Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188677
Published : 27/7/2017 16:25

حضرت علی(ع) کی نظر میں عبادت اور عبادت گزار

حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں عبادت صرف چند خشک وبے روح اعمال کے انجام دینے کا نام نہیں ہے،جسمانی اعمال،عبادت کی صورت اور پیکر ہیں اور روح ومعنی ایک دوسری ہی چیز ہے،جسمانی اعمال اس وقت زندہ وجاندار اور حقیقی عبادت کہلانے کے مستحق ہیں جب وہ روحانیت ومعنویت کے ساتھ ہوں،حقیقی عبادت اس تکوینی دنیا سے ایک طرح کا خروج اور ایک دوسری دنیا میں قدم رکھنا ہے ایسی دنیا جو اپنے آپ میں جوش وولولہ ،قلبی کیفیات اور خاص لذتوں سے پر ہے۔


ولایت پورٹل:حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں عبادت صرف چند خشک وبے روح اعمال کے انجام دینے کا نام نہیں ہے،جسمانی اعمال،عبادت کی صورت اور پیکر ہیں اور روح ومعنی ایک دوسری ہی چیز ہے،جسمانی اعمال اس وقت زندہ وجاندار اور حقیقی عبادت کہلانے کے مستحق ہیں جب وہ روحانیت ومعنویت کے ساتھ ہوں،حقیقی عبادت اس تکوینی دنیا سے ایک طرح کا خروج اور ایک دوسری دنیا میں قدم رکھنا ہے ایسی دنیا جو اپنے آپ میں جوش وولولہ ،قلبی کیفیات اور خاص لذتوں سے پر ہے۔
نہج البلاغہ میں عرفاء اورعابدوں سے متعلق بہت زیادہ باتیں بیان ہوئی ہیں دوسرے لفظوں میں عبادت اور عبادت گزاروں کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے کبھی عابد و زاہد کی شب بیداری خوف وخشیت،شوق ولذت،سوز و گداز،آہ و زاری اور تلاوت قرآن کے رنگوں سے نقاشی اور تصویر کشی کی گئی ہے تو کبھی عبادت ومراقبہ اور جہاد نفس کے ذریعہ نصیب ہونے والی قلبی کیفیات اور غیبی عنایات کا بیان ہوا ہے کبھی گناہوں سے روکنے اور اس کے تاریک آثار کو محو کرنے  کے سلسلہ میں عبادت کے اثرات کو موضوع بحث قرار دیا گیا ہے تو کبھی عبادت کی وجہ سے بعض اخلاقی بیماریوں اور نفسیاتی الجھنوں کے علاج کی طرف اشارہ ہوا ہے اور کبھی عابد و زاہد اور سالکان راہ خدا کو میسر آنے والی خالص لذتوں اور مسرتوں نیز بلا شرکت غیرے الٰہی عنایتوں کو بیان کیا گیا ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17