Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188685
Published : 27/7/2017 17:36

کیسے کریں ضدّى بچوں کی تربیت؟(1)

دو سال کى عمر، شخصیت اور ارادے کے اظہار کى عمر ہے اور ضدّى پن ارادے کى پختگى اور خود اعتمادى کا بنیادى جوہر ہے بچے کى عقل اس عمر میں اتنى رشد یافتہ نہیں ہوتى کہ وہ اپنى خواہشات پر کنٹرول کرسکے اور ان کے نتائج کے بارے میں غور و فکر کرسکے،وہ سوچے سمجھے بغیر کسى کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کى خواہش کے مطابق عمل کیا جائے تا کہ اس کے وجود کا اظہار ہوسکے اور اس کى شخصیت نمایاں ہوسکے،اگر ماں باپ اس کى مخالفت کریں گے تو وہ گویا اس کى شخصیت کو مجروح کررہے ہیں،ممکن ہے وہ ایک پر سکون فرد بن جائے لیکن حیثیت اور ارادے سے عاری۔

ولایت پورٹل:سب بچوں میں کچھ نہ کچھ ضدى پن اور خود سرى ہوتى ہے خصوصاً دو سال کى عمر میں۔ضدى بچہ اصرار کرتا ہے کہ جو کچھ بھى اس کے دل میں آئے انجام دے اور کوئی اس کے راستے میں حائل نہ ہو، اگر وہ اپنى خواہش کے مطابق کام نہ کرسکے تو پھر وہ روتا ہے، چیختا چلاتا ہے تاکہ کوئی راہ نکمل آئے ،اپنے آپ کو زمین پرگھسیٹتا ہے، سر دیوار سے ٹکراتا ہے، شور مچاتا ہے غصہ کرتا ہے اور کھانا چھوڑدیتا ہے،برتن توڑتا ہے یہاں تک کہ کبھى ماں باپ یا بہن بھائی سے زد و کوب بھى کرتا ہے،اتنا شورمچاتا ہے کہ ماں باپ پر اس کو کامیابى حاصل ہوجائے اور وہ اپنا مقصد پالے، یہ بچپنے کى ایسى عادت ہے کہ کبھى تو نسبتاً بڑے بچوں میں بھى دیکھى دیتى ہے،اکثر ماں باپ بچوں کى اس عادت سے نالاں رہتے ہیں اور اس کاحل سوچتے رہتے ہیں،بچوں کے ضدى پن کے بارے میں ماں باپ عموماً ان دو طریقوں میں سے ایک اختیار کرتے ہیں:
پہلا طریقہ: بعض ماں باپ کا یہ نظریہ ہے کہ بچے کى ضد کے مقابلے میں سخت ردّ عمل کا مظاہرہ کیا جائے اور اس کى خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا جائے،ایسے ماں باپ کا کہنا ہے کہ یہ بچہ بہت خود سر اور ضدّى ہوچکا ہے،اس کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کىا جانا چاہیے تاکہ یہ اپنے ضدّى پن سے دستبردار ہوجائے، و کہتے ہیں کہ ہم اس بچے کو ایک انچ بھى اپنا زور چلانے کى اجازت نہیں دیں گے،وہ سختى، زور اور مار پیٹ کے ذریعے بچے کو روکتے ہیں اور اپنى خواہشات اس پر سوار کردتیے ہیں،یعنى در حقیقت وہ بچے کى ہٹ دھرمى کے جواب میں ہٹ دھرمى کا مظاہرہ کرتے ہیں، یہ طرز عمل درست نہیں ہے اگرچہ انہوں نے مارپیٹ اور زور کے ذریعہ بچے کو اس کى ضد سے پیچھے ہٹا دیا ہے اور خاموش کردیا ہے لیکن دوسرى طرف اس کى شخصیت پر بڑى کارہى ضرب لگائی ہے۔
دو سال کى عمر، شخصیت اور ارادے کے اظہار کى عمر ہے اور ضدّى پن ارادے کى پختگى اور خود اعتمادى کا بنیادى جوہر ہے بچے کى عقل اس عمر میں اتنى رشد یافتہ نہیں ہوتى کہ وہ اپنى خواہشات پر کنٹرول کرسکے اور ان کے نتائج کے بارے میں غور و فکر کرسکے،وہ سوچے سمجھے بغیر کسى کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کى خواہش کے مطابق عمل کیا جائے تا کہ اس کے وجود کا اظہار ہوسکے اور اس کى شخصیت نمایاں ہوسکے،اگر ماں باپ اس کى مخالفت کریں گے تو وہ گویا اس کى شخصیت کو مجروح کررہے ہیں،ممکن ہے وہ ایک پر سکون فرد بن جائے لیکن حیثیت اور ارادے سے عاری،جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی اس کى خواہش پورى نہیں کر رہا اور طاقت کے ذریعے اسے روکا جارہاہے تو وہ مایوس اور بدگمان ہوجاتا ہے،اضطراب اور پریشانى کى یہى حالت اس میں باقى رہتى ہے البتہ اس بات کا امکان بھى ہے کہ اپنى خواہشات کى شکست کا بدلہ لینے کے لیے وہ بڑا ہو کر خطرناک کاموں کا مرتکب ہو مثلاً قتل اور ظلم و غیرہ تا کہ اس ذریعہ سے وہ اپنے وجود کا اظہار کرسکے اور اپنى شخصیت منواسکے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

http://www.ibrahimamini.com/ur/node/2525


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21