Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188983
Published : 12/8/2017 17:1

اصحاب حسینی (ع) جیسے ہی ہونگے امام زمانہ(عج) کے اصحاب

اسی طرح امام زمانہ(عج) کے اصحاب کے سلسلہ میں نقل ہوا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: «مُجِدُّون في طاعة الله؛وہ اللہ کی اطاعت کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے،اور مولائے متقیان ان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:«رجال لا ينامونَ اليل لهم روي في صلواتهم كروي النحل يبيتون قياماً علي أطرافهم و يسبحون علي خير لهم؛مہدی(عج) کے اصحاب ایسے شب زندہ دار ہوں گے کہ جن کی راتوں کی عبادت کے زمزمہ شہد کی مکھیوں کے نغموں کی طرح کانوں میں رس گھولتے ہونگے،وہ راتوں کو شب بیداری کرنے والے ہونگے اور دنوں میں گھوڑوں کی پشتوں پر بھی تسبیح خدا سے غافل نہیں ہونگے۔


ولایت پورٹل:زمانہ غیبت میں امام عصر(عج) کے ظہور کا انتظار کرنے والوں کے لئے کچھ ایسے عملی نمونوں کا تعارف ضروری ہے کہ جو اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے امام وقت کی نصرت کے لئے بھی تیار ہوں،جو عملی میدان میں اپنے امام کی امیدوں پر کھرے اترے ہوں،اپنے امام پر جانثار کرسکتے ہوں،لہذا طول تاریخ میں ہمیں امام حسین علیہ السلام کے باوفا اصحاب کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نظر نہیں آتا جن میں مذکورہ تمام صفات ایک ساتھ پائی جائیں!
ایسے باوفا اصحاب جنہوں نے امام کی ہر جگہ نصرت کی ہو اور جن کا مقام درک کرنے سے عقل بشری عاجز رہ جائے،ایسے بزرگ اصحاب کہ جن کے لئے خود امام حسین(ع) نے ارشاد فرمایا:«فَإني لا أعلمُ أصحاباً أوفي و لا خيراً  من أصحابي...» میں اپنے اصحاب سے بہتر و افضل کسی دوسرے کے اصحاب کو نہیں پاتا۔در حقیقت امام حسین(ع) کے باوفا اصحاب نے انسانیت کے سامنے نصرت امام کے جو معیار رکھے ان پر عمل کرکے ہم اپنے کو تیار کرسکتے ہیں تاکہ عالمی انقلاب میں  اپنے کو حضرت کی  خدمت میں پہونچا سکیں۔
الف)معرفت و محبت
محبت ،محب اور محبوب کے درمیان ایک قلبی کیفیت کا نام ہے کہ جس کا اثر محب کے اعمال و کردار پر بخوبی ظاہر ہوتا ہے،وہی محبت پایدار ہوسکتی ہے کہ جس کی بنیاد معرفت ہو،چونکہ جتنی محبوب کی معرفت زیادہ ہوگی محب کے دل میں محبت عمیق تر ہوتی چلی جائے گی۔
وہ محبت کہ جو آئمہ معصومین(ع) کے منظور نظر ہے وہ کوئی سطحی محبت نہیں بلکہ ایک خاص محبت ہے کہ جس کی توصیف احادیث اور دعاؤں میں ملتی ہے۔
اس امت کی ہمیشہ مشکل یہ رہی ہے کہ ان کے سامنے اللہ کی حجتیں موجود تھیں لیکن انہوں نے ان کی کوئی قدر نہ جانی،ان کے پاس بصیرت و آگاہی کا فقدان تھا،جبکہ امام حسین کے باوفا اصحاب کے پاس وہ عمیق معرفت تھی کہ وہ اپنی زندگی کو موت پر ترجیح دیتے تھے جیسا کہ امام حسین کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں:«الحمدالله الذي شرفنا بالقتل معك و لو كانت الدنيا باقيه و كنا فيها مخلدين لاثرنا المحفوظ معك علي الإقامة فيها»تمام حمد اس پروردگار کے لئے ہے کہ جس نے ہمیں یہ شرف عطا فرمایا کہ ہم آپ کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوں،اور اگر ہمیں یہ دنیاوی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عطا کردی جائے تب بھی ہم آپ کے ساتھ قتل ہونے کو ایسی زندگی پر ترجیح دیں گے۔
