Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188656
Published : 26/7/2017 18:59

وہابیوں کے نزدیک شفاعت کا غلط تصور

حقیقتاً کس قدر بے انصافی ہے کہ ایک انسان یہ کہے کہ ایسے افراد جو تمام اسلامی قوانین اور اصولوں کومانتے ہوں،اسلام کے سبھی احکام کو انجام دیتے ہوں، سارے گناہوں سے پرہیز کرتے ہوں ،اپنے اوپر واجب ہونے والے سارے مالی حقوق اور زکات وغیرہ ادا کر تے ہوں دور دراز کے راستوں کو طے کر کے خانۂ خدا کی زیارت کے لئے آتے ہوں اورحافظ اور معارف اسلامی کے عارف ہوں وہ ان بت پرستوں سے بدتر ہیں«جو شرابی قاتل ،جاہل ،خونخوار اور دور جاہلیت کے تمام گناہوں میں آلودہ اور کسی چیز کو قبول نہ کرتے ہوں»ایساکیوں ؟ کیا صرف اس لئے کہ پیغمبر اکرم(ص) (یا صالح لوگوں )سے طلب شفاعت کرتے ہیں، اس لئے یہ لوگ مہدورالدم ہوگئے اور ان کی جان و مال سب مباح ہیں؟

ولایت پورٹل:شفاعت  قرآن کی وہ چوتھی اصطلاح ہے جس کی تفسیر میں یہ گروہ غلطی میں مبتلا ہو گیا ہے،اور ان تمام انسانوں کے خلاف شرک وکفر کا حکم صادر کر دیا جو پیغمبر اسلام(ص)(یا ائمۂ اہلبیت (ع) یا دوسرے نیک بندوں )سے شفاعت طلب کرتے ہیں کہ جس کے حوالے ہم پہلے دے چکے ہیں،یہ لوگ اس معاملہ میں اس قدر انتہا پسندی سے کام لیتے ہیں کہ ان کے پیشوا نے اپنے رسالہ «کشف الشبهات»میں ان مشرکوں کو زمانۂ جاہلیت کے بت پرستوں کے مقابلے میں دو وجوہات سے بدتر سمجھا جبکہ وہ لوگ نہ معاد کا عقیدہ رکھتے تھے نہ نماز پڑھتے تھے اور نہ ہی اسلامی فرائض انجام دیتے تھے ، پیغمبر اسلام(ص) کو ساحراور واجب القتل اور قرآن کو سحر سمجھتے تھے پھر بھی یہ لوگ ہمارے زمانے کے مشرکوں پر (جو کہ سبھی اسلامی باتوں کو قبول کرتے ہیں اور آداب اسلامی کے پابند ہیں ، بس یہ کہ پیغمبر اسلام(ص) سے شفاعت طلب کرتے ہیں )بر تری دیتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ ان کا شرک،ان لوگوں کے شرک سے کم تر اور سبک ہے !ایساکیوں ہے؟اس لئے کہ وہ لوگ عیش و آرام کے وقت «بت»کی پرستش کرتے تھے اور سختی و پریشانی میں (بعنوان مثال جب سمندر کی خطرناک موجوں میں پھنس جاتے تھے تو )خدا کو بڑے خلوص سے یا د کرتے تھے ۔
حقیقتاً کس قدر بے انصافی ہے کہ ایک انسان یہ کہے کہ ایسے افراد جو تمام اسلامی قوانین اور اصولوں کومانتے ہوں،اسلام کے سبھی احکام کو انجام دیتے ہوں، سارے گناہوں سے پرہیز کرتے ہوں ،اپنے اوپر واجب ہونے والے سارے مالی حقوق اور زکات وغیرہ ادا کر تے ہوں دور دراز کے راستوں کو طے کر کے خانۂ خدا کی زیارت کے لئے آتے ہوں اورحافظ اور معارف اسلامی کے عارف ہوں وہ ان بت پرستوں سے بدتر ہیں«جو شرابی قاتل ،جاہل ،خونخوار اور دور جاہلیت کے تمام گناہوں میں آلودہ اور کسی چیز کو قبول نہ کرتے ہوں»ایساکیوں ؟ کیا صرف اس لئے کہ پیغمبر اکرم(ص) (یا صالح لوگوں )سے طلب شفاعت کرتے ہیں، اس لئے یہ لوگ مہدورالدم ہوگئے اور ان کی جان و مال سب مباح ہیں؟
کیا آج کی دنیا میں اس طرح کی نامعقول باتوں کو کوئی قبول کرے گا ؟!
لہٰذا یہ مان لینا چاہئے کہ ایسے افکارکا زمانہ گذر گیا اور بہت جلد اسے تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا۔
اب آئیے اصل مسئلۂ شفاعت کی طرف چلیں اور دیکھیں کہ اس مسئلہ میں توحیدی نظر سے کیا مشکل پیش آئی کہ ان لوگوں نے سب کو کافر ،مشرک اور مہدور الدم ثابت کر دیا ؟!
کیا شیخ الاسلام کو کوئی نیا مکاشفہ ہواتھاجواس کے اور ابن تیمیہ کے علاوہ تمام علمائے اسلام سے پوشیدہ رہا ؟!
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات کے ذریعے شفاعت کا مسئلہ ثابت ہے،اس کے مسلّم ہونے کے سلسلے میں علمائے اسلام کا اجماع ہے،یہاں تک کہ وہابی بھی اصل شفاعت کے منکر نہیں ہیں اور واضح طور پر اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
دوسرا نکتہ یہ کہ تمام شفیعوں کی شفاعت بغیر اذن پروردگار نا ممکن ہے،یہ بھی اسلام کے مسلمات میں سے ہے اس لئے کہ قرآن مجید کی پانچ آیتوں سے زیادہ میں اس موضوع کی تصریح ہوتی ہے منجملہ آیۃ الکرسی میں ملتا ہے:«مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّابِاِذْنِه»۔(۱)
