Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188967
Published : 10/8/2017 17:37

رضوی قیام کی ایک جھلک

امام علیہ السلام کی پوری کوشش یہ تھی کہ لوگوں کی بے نظم زندگی کو منسجم کریں،اور دنیا پر توجہ کے ساتھ ساتھ انھیں نیک اعمال کی طرف راغب کریں،امام کا سلسلہ تبلیغ صرف مسلمانوں تک ہی نہیں بلکہ یہودی،عیسائی،دہریہ اور ستارہ پرستوں تک بھی پھیلا ہوا تھا کہ جس کے سبب نہ جانے کتنے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔


ولایت پورٹل:جب تک ہارون زندہ رہا اسے امام رضا(ع) تک پہونچنے کی ہمت نہ ہوئی،کیونکہ آپ کے زمانے  میں شیعیوں کی طرف سے متعدد قیام نمودار ہوئے جو لوگوں میں بیداری کی لہر پیدا کر رہے تھے لہذا ہارون کی توجہ اپنی سلطنت کے حالات کو رام کرنے میں گذر گئے،غرض یہ دور امام علیہ السلام اور علویوں کے لئے مناسب موقع تھا،امام رضا علیہ السلام  چونکہ جانتے تھے کہ اس وقت ہارون کن مجبوریوں سے روبرو ہے لہذا آپ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے اصلی مقصد یعنی لوگوں کو دین اسلام سے روشناس کرانا اور لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینا وغیرہ میں مصروف ہوگئے اور آپ نے جوانوں اور نوجوانوں کی فکری پرورش کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اسی لئے لوگوں کو اصل اسلام اور اصل تشیع سے آگاہ کرنے کے لئے ایک پوری نسل کو آنے والے دنوں کے لئے تیار کیا۔
امام علیہ السلام کی پوری کوشش یہ تھی کہ لوگوں کی بے نظم زندگی کو منسجم کریں،اور دنیا پر توجہ کے ساتھ ساتھ انھیں نیک اعمال کی طرف راغب کریں،امام کا سلسلہ تبلیغ صرف مسلمانوں تک ہی نہیں بلکہ یہودی،عیسائی،دہریہ اور ستارہ پرستوں تک بھی پھیلا ہوا تھا کہ جس کے سبب نہ جانے کتنے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔
آپ نے مختلف مذاہب اور فرقوں کی طرف سے اٹھنے والے سوالات و شبہات کا جواب دینے کے ذریعہ یہ کوشش فرمائی کہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21