Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188827
Published : 3/8/2017 15:42

امام علی رضا(ع) معروف سنی عالم ابن طلحہ شافعی کی زبانی

ان میں سے پہلی فضیلت کہ جس کو اللہ نے آپؑ سے مختص کیا ہے اور جو آپؑ کےعظیم المرتبت اور بلند شان و شوکت پر شاہد ہے وہ یہ ہے کہ جب خلیفہ مامون نے آپؑ کو اپنا ولی عہد بنایا اور اپنے بعد اپنا جانشین مقرر کیا تو اس وقت مامون کے حاشیہ نشینوں میں بعض ایسے افراد بھی تھے کہ جنہیں یہ امرنہایت ہی ناگوار گذرا اور انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں خلافت بنی عباس سے نکل کر بنی فاطمہ سلام اللہ علیہم کی طرف نہ پلٹ جائے پس اسی بناء پر ان لوگوں کو آنحضرتؑ سے نفرت و حسد پیدا ہوگیا تھا۔


ولایت پورٹل:کمال الدین ابن طلحہ رقمطراز ہیں کہ امیرالمؤمنین علیؑ اور زین العابدین علیؑ کے بعد علی رضا علیہ السلام آئمہ میں   تیسرے علی ہیں،اور اگر  کوئی ان( امام رضا علیہ السلام) کے سلسلہ میں دقیق نظر و فکر اور جد و جہد سے کام لے تو  درحقیقت  یہ علی( امام رضا علیہ السلام) ان دونوں علی( امیرالمؤمنین علی، علی ابن الحسینؑ) کے حقیقی  وارث ہیں تو وہ باآسانی یہ حکم لگائے گا کہ یہ ( امام رضا) تیسرے علی ہیں  کہ جن کا ایمان پختہ،جن کی شان بلند، جن کا مقام بالا، جن کے امکانات  وسیع،ان کے اعوان و انصار زیادہ ہیں اور ان کی دلیل و برہان اتنی ظاہر ہے کہ خلیفہ مامون نے آپؑ کو اپنی مسند پر جگہ دی  اور آپؑ کو اپنی مملکت میں شریک کیا اور امر خلافت کی باگ ڈور آپؑ کے حوالہ کی اور اس نے  شاہدوں  کی ایک بڑی جماعت کی موجودگی میں اپنی بیٹی کا عقد آپؑ کے ساتھ کیا، آپؑ کے مناقب و فضائل بلند ہیں اور آپؑ کی صفات شریفہ بالا و اعلیٰ ہیں آپؑ کی کرامتیں سب پر عیاں،آپؑ کے محاسن لائق تعریف اور آپؑ کا اخلاق عربی اور آپؑ کا نفس شریف،ہاشمی اور آپؑ کا شریف نسب نبیؐ سے ملتا  ہے اور آپؑ کے فضل و شرف میں جو کچھ بھی کہا جائے آپؑ  ان سب سے بہت بلند و بالا ہیں  اور ان کے مناقب کی جتنی بھی تفصیل بیان کی جائے آپؑ  ان سب سے مرتبہ میں اعلیٰ ہیں۔   
آپؑ کی ولادت باسعادت: آپؑ  ۱۱ ذی الحجہ  ۱۵۳ ہجری میں اپنے جدّ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے ۵ برس بعد پیدا ہوئے۔
ماں اور باپ کی جانب سے آپؑ کا نسب : آپؑ کے والد گرامی امام ابوالحسن موسیٰ کاظم ابن امام جعفر صادق علیہماالسلام تھے ، ان  بزرگوں کے سلسلہ میں  پہلے گفتگو ہوچکی ہے اور آپؑ کی والدہ ایک کنیز تھیں کہ جن کو  خیزران مرسیہ  کہا جاتا تھا جبکہ ایک قول یہ ہے کہ ان کو شقراء نوبية   کہا جاتاتھا اور ان کا اصل نام ارویٰ   اور لقب شقراء تھا  ۔
آپؑ کا اسم شریف : آپؑ کا نام نامی علیؑ ہے  اور آپؑ امیرالمؤمنین علیؑ اور علی ابن الحسین زین العابدینؑ کے بعد تیسرے علیؑ ہیں ۔
آپؑ کی کنیت : آپؑ کی کنیت ابوالحسنؑ ہے ۔
آپؑ کے القاب : آپؑ کے القاب رضا ، صابر ، رضی ، وفی ہیں  اور ان سب میں رضا سب سے زیادہ مشہور ہے ۔