ترجمہ:کون ہے جو بغیر اذن پروردگار اس کے نزدیک شفاعت کرے؟
توحید افعالی کا لازمہ یہ ہے کہ کائنات میں تمام امور اللہ تعالیٰ کی اجازت سے انجام پائیں،کوئی اس کا شریک اور برابر نہیں ہے اگر شفاعت بھی ہو تو اس کی اجازت اوراس کے حکم سے اور دوسری طرف چونکہ وہ ذات حکیم ہے لہٰذا اس کی اجازت بھی حکمت کی بنیاد پر انجام پائے گی اوروہ انہیں افراد کو شفاعت کی اجازت دے گا جن میں شفاعت کی صلاحیت ولیاقت ہو اور اپنے پیچھے کے تمام راستوں کواپنے اوپر بند نہ کیا ہو (دقّت کریں ) یہاں تک تو سارے مسائل میں اتفاق ہے، پھر اختلاف کہاں ہے ؟
اختلاف اس میں ہے کہ (غیر وہابی )علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص)سے ان چیزوں کے سلسلے میں تقاضا کرناجو خدا نے آپ کو عطا کی ہیں (یعنی مقام شفاعت) ایک مناسب اور اچھا کام ہے بلکہ اس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے اس کی تائید بھی کی ہے لیکن وہابی حضرات کہتے ہیں کہ اگر ان سے شفاعت کا تقاضا کیا تو کافر ،مشرک اور مباح ومہدورالدم والمال ہو جاؤ گے !!!
تو پھر کیا شفاعت باطل ہے ؟ نہیں،۔۔بلکہ تمام علماء اسلام کا اس کے جائز ہونے پر اتفاق ہے ۔
کیا  پیغمبر اسلام (ص)کو شفاعت کااختیار نہیں ہے ؟سبھی کہتے ہیں کہ یقیناً آپ کو یہ حق ہے ۔
تو پھر مشکل کہاں ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو حق شفاعت ہے لیکن ان سے طلب نہ کریں ورنہ کافر ہو جائیں گے، اس لئے کہ قرآن کہتا ہے اور عرب کے مشرکین بھی کہتے تھے کہ ہم بتوں کی پرستش اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ عند اللہ ہمارے شفیع ہو جائیں اور آپ کا کام بھی مشرکین عرب جیسا ہے (لہٰذا ان سے تقاضا ئے شفاعت نہ کریں )ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ تو بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے لیکن ہم پیغمبر اسلامؐ اور خاندان کی پرستش نہیں کرتے اور شفاعت کی درخواست کرنا، عبادت اور پرستش سے تعلق نہیں رکھتا ہے،وہ کہتے ہیں:جو ہم کہہ رہے ہیں وہی ہے،ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے تو خود گناہگاروں کو حکم دیا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) کے پاس جائیں اور ان سے اللہ کی بارگاہ میں استغفار اور شفاعت کا تقاضا کریں ۔تاکہ خدا  انہیں بخش دے:«’وَلَوْ أَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا أَنْفُسَھُمْ جَاؤکَ فَاسْتَغْفَرُو اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّاباً رَّحیِماً »۔(۲)
ترجمہ:اگر گناہکار انسان جس نے اپنے اوپر ظلم کیا (اور حکم خدا کی نافرمانی کی)آپ کے پاس آتے اور اللہ کی بارگاہ میں طلب مغفرت کرتے اور پیغمبر(ص) بھی ان کے لئے استغفار کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔
اس سے واضح جناب یعقوب(ع) کے واقعہ میں ملتا ہے کہ یعقوب(ع) کے بیٹوں نے جناب یوسف(ع)کے سلسلہ میں اپنی غلطی اور گناہ کا اعتراف کیا اور باپ سے اللہ کی بارگاہ میں استغفار اور (شفاعت )کا تقاضا کیا اور کہنے لگے :«یَاْ أَبَانَا اَسْتَغْفِرُلَنَا ذُنُوْبَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُلَکُمْ رَبِّیْ اِنَّه ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ»۔(۳)
ان لوگوں نے کہا : بابا ،پروردگار سے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کردیجئے ہم لوگ خطا کار ہیں (یعقوب- نے کہا بہت جلدی میں تم لوگوں کے لئے اپنے پروردگا سے بخشش کی دعا کروں گا وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
اس آیت میں جناب یعقوب- نے نہ صرف یہ کہ خدا کے نزدیک شفاعت کی درخواست سے انکار نہیں کیابلکہ اس کا خیر مقدم بھی کیاتو کیا ایک نبی خدا اپنے بیٹوں کو کفر و «شرک»کی دعوت دے رہا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورۂ بقرہ:۲۵۵۔
۲۔سورۂ نساء:۶۴۔
۳۔سورۂ یوسف:۹۷ ۔ ۹۸ ۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18