Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188804
Published : 2/8/2017 16:3

بیداری اسلامی:

رہبر انقلاب کی نظر میں مسلمانوں کی طاقت کا راز

عوامی طاقت کو پہچاننا ضروری ہے کیوں کہ یہ بہت بڑی طاقت ہے، اس طاقت کو میدان میں اتارنے کے لئے جرائت وہمت، عزم بالجزم، اخلاص پیہم اور جد و جہد ضروری ہے،اگر عوام میدان میں اتر آئیں اور ملک کے ذمہ دار اور سیاست مدار عوام سے نزدیک ہوجائیں تو ان کے مد مقابل کوئی طاقت نہیں آسکتی پھر ان پر کسی بھی دھمکی کا اثر نہیں ہوسکتا،البتہ جہاد اور سختی کے تحمل کے بغیر انسان کسی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔


ولایت پورٹل:اسلامی ممالک میں بسنے والے کروڑوں مسلمان ایک عظیم قدرت کے مالک ہیں،اگر اس طاقت کو فعال کردیا جائے تو پھر کوئی دوسری طاقت اس کے سامنے ٹھہرنے کی جرأت نہیں کرسکتی۔ اس کی واضح مثال رونما ہونے والا واقعہ ہے اور خداوند عالم نے ہم پر اپنی حجت تمام کردی ہے لبنان کا واقعہ اور تحریکحزب اللہ کی واضح کامیابی بھی اس کا بہترین نمونہ ہے۔یہاں خدا کی مدد اس کے شامل حال رہی اوروہ قرآنی آیت:«کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللہِ وَاللہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ»
ترجمہ:کتنے ایسے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر اللہ کے حکم سے غالب آگئے اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
۔کا حقیقی مصداق بن گئی۔ اس طرح ہم پر حجت تمام ہوگئی، البتہ دشمنان اسلام عوامی طاقت کو بے حقیقت سمجھتے ہیں،انہوں نے سیاسی افراد کو اپنی ملت کی طاقت سے ناواقف کر رکھا ہے،ہماری نظر میں ہمارے قائد امام خمینی کا یہ کمال تھا کہ انہوں نے عوامی طاقت کو پہچانا،اس کا انکشاف کیا،اس سے فائدہ اٹھایا اور لوگوں پر اعتماد بھی کیا۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے ایران کی حالت کچھ اچھی نہیں تھی، عوام اپنی ذمہ داری سے غافل اور دشمن ان پرحاوی تھے،ایران، اسرائیل کا اڈہ تھا، صہیونی حکومت کے بڑے بڑے سرکردہ افراد کی یہاں رفت و آمد تھی،وہ یہاں کھاتے پیتے تھے، سیاسی اور مالی استفادہ کرتے تھے، اس زمانہ میں بعض عرب ممالک نے یہ چاہا تھا کہ تیل کی دولت سے اسرائیل کے خلاف استفادہ کیا جائے لیکن صہیونیوں کو شاہ ایران نے حوصلہ بخشا اور کہا کہ ہم تمہیں تیل دیں گے،اس زمانہ میں ایران کی ایسی حالت تھی کہ جس کی امید کسی کو نہیں تھی لیکن ہمارے قائد اعلی اللہ مقامہ نے جس وقت ہمت سے کام لیا اور جدوجہد کا ارادہ کیا، اس وقت ان کے پاس عوامی طاقت کے سوا کوئی دوسری طاقت موجود نہ تھی، آپ نے اس توانائی کو پہچانا اور اسی پر بھروسہ کیا،خدا نے بھی ساتھ دیا جو فرماتا ہے:«مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمیٰ»(ائے پیغمبر! جو تیر پھینکے وہ آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے پھینکے)اس نے دلوں کو منقلب کردیا،جب لوگ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوئے تو میدان میں اتر آئے اور شاہ سے وابستہ طاغوتی طاقتوں کے قدم اکھڑ گئے،اس ملک میں اسلامی نظام کو سربلندی حاصل ہوئی،ہم دنیائے اسلام کے سب سے حسّاس خطہ میں چوراہے پر کھڑے ہیں،امریکہ اور استعماری طاقتوں کا سب سے زیادہ بھروسہ شاہ ایران پر تھا۔
عوامی طاقت کو پہچاننا ضروری ہے کیوں کہ یہ بہت بڑی طاقت ہے، اس طاقت کو میدان میں اتارنے کے لئے جرائت وہمت، عزم بالجزم، اخلاص پیہم اور جد و جہد ضروری ہے،اگر عوام میدان میں اتر آئیں اور ملک کے ذمہ دار اور سیاست مدار عوام سے نزدیک ہوجائیں تو ان کے مد مقابل کوئی طاقت نہیں آسکتی پھر ان پر کسی بھی دھمکی کا اثر نہیں ہوسکتا،البتہ جہاد اور سختی کے تحمل کے بغیر انسان کسی منزل تک نہیں پہنچ سکتا،امت اسلامی کو سختیاں جھیلنی پڑیںگی تب وہ اپنے مقصد تک پہنچ سکتی ہے،دنیائے اسلام میں آج یہ ہمارا بہت بڑا فریضہ ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11