آپؑ کے فضائل اور صفات : ان میں سے پہلی فضیلت کہ جس کو اللہ نے آپؑ سے مختص کیا ہے  اور جو  آپؑ  کےعظیم المرتبت اور بلند شان و شوکت  پر شاہد ہے وہ یہ ہے کہ جب خلیفہ مامون نے آپؑ کو  اپنا ولی عہد بنایا اور اپنے بعد اپنا جانشین مقرر کیا تو  اس وقت  مامون کے حاشیہ نشینوں میں بعض  ایسے افراد بھی تھے کہ جنہیں یہ  امرنہایت ہی ناگوار گذرا اور انہیں  یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں خلافت بنی عباس سے نکل کر بنی فاطمہ سلام اللہ علیہم کی طرف نہ پلٹ جائے پس اسی بناء پر ان  لوگوں کو  آنحضرتؑ سے نفرت و حسد  پیدا ہوگیا تھا ، امام رضا علیہ السلام کی عادت یہ تھی کہ جب آپؑ مامون کے گھر تشریف لےجاتے تو اس کے گھر کی چوکھٹ پر بیٹھا اس کا ایک  حاشیہ نشین آپ ؑ کو بڑھ کر  سلام کرتا اورآپؑ کے  سامنے پڑا پردہ  اٹھادیتا تھا  تاکہ آپؑ  گھر کے اندر داخل ہوسکیں ۔
جب آپ ؑ کے تئیں ان کے دل میں نفرت پیدا  ہوگئی تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا : کہ جب آپؑ خلیفہ کے پاس ملنے کے لئے اندر داخل ہوں تو تم لوگ  ان کی جانب مطلقاً توجہ نہ دینا  اور ان کے لئے پردہ نہ اٹھانا آخر کار اس امر پر ان لوگوں کا اتفاق ہوگیا  پس ابھی یہ لوگ وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں اپنے سابق معمول کی طرح امام رضا علیہ السلام تشریف لائے پس وہ  آپؑ کو دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہ پاسکے اور انہوں نے  آپؑ کی خدمت میں سلام کیا   اور اپنی سابقہ عادت کے مطابق سامنے سے پردہ اٹھادیا ، پس جب آپؑ اندر تشریف لے گئے تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف رخ کیا  اور ایک دوسرے کو سرزنش و ملامت کی کہ انہوں نے اس  فیصلہ پر عمل نہیں کیا کہ جس پر ان سب نے اتفاق کیا تھا تو انہوں نے جواب میں کہا:کہ وہ  جب اگلی مرتبہ آئیں گے تو ہم ان کے واسطے پردہ نہیں اٹھائے گے۔
پس جب اگلا ( مقررہ )دن آیا اور آپؑ تشریف لائے تو وہ سب آپؑ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور آپؑ کو سلام کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی  پردہ  اٹھانے کے لئے آگے نہیں بڑھا ، پس اللہ نے ایک شدید ہوا  کو بھیجا  اور وہ  پردہ کے اندر داخل ہوگئی اور پردہ کو اس درجہ اوپر اٹھایا کہ جتنا وہ خدام بھی نہیں اٹھاتے تھے پردہ اٹھا اور آپ اندر تشریف لے گئے اور ہوا رک گئی اور پردہ اپنی اصل جگہ پلٹ گیا ، پس جب آپؑ نے دروازہ سے نکلنے کا ارادہ کیا پھر اسی طرح شدید ہوا چلی اور پردہ میں داخل ہوگئی اور اس کو اوپر اٹھادیا یہاں تک کہ آپؑ تشریف لے گئے پھر ہوا رک گئی اور پردہ اپنی اصل حالت پر لوٹ آیا۔
جب آپؑ تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: کیا تم نے یہ منظر دیکھا؟
تو اس نے ان  سب سے کہا:اے میرے دوستوں ! اللہ کے نزدیک اس شخص کی بڑی منزلت ہے اور ان پر اللہ کی خاص عنایت ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب تم لوگوں نے پردہ نہیں اٹھایا تو اللہ نے ان کے لئے ہوا کو بھیجا اور ان کے سامنے سے پردہ اٹھانے کے لئے ہوا کو ان کے لئے اسی طرح مسخر کیا  جیسا کہ سلیمان نبیؑ کے لئے مسخر کیا تھا  تم سب ان کی خدمت  میں پلٹ  جاؤ چونکہ وہ تمہارے حق میں سب سے زیادہ  خیر خواہ اور بھلائی کرنے والے  ہیں پس یہ سب اپنے کئے پر پشیمان ہوکر امامؑ کی خدمت میں لوٹ آئے اور آپؑ کے بارے میں ان کا عقیدہ مزید مستحکم ہوگیا۔

منبع: کشف الغمۃ فی معرفۃ الآئمۃ،شیخ عیسی اربیلی رحمہ اللہ
ترجمہ: سجاد ربانی
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16