Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188813
Published : 2/8/2017 17:36

بعض قرآنی آیات میں سجدہ واجب ہونے کی علت؟

غرض! یہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے کہ جو بھی حکم خدا کی نافرمانی کرے گا وہ قہر اور عذاب کا مستحق ہوگا اور جو اس کی اطاعت کرے گا اس کے احکام کے سامنے سر تسلم خم کرے گا اللہ کی رحمت واسعہ اسے اپنے حصار میں لے لے گی اور اللہ اس سے راضی رہے گا۔


ولایت پورٹل:آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید کی کچھ ایسی آیات ہیں کہ اگر ان کو پڑھا جائے یا کسی دوسرے سے سنا جائے تو سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔(1) ان آیات کو آیات عزائم(آیات سجدہ) اور جن سوروں میں یہ آیات موجود ہیں انہیں سُور عزائم کہتے ہیں ،اور خود آئمہ اطہار علیہم السلام نے ان روایات کو پیغمر اکرم(ص) سے اور سرکار نے خداوند عالم سے بیان کیا ہے،لہذا ان سوروں میں سجدہ کا حکم خود بارگاہ الہی سے آیا ہے اور ہم بندگی کے تقاضوں کا پورا کرتے ہوئے اس حکم کو مانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔
دوسری جانب  ان آیات میں سجدے کا حکم بصورت فعل امر آیا ہے کہ جو عربی گرامر کے اعتبار سے کسی کام کے فوری اور تکمیل کا مطالبہ کرتا ہے،چونکہ جب کوئی انسان کسی ایک حکم کو کسی بزرگ سے سنتا ہے تو اس کا انجام دینا اپنے اوپر فرض سمجھتا ہے،اور اسے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ کام اہم ہے لہذا اسے فوری طور پر انجام دیا جائے۔
لہذا بطریق اولیٰ  جب خالق کائنات اور مدبر دو جہاں کسی فعل کا حکم دے تو بندوں پر لازم و واجب ہے کہ اس پر عمل کریں،لیکن اگر ہم ان آیات کے سیاق و سباق پر نظر دوڑائیں اور غور کریں تو ممکن ہے ہم ان سوروں میں موجود واجبی سجدوں کی بعض حکمت کو درک کرسکیں۔ عام طور پر وہ تمام سورے جن میں سجدہ کرنا واجب قرار دیا گیا ہے،ان میں زمین و آسمان و انسان کی خلقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،مثلاً خداوند عالم نے انسان کو تخلیق کی مختلف کیفیات سے گذارنے کے بعد خود کا مبارکباد دی ہے:« فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ»۔(2) اللہ کی ذات نہایت ہی بابرکت ہے کہ جو تمام پیدا کرنے والوں سے بہتر  و برتر ہے وغیرہ۔
لہذا اس آیت یا جیسی دیگر آیات کے سیاق و سباق میں غور کرنے سے انسان خداوند عالم کی لازوال قدرت کا احساس کرتا ہے،اور اس کی تدبیر کو تمام نظام ہستی میں جاری و ساری دیکھتا ہے،تمام موجودات کو اسی سے وابستہ پاتا ہے،اور تمام چیزوں کی بازگشت کو بھی اسی کی طرف ملاحظہ کرتا ہے، لہذا وہ اپنے کو حقیر و پست پاتا ہے اور وہ اس غنی مطلق کے سامنے اپنے پورے وجود کے ساتھ جبیں سائی پر تیار ہوجاتا ۔
چونکہ یہ سورے(سور عزائم) مکہ کی شرک آلود فضا میں نازل ہوئے تھے کہ جہاں کے باشندے خود ساختہ خداؤوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے،اگرچہ بعض مشرکین خداوند عالم کو خالق تو مانتے تھے لیکن اسے اپنا پالنہار(رب) تسلیم نہیں کرتے تھے،چنانچہ کہتے تھے:خداوند عالم نے تدبیر کائنات کے لئے کچھ دیگر ذرائع قرار دیئے ہیں اور ہم ان ذرائع اور شفیعوں کی پرستش کرکے کے اپنے کو خدا سے نزدیک کررہے ہیں۔
