی قم میں زیارت کرو۔
۵)حصارِ ولایت:
جس طرح سے جناب سیدہ(س) نے ولایت کے حصار میں زندگی بسر کی، جسکی بہترین مثال روز مباہلہ ہو سکتی ہے،اسی طرح جناب معصومہ(س)کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے:
السلام علیک یا بنت ولی الله
السلام علیک یا اخت ولی الله
السلام علیک یا عمة ولی الله
ترجمہ:سلام ہو آپ پر اے ولی اللہ کی بیٹی۔
سلام ہو آپ پر اے ولی اللہ کی بہن۔
سلام ہو آپ پر اے ولی اللہ کی پھوپھی۔
ان کلمات میں بھی حصارِ ولایت نظر آتا ہے کہ جو امام رضا(ع) نے جناب معصومہ(س) کے لئے زیارت میں بیان کیا ہے۔

الاسوہ مرکز



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10