Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188817
Published : 2/8/2017 18:59

امام رضا (ع)ناخدائے کشتی تشیع

عام طور پر تمام آئمہ علیہم السلام کی زندگی کا وہ مشترک پہلو جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور جس کو صحیح طورپر تبیین اور تشریح نہیں کیا گیا وہ ان ذوات مقدسہ کا سیاسی موقف ہے،چونکہ قرن اول ہجری کی پانچویں دھائی سے باقاعدہ طور پر خلافت بے راہ روی کا شکار ہوگئی اور دامن آمریت و شہنشاہیت میں سکونت اختیار کی،اور افسوس صد افسوس اسلامی امامت و زعامت جابر و ظالم بادشاہت میں تبدیل ہوگئی،لہذا ہر معصوم نے اپنے زمانے کے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اپنے سیاسی موقف کو تشدید کیا اور اس عظیم سیاسی حرکت کی پشت پر اسلامی نظام اور ایسی حکومت کی تشکیل مقصد رہی کہ جس کی زمام امام معصوم کے ہاتھ میں ہو۔


ولایت پورٹل:
ہم سب سے پہلے اس امر کے معترف ہیں کہ آئمہ طاہرین(ع) کی زندگی ابھی بھی صحیح طور پر غیر معروف ہے یہانتک کہ خود شیعوں کے یہاں بھی ان تمام فضائل و مناقب کے باوجود ان ذوات کی زندگی کے بہت سے گوشے تشنہ تعارف ہیں،اگرچہ ہزاروں کتابیں ،مجلے، ویب سائٹس پر بہت سے مقالات موجود ہیں ہیں لیکن پھر بھی ان حضرات کی زندگی سے ہم نا آشنا ہیں،خصوصاً ۲۵۰ سال کا وہ عظیم دور جو ان ہستیوں نے حکام جور کے مقابل گذارا،اگرچہ اس میں بہت سے مغرض سیاستدانوں اور کج فہم محققین کی نادانیاں رہیں ہیں،لہذا ہمیں ضرورت ہے کہ ہم آئمہ طاہرین کی حیات طیبہ کے مختلف شعبوں کی نقاب کشائی کریں،تاکہ ہمارا دامن تحقیق گلہائے علم و دانش سے بے بہرا نہ رہے۔
آٹھویں امام،حضرت علی رضا علیہ السلام کی تقریباً ۲۰ برس کی زندگی میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جن میں بہت ہی تحقیق و تدقیق کی ضرورت ہے۔
عام طور پر تمام آئمہ علیہم السلام کی زندگی کا وہ مشترک پہلو جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور جس کو صحیح طورپر تبیین اور تشریح نہیں کیا گیا وہ ان ذوات مقدسہ کا سیاسی موقف ہے،چونکہ قرن اول ہجری کی پانچویں دھائی سے باقاعدہ طور پر خلافت بے راہ روی کا شکار ہوگئی اور دامن آمریت و شہنشاہیت میں سکونت اختیار کی،اور افسوس صد افسوس اسلامی امامت و زعامت جابر و ظالم بادشاہت میں تبدیل ہوگئی،لہذا ہر معصوم نے اپنے زمانے کے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اپنے سیاسی موقف کو تشدید کیا  اور اس عظیم سیاسی حرکت کی پشت پر اسلامی نظام اور ایسی حکومت کی تشکیل مقصد رہی کہ جس کی زمام امام معصوم کے ہاتھ میں ہو۔
اگرچہ اہل بیت(ع) کا دین کی صحیح طور پر تفسیر و تشریح ،اور کج فہمیوں کو دور کرنا،معارف و تعلیمات شریعت کو لوگوں تک پہونچانا بھی اہل بیت(ع) کے جہاد کا ایک عظیم مقصد تھا،لیکن قرائن کے پیش نظر اہل بیت(ع) کے مقاصد کو صرف ان چند چیزوں میں محدود نہیں کیا جاسکتا،بلکہ ان ذوات کا سب سے بڑا مقصد ایک عادل حکومت کی تشکیل تھی،آئمہ طاہرین(ع) اور ان کے باوفا اصحاب کی زندگی میں سب سے زیادہ صعوبتیں،دشواریاں اسی مقصد کے حصول کے لئے تھیں۔
آئمہ طاہرین (ع) نے ان سخت حالات میں کشتی تشیع کو گرداب حوادث سے نکال کر ساحل نجات تک پہونچایا۔
اب امام رضا علیہ السلام کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سب سے اہم آپ کی ولی عہدی کا مسئلہ تھا،اگر دقیق طور پر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مامون عباسی نے جب اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اب اس کی توجہ کا مرکز شیعوں کی طرف سے اٹھنے والی وہ تحریکیں تھیں جو کسی نہ کسی طور پر آل محمد(ص) کے حق کی لڑائی،تھی اس نے یہ عظیم حربہ استعمال کیا اور اگر وہ اپنی اس سازش میں کامیاب ہوجاتا تو شاید شیعیت کو سب سے بڑا نقصان پہونچانے والا ہوتا چونکہ اس نے امام رضا کے لئے جو جال بچھایا وہ ظاہر میں بہت خوشنما تھا ،لیکن الہی بصیرت کے ذریعہ امام علیہ السلام نے اس کے ارادوں کے محل کو زمین بوس کردیا:مکروا مکر اللہ واللہ خیر الماکرین۔
چونکہ جو کام طول تاریخ میں کوئی خلیفہ نہ کرسکا وہ مامون کرنا چاہتا تھا،وہ تھا امام معصوم(ع) کو اپنا تابع بنانا،چونکہ اس کام کے لئے،یعنی آئمہ سے بیعت لینے کے لئے سابق خلفاء نے بہت زور لگائے آخر وہ سب ناکام ہوگئے،لہذا امام نے ولی عہدی قبول کرنے کی وہ شرائط رکھیں کہ خود مامون حواس باختہ ہوگیا،اور وہ امام کو محصور کرنے پر مجبور ہوگیا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16