Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188987
Published : 12/8/2017 18:36

نہج البلاغہ کا ایک سبق:

نہج البلاغہ اور مسئلہ حکومت(3)

جب رعایا قوانین حکومت کی وفادار ہوگی اور حاکم رعایا کے حقوق سے عہدہ برآ ہو رہاہوگا اس وقت عوامی زندگی میں حق کا بال بالا ہوسکتا ہے اور ارکان دین محکم واستوار ہوسکتے ہیں اس کے بعد عدل وانصاف صحیح طور سے نمایاں ہوسکتا ہے اور اس وقت انبیاء کی سنتیں اپنے ڈھرّے پر چل نکلیں گی، زمانہ مین سدھار کا ظہور ہوگا اور آپس میں دوستانہ ماحول پیدا ہوجائے گا اور اس وقت ایسی حکومت سے دشمنوں کی آرزوئیں یاس و ناامیدی میں بدل جائیں گی۔


ولایت پورٹل:حضرت علی علیہ السلام نے بھی خدا کے نمائندوں کی طرح ایسی ہر حکومت و ریاست کی سخت مذمت اور تحقیر فرمائی ہے جس کا مقصد جاہ طلبی اور انسانوں پر حکمرانی کی ہوس رہی ہو،آپ کی نظر میں ان مقاصد کے زیر نظر تشکیل پانے والی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ ایسی ہی حکومت کو اس کے سارے زرق و برق کے باوجود سور کی اس ہڈی سے زیادہ پست تعبیر کیا ہے جو کسی مجذوم کے ہاتھ میں ہو۔
لیکن اگر یہی حکومت و ریاست اپنے حقیقی و اصلی محور ومرکز پر ہو یعنی اس کے ذریعہ معاشرہ میں عدالت کو رواج دیا جارہا ہو ،حق کا بول بالا ہورہا ہو اور معاشرہ کی خدمت کی جارہی ہو تو ایسی حکومت حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں نہایت مقدس ہے اور آپ کی یہی کوشش تھی کہ ایسی حکومت ان حریف و رقیب اور مفاد پرست وفرصت طلب افراد تک نہ پہنچنے پائے،آپ نے ایسی حکومت کی بقا وحفاظت اور سرکشوں کی سرکوبی کے لئے تلوار اٹھانے سے دریغ نہیں فرمایا۔
حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں ابن عباس حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے،حضرت علی علیہ السلام اس وقت اپنی بوسیدہ نعلین میں ٹانکے لگا رہے تھے،حضرت(ع) نے ابن عباس سے پوچھا: ائے ابن عباس! یہ بتائو ہماری اس نعلین کی کیا قیمت ہے؟ ابن عباس نے کہا ،کوئی قیمت نہیں !آپ نے فرمایا میری نظر میں یہ نعلین تم لوگوں پر کی جانے والی حکومت سے بہتر ہے،مگر یہ کہ میں اس حکومت کے ذریعہ عدالت کا اجرا کرسکوں ،حق صاحب حق کو دلاسکوں اور باطل کو نابودکرسکوں۔
حقوق کے سلسلہ میں کلی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حقوق ہمیشہ دوطرفہ ہوتے ہیں ،منجملہ حقوق اللہ ۔حقوق کو اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ ہر حق دوسرے حق کے مقابل قرار پاتا ہے ۔ہر وہ حق کہ جو انفرادی یا اجتماعی منفعت کا حامل ہوتا ہے وہ دوسرے حق کو وجود بخشتا ہے کہ جس کے بجا لانے پر انسان مجبور ہوتا ہے ہر حق اس وقت واجب ہوجاتا ہے کہ جب دوسرا (انسان) بھی ان حقوق کو جو اس کی گردن پر ہیں ادا کرے:«وَاَعْظَمُ مَاافْتَرَضَ سُبْحَانُہٗ مِنْ تِلْکَ الْحُقُوْقِ حَقُّ الْوَالِیْ عَلٰی الرَّعِیَّۃِ وَحَقُّ الرَّعِیَّۃِ عَلَی الْوَالِی فَرِیْضَۃٌ فَرَضَھَااللّٰہُ سُبْحَانَہٗ لِکُلٍ عَلٰی کُلِّ، فَجَعَلَہَا نِظَامًا لِاُلْفَتِہِمْ وَ عِزًّا لِدِیْنِہِمْ فَلَیْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِیَّۃُ اِلَّابِصَلَاحِ الْوُلَاۃِ وَلَا تَصْلُحُ الْوُلَاۃُ اِلَّا بِاسْتِقَامَۃِ الرَّعِیَّۃِ فَاِذَا اَدَّتِ الرَّعِیَّۃُ اِلیٰ الْوَالِی حَقَّہٗ وَاَدّیٰ الْوَالِی اِلَی اِلَیْہَا حَقَّہَا عَزَّ الْحَقُّ بَیْنَہُمْ وَقَامَتْ مَنَاہِجُ الدِّیْنِ وَ اعْتَدَلَتْ مَعَالِمُ الْعَدْلِ وَ جَرَتْ عَلٰی اَذْلَالِہَا السُّنَنُ فَصَلَحَ بِذَالِکَ الزَّمَانُ وَ طُمِعَ فِیْ بَقَائِ الدَّوْلَۃِ وَ یَئِسَتْ مَطَامِعُ الْاَعْدَاء»
ان حقوق میں سب سے اہم حق جسے خداوند عالم نے ایک دوسرے پر واجب کیا ہے وہ حکمراں کا حق رعایا پر اور رعایا کا حق حکمراں پر ہے۔
خداوندکریم نے انسانی برادری کے لحاظ سے ہر فرد پر ایک دوسرے کے حق کو فریضہ بناکر عاید کیا ہے اور اسے باہمی محبت اور مذہبی برتری اور سماجی واجتماعی روابط کا ذریعہ قرار دیا ہے،عوام کبھی خیر وصلاح سے بہرہ مند نہیں ہوسکتی جب تک ان کی حکومت صحیح نہ ہو اور حکومتیں اس وقت تک اپنے کو نہیں سدھار سکتیں جب تک عوام کا جذبۂ حمایت و پامردی اسے حاصل نہ ہو۔
جب رعایا قوانین حکومت کی وفادار ہوگی اور حاکم رعایا کے حقوق سے عہدہ برآ ہو رہاہوگا اس وقت عوامی زندگی میں حق کا بال بالا ہوسکتا ہے اور ارکان دین محکم واستوار ہوسکتے ہیں اس کے بعد عدل وانصاف صحیح طور سے نمایاں ہوسکتا ہے اور اس وقت انبیاء کی سنتیں اپنے ڈھرّے پر چل نکلیں گی، زمانہ مین سدھار کا ظہور ہوگا اور آپس میں دوستانہ ماحول پیدا ہوجائے گا اور اس وقت ایسی حکومت سے دشمنوں کی آرزوئیں یاس و ناامیدی میں بدل جائیں گی۔
 



 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15