خداوندعالم نے اس غلط فکر پر خط بطلان کھینچنے کے بعد خالقیت و ربوبیت کو اپنے سے مختص ہونے کا اعلان عام کیا اور اپنی ہی ذات کو لائق عبادت ہونے  کے طور پر پہچنوایا،لہذا عملاً معاشرے سے شرک کے خاتمے کے لئے اس نے سجدے کا حکم دیا،تاکہ اس کے بندے یہ کام کرکے اس کا تقرب حاصل کریں اور روح توحید و عبادت کو معاشرے میں زندہ کریں۔
چنانچہ خداوندعالم نے ان سوروں اور ان کے علاوہ دیگر سوروں میں لوگوں کو اپنی مخلوقات و  آیات میں تدبر و غور اور خوض کی دعوت دی ہے تاکہ توہمات و تخیلات کی دنیا سے نکل کر منظر حقیقت نظارہ کریں،اور تعصب و جہالت کو چھوڑ کر حق کا راستہ اختیار کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کا پیدا کرنے والا اور ان کا پالنہار ایک ہی ہے،تو پھر وہ اس کے علاوہ کسی اور کو نظر میں نہ لائیں گے اور نہ ہی کسی کو اپنی مدد کے لئے پکاریں گے۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام(ص) نے مسجد الحرام میں سورہ نجم کی اس آیت (آیہ سجدہ) تلاوت فرمائی تو لہجہ رسول(ص) نے حاضرین کے دل و دماغ میں عجب تاثیر ایجاد کی ،اور سب سننے والے (کافر و مؤمن) سجدے میں گرگئے،صرف ولید بن مغیرہ ایک ایسا شخص تھا جو کسی پریشانی کے سبب جھک نہ سکا تو اس نے ایک مٹھی خاک اٹھا کر اپنی پیشانی اس پر رکھ دی۔(3)
خداوندعالم کے حضور سجدہ کی ایک حکمت یہ ہے کہ تکبر کو انسان کے وجود سے ختم کردیتا ہے،چونکہ جو شخص اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے سب سے اشرف و اعلیٰ حصہ کو خاک پر ٹیکتا ہے،اور یہ امر انسان کے اخلاص و تواضع کی اعلٰی نشانی ہے،وہ در حقیقت اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ خداوندعالم کی جانب سے جو بھی حکم آئے میں اس کے سامنے سراپا تسلیم ہوں اور بغیر چوں و چرا کے اسے انجام دینے کے لئے آمادہ ہوں، لیکن اگر کسی کے وجود میں تکبر جیسی شرارت ہو تو وہ ہمیشہ  نافرمانی پر آمادہ رہتا ہے جیسا کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام  کے سامنے حکم خدا کے باوجود سجدہ کرنے سے انکار کردیا،جس کے سبب اسے بارگاہ الہی سے نکال دیا گیا اور مستحق عذاب قرار پایا،لیکن اس کے برخلاف فرشتوں نے حکم خدا کی اطاعت کی اور وہ مقرب بارگاہ احدیت رہے۔
غرض! یہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے کہ جو بھی حکم خدا کی نافرمانی کرے گا وہ قہر اور عذاب کا مستحق ہوگا اور جو اس کی اطاعت کرے گا اس کے احکام کے سامنے سر تسلم خم کرے گا اللہ کی رحمت واسعہ اسے اپنے حصار میں لے لے گی اور اللہ اس سے راضی رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1]صدوق، خصال، ترجمه آيت الله كمره اي، تهران، انتشارات كتابچي، چاپ چهارم، 1376 قمري، ج1، ص231.
[2]مؤمنون/ 14.
[3]مكارم شيرازي، ناصر، تفسير نمونه، تهران، انتشارات دارالكتب الاسلاميه، چاپ نهم، 1371، ج22، ص576.

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15