Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188942
Published : 9/8/2017 17:8

باطنی نعمت اور امام زمانہ(عج)

راوی نے امام موسی بن جعفر علیہ السلام سےاس الہی کلام(وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ) کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ظاہری نعمت سے مراد ظاہری امام ہیں اورباطنی نعمت سےمراد امام غائب ہیں۔


ولایت پورٹل:قرآن مجید سورہ مبارکہ لقمان کی آیت نمبر۲۰میں فرماتا ہے:«أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ»۔
ترجمہ:کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اورجوکچھ زمین میں ہے اللہ نے تمہارے لئے مسخرکیا ہے اورتم پراپنی ظاہری اورباطنی نعمتیں کامل کردی ہیں اور(اس کے باوجود) کچھ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں حالانکہ ان کےپاس نہ علم ہے اورنہ ہدایت اور نہ کوئی روشن کتاب۔(۱)
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وسیع اوربہت زیادہ(أسبَغ) ہیں،لوگوں کے اختیارمیں ہیں(علیکم) اور مختلف قسموں کی ہیں(ظاھرۃ وباطنۃ)،اس آیت میں دو قسم کی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،ظاہری نعمت جیسے سلامتی،رزق وروزی اورزیبائی وغیرہ اورباطنی نعمت جیسے ایمان، معرفت،ا طمینان،اچھا اخلاق، غیبی امداد،علم، فطرت اور ولایت وغیرہ ہے۔
محمد بن زیاد ازدی نے کہا ہے کہ میں نے موسی بن جعفرعلیہ السلام سےاس الہی کلام(«وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ) کے بارے میں پوچھا تو آپ نےفرمایا: ظاہری نعمت،ظاہری امام اورباطنی نعمت، امام غائب ہیں،میں نے عرض کیا کہ کیا ائمہ اطہارعلیہم السلام کے درمیان کوئی ایسا امام ہےکہ جو غائب ہو جائے؟ توآپ علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں وہ خود تو لوگوں کی نظروں سےغائب ہوجائیں گے لیکن مؤمنین کے دلوں سے ان کی یاد غائب نہیں ہوگی،وہ ہمارے بارہویں امام ہیں،اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہرمشکل مسئلے کو آسان اور ہر دشوارمسئلے کو ہموارکردے گا اور ان کے لئے زمین کے خزانے ظاہرکردے گا اور ہر دور چیز کو ان کے قریب کردے گا اوران کے توسط سے تمام جابردشمنوں کو تباہ وبرباد کردے گا اوران کے توسط سے ہرسرکش شیطان کو ہلاک کردے گا،وہ کنیزوں کی سردار کے بیٹے ہیں، جن کی ولادت لوگوں سے مخفی اوران کا نام لینا مناسب نہیں ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی انہیں ظاہر کرے گا اور زمین کو عدل وانصاف سے بھردے جس طرح کہ وہ پہلے ظلم وستم سے بھرچکی ہوگی۔(۲)
.......................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، ج2، ص 389۔
۲۔محسن قرائتی کی کتاب( پرتوی از آیہ ھای مہدوی) سے اقتباس۔

شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21