چنانچہ تاریخ میں آیا ہے کہ جب امام حسین(ع) دو محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے اور آپ نے اپنے اصحاب کے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس میں کربلا میں پیش آنے والے مختصر حالات سے تمام لوگوں کو آگاہ فرمایا،اسی دوران جناب بریر اپنی جگہ سے اٹھےاور کہا:«يابن رسول الله صلي الله عليه و آله وسلّم! لقد منّ الله بك علينا أن نقاتل بين يديك نقطع فيك أعضائنا ثم يكون جدك شفيعنا يوم القيامة»؛
اے رسول خدا کے فرزند! اللہ تبارک تعالٰی نے آپ کے وجود کی برکت سے ہم پر احسان فرمایا تاکہ ہم آپ کے رکاب میں رہ کر اللہ کے دشمنوں سے جنگ کریں اور ہمیں پرواہ نہیں کہ اس راستے میں چاہے ہمارے اعضاء ہمارے جسم سے جدا ہوجائیں،پس ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کے جد روز قیامت ہمارے شفیع قرار پائیں.
چنانچہ امام زمانہ(عج) کے اصحاب اور ان کا انتظار کرنے والوں کو بھی اپنے اندر ایسی صفات پیدا کرنا چاہیے تاکہ جب وقت آئے تو ہم اپنے امام سے شرمندہ نہ ہوں،حضرت امام سجاد(ع) امام مہدی(عج) کے اصحاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:«القائلين بأمامَتِه؛امام مہدی (عج) آپ کی امامت پر خلوص دل سے عقیدہ رکھنے والے ہوں گے،اور امام صادق(ع) فرماتے ہیں:يحفون به و يقونه بأنفسهم في الحرب حضرت کے اصحاب ایسے فداکار ہونگے کہ وہ جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں حضرت کو اپنے حصار میں رکھ کر حفاظت کریں گے۔
ب)زہد
آئمہ علیہم السلام  حصوصاً امام حسین(ع) کے اصحاب دنیا سے بے رغبت تھے،لہذا حقیقی منتظر وہی ہے کہ جو اس دنیا اور اس کی لذات کو کوئی اہمیت نہ دے۔  
ج)اللہ سے راز و نیاز
ابو مخنف سے نقل ہوا ہے کہ روز عاشورا جب جنگ اپنے شباب پر تھی ابو ثمامہ امام حسین(ع) کے قریب آئے اور عرض کیا:فرزند رسول!میں اپنی آخری نماز کو آپ کی اقتداء میں پڑھنا چاہتا ہوں،حضرت نے ان کے جواب میں فرمایا:«ذكرت الصلاة جعلك الله من المصلين الذاكرين» ابو ثمامہ تم نے نماز یاد دلائی،خدا تمہیں نماز پڑھنے اور ذکر کرنے والوں میں قرار دے۔
اسی طرح امام زمانہ(عج) کے اصحاب کے سلسلہ میں نقل ہوا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: «مُجِدُّون في طاعة الله؛وہ اللہ کی اطاعت کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے،اور مولائے متقیان ان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:«رجال لا ينامونَ اليل لهم روي في صلواتهم كروي النحل يبيتون قياماً علي أطرافهم و يسبحون علي خير لهم؛مہدی(عج) کے اصحاب ایسے شب زندہ دار ہوں گے کہ جن کی راتوں کی عبادت کے زمزمہ شہد کی مکھیوں کے نغموں کی طرح کانوں میں رس گھولتے ہونگے،وہ راتوں کو شب بیداری کرنے والے ہونگے اور دنوں میں گھوڑوں کی پشتوں پر بھی تسبیح خدا سے غافل نہیں ہونگے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21