Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188709
Published : 29/7/2017 18:0

امام علی رضا(ع) کی ایک فضیلت

امام علیہ السلام نے فرمایا:یہ عورت علی(ع) اور فاطمہ سلام اللہ علیہما کی جانب اپنی جھوٹی نسبت دے رہی ہے جبکہ یہ ان دونوں بزرگواروں کی نسل سے نہیں ہے،بے شک جو شخص بھی علی اور فاطمہ علیہماالسلام کی اولاد سے ہوتو درندوں پر اس کا خون اور گوشت حرام ہے اس کو درندوں کے تالاب میں ڈال دو اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچی ہوئی تو درندے اس کے نزدیک نہیں آئیں گے لیکن اگر یہ جھوٹی ہوئی تو درندے اس کو اپنا لقمہ بنالیں گے۔


ولایت پورٹل:خراسان میں زینب نامی ایک عورت رہتی تھی کہ جس  کا  یہ دعویٰ  تھا کہ وہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کی نسل سے ایک سیدانی ہے اور وہ اپنے  نسب کے ذریعہ تمام اہل خراسان پر فخر ومباہات کیا کرتی تھی پس امام علی رضا علیہ السلام نے اس کے بارے میں یہ سنا جب کہ آپ اس کے نسب کے بارے میں پہلے سے کچھ بھی نہیں جانتے تھے پس جب اس کو امام عالی مقام کی خدمت میں پیش کیا گیا تو   آپ نے اس کے فاطمی نسب ہونے کی تردید کی  اور فرمایا : یہ عورت جھوٹی ہے۔
اس نے آپ کی شان اقدس میں گستاخی کی اور کہا :جس طرح آپ  نے میرے نسب کے سبب مجھے طعنہ دیا میں بھی آپ کو طعنہ دیتی ہوں کہ آپ سید نہیں ہیں یہ سن کر آپ کی غیرت علوی  جوش میں آگئی،  آپ نے خراسان کے حاکم( چونکہ حاکم خراسان نے ایک وسیع جگہ پر زنجیروں میں بندھے چیرنے پھاڑنے والے درندے پالے ہوئے تھے تاکہ فساد پھیلانے والوں سے انتقام لیا جاسکے اور اس جگہ کو «برکۃ السباع» یعنی «درندوں کا تالاب» کہا جاتا تھا ) سے فرمایا: اس عورت کو درندوں کے تالاب میں بھیج دو تمہارے لئے سب کچھ واضح ہوجائے گا.
پس امام رضا علیہ السلام اس عورت کو لیکر  حاکم کے سامنےتشریف لے آئے اور فرمایا:یہ عورت علی(ع) اور فاطمہ سلام اللہ علیہما کی جانب اپنی جھوٹی نسبت دے رہی ہے جبکہ یہ ان دونوں بزرگواروں کی نسل سے نہیں ہے،بے شک جو شخص بھی علی اور فاطمہ علیہماالسلام کی اولاد سے ہوتو درندوں پر اس کا خون اور گوشت حرام ہے اس کو درندوں کے تالاب میں ڈال دو اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچی ہوئی تو درندے اس کے نزدیک نہیں آئیں گے لیکن اگر یہ جھوٹی ہوئی تو درندے اس کو اپنا لقمہ بنالیں گے۔
جب اس عورت نے امام(ع) کی زبانی یہ سنا تو کہا : پہلے آپ درندوں کے سامنے جائیں ،اگر آپؑ سچے ہوئے تو وہ آپؑ کے پاس بھی نہیں آئیں گے اور نہ ہی آپؑ کو لقمہ بنائیں گے، آپؑ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے آپؑ کو دیکھ کر اس حاکم نے کہا: آپؑ کہا جارہے ہیں ؟آپؑ نے ارشاد فرمایا : میں درندوں کے تالاب میں جارہا ہوں ، خدا کی قسم ! میں ان کے سامنے ضرور جاؤں گا۔
پس حاکم خراسان  اور اس کے حاشیہ نشین اور وہاں موجود سبھی لوگ اپنی جگہوں سے کھڑے ہوئے اور آکر  تالاب کا دروازہ کھولا پس امام داخل ہوئے اور لوگ تالاب کے اوپر سے یہ منظر دیکھ رہے تھے پس جیسے ہی آپ درندوں کے درمیان پہونچے تمام کے تمام درندے اپنی دمیں ہلاتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئے پس آپ ان میں سے ہر ایک کے پاس آتے اور اس کے منھ سر اور کمر پر ہاتھ پھیرتے تھے اور درندے اسی طرح اپنی دموں کو ہلاتے رہے یہاں تک کہ آپؑ نے سب کے ساتھ یہی عمل انجام دیا، پھر اس کے بعد نکل آئے اور لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے اور حاکم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اس علی و فاطمہ علیہماالسلام  کی جانب اپنی جھوٹی نسبت دینے والی کو ان درندوں کے سامنے بھیج دو  تاکہ تم پر اس کا جھوٹ آشکار ہوجائے۔اس نے درندوں کے سامنے جانے سے انکار کیا لیکن حاکم نے اس پر لازم قرار دیا کہ وہ ان کے سامنے جائے اور اپنے اعوان و انصار کو حکم دیا کہ وہ  اس عورت کو ان کے سامنے ڈال دیں   پس درندے اسے دیکھتے ہی اس پر جھپٹ پڑے اور اس کو اپنا شکار بنالیا ، اس کے بعد سے وہ عورت خراسان میں جھوٹی زینب کے نام سے مشہورہوگئی اور یہ واقعہ خراسان میں زبان زدہ خاص و عام  ہوگیا۔(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
( ) مطالب السؤول ج ۲ : ص ۶۶ ۔ ۶۸
زینب کذابہ کے واقعہ کو تنوخی نے اپنی کتاب«الفرج بعد الشدۃ»کے ص :۳۰۶ پر بڑے اختصار کے ساتھ رقم کیا ہے ، اور ابن حمزہ نے اپنی کتاب الثاقب فی المناقب کے ص:۵۴۶ پر اس واقعہ کو امام علی نقی علیہ السلام سے منسوب کرکے لکھاہے نیز کہتے ہیں:ابو عبداللہ خافظ نیشاپوری نے اس حدیث کو اپنی کتاب المفاخر میں نقل کیا ہے اور اس واقعہ کو امام ہادی علیہ السلام کے جد نامدار امام علی رضا علیہ السلام کی طرف نسبت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب امام رضا علیہ السلام مامون کے پاس تشریف لائے تو اس کے پاس زینب کذابہ نامی عورت موجود تھی کہ جس کا  گمان یہ تھا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی زینب ہے اور پھر حافظ نیشاپوری کہتے ہیں:میں یہ کہتا ہوں کہ اس طرح کے  واقعات  کا وقوع کئی اماموں کے دور میں ممکن ہے چونکہ اس میں کوئی ممانعت بھی نہیں پائی جاتی کہ ایک طرح کے واقعات مختلف زمانوں میں پیش آئیں.
ماخذ:کشف الغمۃ فی معرفۃ الآئمۃ
ترجمہ:سجاد ربانی

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19