Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188673
Published : 27/7/2017 15:51

وقت کی محدودیت امام صادق (علیہ السلام) کی نظر میں

آپ(ع) نے اس بصیرت افروز حدیث میں انسان کے وقت کی محدودیت واضح کردی ہے،جو وقت گزر گیا وہ اب ہمارے پاس نہیں ہے کہ اس میں جو تکلیف یا خوشی ہوئی تھی اس پر پریشان یا خوش رہیں، تو اس خوشی یا پریشانی کی سوچ میں وقت گزارنا، فضول ہے،جو وقت ابھی آیا نہیں، اس کے بارے میں حتی یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا اس وقت میں ہم زندہ ہوں گے یا نہیں، تو ابھی سے اس کے بارے میں خوش یا پریشان ہونا بیہودہ کام ہے،لہذا ہمارے پاس صرف«موجودہ وقت»ہے جس میں اللہ کی فرمانبرداری کی جاسکتی ہے اور ہر طرح کے گناہ سے پرہیز کیا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  ارشاد فرماتے ہیں:«اِصْبِرُوا على الدنيا فإنّما هِي ساعَةٌ، فما مَضى مِنهُ فلا تَجِدُ لَهُ ألَما و لا سُرُورا، و ما لَم يَجِئْ فلا تَدرِي ما هُو؟ و إنّما هي ساعَتُكَ التي أنتَ فيها، فاصبِرْ فيها على طاعَةِ اللّه ِ، و اصبِرْ فيها عن مَعصيَةِ اللّه»۔
ترجمہ:دنیا پر صبر کرو کیونکہ دنیا، ایک گھڑی ہے، جو کچھ دنیا میں سے گزر گیا ہے اس میں سے نہ کوئی تکلیف پاتے ہو اور نہ کوئی خوشی، اور جو ابھی نہیں آیا اس کے بارے میں تم نہیں جانتے کہ وہ کیسا ہوگا؟ اور تمہاری گھڑی صرف وہی ہے جس میں تم ہو، لہذا اس گھڑی میں اللہ کی اطاعت پر صبر کرو، اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنے پر صبر کرو۔( وسائل الشيعة، العلامة الشيخ محمد بن الحسن الحر العاملي، دار احياء التراث العربي بيروت – لبنانج۱، ص۳۴)
آپ(ع) نے اس بصیرت افروز حدیث میں انسان کے وقت کی محدودیت واضح کردی ہے،جو وقت گزر گیا وہ اب ہمارے پاس نہیں ہے کہ اس میں جو تکلیف یا خوشی ہوئی تھی اس پر پریشان یا خوش رہیں، تو اس خوشی یا پریشانی کی سوچ میں وقت گزارنا، فضول ہے،جو وقت ابھی آیا نہیں، اس کے بارے میں حتی یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا اس وقت میں ہم زندہ ہوں گے یا نہیں، تو ابھی سے اس کے بارے میں خوش یا پریشان ہونا بیہودہ کام ہے،لہذا ہمارے پاس صرف«موجودہ وقت»ہے جس میں اللہ کی فرمانبرداری کی جاسکتی ہے اور ہر طرح کے گناہ سے پرہیز کیا جاسکتا ہے۔

الاسوہ مرکز



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21