Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188670
Published : 27/7/2017 15:11

کیوں ولی فقیہ کو ولی امر مسلمین کہا جاتا ہے؟

چونکہ ولی فقیہ پیغبر(ص) اور آئمہ(ع) کا نائب اور جانشین ہے لہذا جس طرح ان ہستیوں کی ولایت سب انسانوں کو شامل تھی حتی وہ لوگ کہ جو ان کی ولایت کو قبول بھی نہیں کرتے تھے۔درحقیقت ان کو بھی شامل تھی۔ولی فقیہ بھی اسی طرح ولایت رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی نصب عام کے ذریعے سے منصوب من اللہ ہے۔


ولایت پورٹل:و اما الحوادث الواقعه فارجعوا الي رواه احاديثنا فانهم حجتي عليكم و انا حجه الله عليهم ( توقیع شریف امام زمانہ)
یہ بات مسلم ہے کہ ولایت و حق حاکمیت اللہ کے لئے ہے اور خداوندعالم نے یہ انبیاء اور آئمہ معصومین(ع) کو حق حاکمیت عطا کیا ہے اور امت کو بے سہارا نہیں چھوڑا ہے،یہ بات بھی عقلی اور نقلی ( روایات) دلائل سے ثابت ہے کہ مجتہدین جامع الشرائط  کو نصب عام کے ذریعے سے یہ منصب عطا ہوا ہے کہ آئمہ علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ جس میں بھی یہ شرائط موجود ہوں تم اپنے روزمرہ کے مسائل میں اس کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم اللہ کی طرف سے ان پر حجت ہیں۔
اس بنیاد پر ولی فقیہ کا عنوان فقہاء نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ آئمہ معصومین(ع) کی طرف سے دیا گیا ہے کہ جس طرح امام معصوم کے حکم پر عمل کرنا سب کے لئے ضروری ہے اسی طرح ولی فقیہ کے حکم کو ماننا سب کے لئے لازمی ہے کیونکہ ولی فقیہ کی بات اپنی رائے نہیں ہوتی بلکہ دین اور آئمہ علیہم السلام ہی کے حکم کا بیان ہوتا ہے۔
اب یہاں پر سوال  یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ (مسلمین) حکومت اسلامی سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں کیا ولی فقیہ کی ولایت ان کو بھی شامل ہے تاکہ اس کو ولی امر مسلمین کہا جا سکے یا فقط حکومت اسلامی کی قلمرو میں رہنے والوں پر ولایت رکھتے ہیں۔
چونکہ ولی فقیہ پیغبر(ص) اور آئمہ(ع) کا نائب اور جانشین ہے لہذا جس طرح ان ہستیوں کی ولایت سب انسانوں کو شامل تھی حتی وہ لوگ کہ جو ان کی ولایت کو قبول  بھی نہیں کرتے تھے۔درحقیقت ان کو بھی شامل تھی۔ولی فقیہ بھی اسی طرح ولایت رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی نصب عام کے ذریعے سے منصوب من اللہ ہے۔
اگر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے توحکم اسلامی کے اعتبار سے ولی فقیہ پوری دنیا کا نظام سنبھال سکتا ہے۔
اسلام کی نگاہ میں اسلامی حکومت، قلمرو اور اسلامی سرزمین کا ملاک ظاہری باڈرز نہیں بلکہ معیار عقیدے کا ایک ہونا ہے شیعہ اعتقادات کی روشنی میں دار الاسلام (تمام وہ انسان کہ جو اسلام کو قبول کرتے ہیں چاہے وہ جس  سرزمین پر زندگی بسر کر رہے ہوں) کی قیادت اور رہبری امام معصوم اور ان کے بعد ولی فقیہ کے پاس ہے۔
لہذا شیعہ آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کیونکہ ولی فقیہ نائب امام ہے اس بناء پر ولی فقیہ کو تمام مسلمانوں کی سرپرستی حاصل ہے اگرچہ بعض مشکلات کی وجہ سے یہ  ولایت پوری دنیا پر عملی نہ ہو سکے،لیکن حقیقت میں نظریہ انتصاب کی بناء پر اس کی ولایت سب کے لئے ہے اور وہ پوری امت مسلمہ کے ولی اور سرپرست ہیں اسی وجہ سے ان کو ولی امر مسلمین کہا جاتا ہے۔
منبع:اختیارات ولی فقیہ در خارج از مرزہا۔( آیت اللہ مصباح یزدی)




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13