Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188727
Published : 30/7/2017 16:0

کیسے کریں ضدّى بچوں کی تربیت؟(2)

جو بچہ ہمیشہ مطلق العنان رہا ہو، ضد سے اور شور شرابے سے اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا ہو، جس نے اپنے سامنے کسى کو ٹہرتے نہ دیکھا ہو،وہ رفتہ رفتہ اس طریقے کا عادى ہو جاتا ہے اور ایک خود غرض اور ڈکٹیڑبن جاتا ہے،اسے لوگوں سے توقع ہوتى ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کى خواہش پر عمل کریں اور اس کے طرز عمل اور کردار پر کوئی تنقید نہ کریں۔


ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ بچوں کی تریبت والدین کے لئے ایک نہایت سخت امتحان ہے،لیکن ضدی بچوں کی تربیت بہت ہی زیادہ سخت ہے،اکثر والدین ضدی بچوں کے حوالے سے کافی تشویش میں مبتلاء رہتے ہیں،اور ان کے لئے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا دشوار ہوجاتا ہے،جس کے سبب کبھی کبھی بچوں کو زد و کوب بھی کردیتے تھے لہذا یہ طریقہ تربیت کے حوالے سے بہت برا ہے،قارئین گذشتہ کالم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
کیسے کریں ضدّى بچوں کی تربیت؟(1)
گذشتہ سے پیوستہ:دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بعض تربیت کرنے والوں کا نظریہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے بچے کے دل کو راضى کرنا چاہیئے، اور اس کى خواہش کے مطابق عمل کرنا چاہیئے،اسے جازت دى جانا چاہیئے کہ جو کام وہ چاہے انجام دے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کى ضد اور اصرار کے سامنے تسلیم محض ہونا چاہیئے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بچہ ہے اسے آزادى ملنى چاہیئے جب بڑا ہوگا تو خودہى ضد اور بہانے بنانے چھوڑدے گا، یہ طریقہ بھى عیب سے خالى نہیں ہے۔
۱۔ بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو بڑے جانى یا مالى نقصان کے حامل ہوتے ہیں اورخود بچے کى یا دوسروں کى جان و مال کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں ایسے کاموں میں بچے کو آزادى دینا خلاف عقل اورخلاف وجدان ہے،ہوسکتا ہے دو تین سالہ بچہ بڑى سیڑھى کے ذریعے اوپرجانا چاہے کہ جس میں احتمال ہے وہ گر پڑے گا اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں، ممکن ہے وہ چاہے کہ ماچس سے خود گیس جلائے کہ جس میں امکان ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور پورے گھر کو جلادے ، ہوسکتا ہے وہ دوسروں کے اموال اور حقوق پر تجاوز کرنا چاہے یا دوسرے بچوں کو اذیت دینا چاہے،ایسے کاموں میں بچوں کو آزادى نہیں دى جا سکتى۔
۲۔جو بچہ ہمیشہ مطلق العنان رہا ہو، ضد سے اور شور شرابے سے اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا ہو، جس نے اپنے سامنے کسى کو ٹہرتے نہ دیکھا ہو،وہ رفتہ رفتہ اس طریقے کا عادى ہو جاتا ہے اور ایک خود غرض اور ڈکٹیڑبن جاتا ہے،اسے لوگوں سے توقع ہوتى ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کى خواہش پر عمل کریں اور اس کے طرز عمل اور کردار پر کوئی تنقید نہ کریں،اس نے بچپن میں اپنى خواہشات کے مقابلے میں کسى کو قیام کرتے نہیں دیکھا کہ وہ دوسروں کى خواہشات کا اعتناء کرے،اگر وہ دیکھے کہ زور و زیادتى سے اپنى خواہشات کو سیرات کرسکے اور اپنے مقصد کو پائے تو بہت خوش ہوتا ہے،لیکن زیادہ تر ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ دوسرے تیار نہیں ہوتے کہ اس کى ڈکٹیڑى کو برداشت کریں،اس لحاظ سے وہ معاشرے سے مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوجاتا ہے ہمیشہ آہ و زارى کرتا ہے،اپنے کو شکست خوردہ سمجھتا ہے۔
اسلام ہٹ دھرمى کو برى صفات میں سے شمار کرتا ہے اور اس کى مذّمت میں بہت سى حدیثیں وارد ہوئى ہیں، بطور مثال، حضر ت على علیہ السلام فرماتے ہیں:ہٹ دھرمى برائیوں کا سبب ہے۔(1)
ایک دوسرے مقام پر امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:ضدی پن عقل انسانى کوتباہ کردیتا ہے۔(2)
حضرت على علیہ السلام نے فرمایا:ہٹ دھرمى جنگ اور دشمنى کا باعث ہے۔(3)
حضرت على علیہ السلام نے ہى ارشاد فرمایا:ہٹ دھرمى کا نقصان انسان کى دنیا اور آخرت کے لیے سب سے زیادہ ہے۔(4)
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔غرر الحکم ، ص 16۔
2۔غرر الحکم ، ص 17۔
3۔غرر الحکم، ص 18۔
4۔غرر الحکم ، ص 104۔
http://www.ibrahimamini.com/ur/node/2525


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18