Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188680
Published : 27/7/2017 16:45

بیداری اسلامی:

رہبر انقلاب کی نظر میں اسلامی اتحاد کی حقیقی تعریف

حبل اللہ سے تمسک ہر مسلمان کا فریضہ ہے لیکن صرف تمسک کا حکم دے کر قرآن خاموش نہیں ہوتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ«جَمِیعاً»یعنی سب لوگ مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں،یہ اجتماع اور اتحاد ایک دوسرا واجب فعل ہے،اس بناء پر سب کو مل کر حبل اللہ سے تمسک کرنا چاہیۓ۔


ولایت پورٹل:اسلامی اتحاد کا مطلب عقائد اور مذاہب اسلامی کا ایک ہوجانا نہیں ہے،ہر فرقہ کے پاس ان کے اپنے عقائد و کلام کا پورا میدان موجود ہے،فقہی اور کلامی بحثیں ہیں،لیکن فقہی کلامی اور عقیدہ کے اختلاف کو زندگی کے حقیقی اور سیاسی میدان پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیۓ،دنیائے اسلام کے اتحاد سے ہماری مراد یہ ہے کہ تنازعات اور جھگڑے نہ ہوں:«وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا»(تم آپس میں تنازعہ پیدانہ کرو ورنہ پھسل جاؤ گے) اندرون خانہ اختلافات نہ پیدا ہوں۔
دعوت قرآن
قرآن کہتا ہے کہ:«وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعاً وَّلَا تَفَرَّقُوْا»
حبل اللہ سے تمسک ہر مسلمان کا فریضہ ہے لیکن صرف تمسک کا حکم دے کر قرآن خاموش نہیں ہوتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ«جَمِیعاً»یعنی سب لوگ مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں،یہ اجتماع اور اتحاد ایک دوسرا واجب فعل ہے،اس بناء پر سب کو مل کر حبل اللہ سے تمسک کرنا چاہیۓ،چنانچہ قرآن کہتا ہے:«فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِاللِّٰه فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی»۔
قرآن مجید نے ہمیں تمسک کا طریقہ بتاتا ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ پر ایمان اور طاغوت سے انکار کریں،یہی تمسک کا حقیقی طریقہ ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19