Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188991
Published : 12/8/2017 18:23

مظلوم افغانستان بڑی طاقتوں کی رقابت و مداخلت کا میدان

واضح رہے کہ افغانستان میں اشتراکی فوجی بغاوت کے ساتھ طرح طرح کی مجاہدین جماعتیں بھی ابھر کر سامنے آگئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں بڑی مغربی سرمایہ دارانہ طاقتوں کی مداخلت کے لئے زمین ہموار اور ماحول سازگار ہوگیا۔


ولایت پورٹل:افغانستان دنیا کے مفلس وپسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک ہے،گذشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے یہ ملک مشرقی ومغربی بڑی طاقتوں کی رقابت کا میدان بناہوا ہے اور اس ملک کے مظلوم عوام وحشیانہ بیرونی حملات کا نشانہ بنے ہوئے ہیں،اس ملک کے لاکھوں فوجی و غیر فوجی افراد جن میں مرد و عورت اور بوڑھے وبچے سبھی شامل ہیں یا آوارہ وطنی وبے سر و سامانی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں یا پھرموت کے گھاٹ لگائے جاچکے ہیں۔
اس ملک کے مفکرین وماہرین دنیا کے دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں اور افغانی عوام ان دانشوروں کی خدمت وقیادت سے پوری طرح محروم ہیں،اس ملک کے عوام فقط تعلیم وتربیت،صحت وسلامتی اور ہرقسم کے سیاسی اور اقتصادی حقوق سے ہی نہیں بلکہ بنیادی طور پر حق حیات سے بھی پوری طرح محروم ہوچکے ہیں،گذشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے اس ملک کے خلاف کی جانے والی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے افغانی عوام آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں سے بھی خوفزدہ رہنے لگے ہیں کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ستارہ نہیں بلکہ بم ہو جو ان بے وفاع لوگوں کو نیست ونابود کرڈالے،یہاں کے پہاڑی اور میدانی علاقوں اور کھیتوں میں اناج کی کھیتی کے بجائے دھماکہ خیز بارودی سرنگوں کا جال بچھادیا گیا ہے جو آنے والے وقت میں بھی افغانی عوام کی تباہی و بربادی کا باعث ہوں گی،پس یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اس طویل مدت کے دوران افغانستان میں آسمان سے خطروں کی بارش ہورہی تھی اور یہاں کی زمین خوف ودہشت اگل رہی تھی۔
ایسے تاریک ومایوس کن ماحول میں دنیا کی نگاہیں اس ملک کے مستقبل پرلگی ہوئی ہیں اور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے حالات میں رونما ہو نے والی حالیہ تبدیلی اور نئی حکومت کی تشکیل سے امید کی صبح نمودار ہوجائے اور اس سرزمین کے مظلوم وستم رسیدہ لوگوں کو بھی اچھے اور درخشاں مستقبل کی خوشخبری حاصل ہوجائے۔
درحقیقت یہ تباہی و بربادی دنیا کے کمزور و پسماندہ ملکوں کے عوام کی قسمت کے فیصلے میں بیرونی بالخصوص دنیا کی بڑی طاقتوں کی مداخلت کا نتیجہ ہے،انسانی تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے بے شمار لوگ انسان کی ذاتی یا جماعتی وسعت پسندی اور بسیارطلبی کا شکار بنتے چلے آرہیں ہیں اور افغانستان اس منحوس دیو کی ظالمانہ راہ وروش کا شکار بننے والا پہلا اور آخری ملک نہیں ہے،دنیائے بشریت گذشتہ ایک صدی کے دوران دوتباہ کن عالمی جنگوں کو جھیل چکی ہے، چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے والے ملکوں نے تنظیم اقوام متحدہ کا منشور ترتیب دیا اور اس تنظیم کی تشکیل کے ذریعہ دنیا والوں کو ایک روشن مستقبل کا امیدوار بنادیا،تنظیم اقوام متحدہ کے منشور کے مقدمہ میں جو ۲۴؍اکتوبر ۱۹۴۵ء کو تمام ممبر ملکوں کی حمایت سے منظور اور نافذ ہوا اس میں نہایت واضح لفظوں میں یہ کہا گیا ہے:
ہم اقوام متحدہ کے جملہ اراکین نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ چوں کہ ہماری زندگی کے دوران رونما ہونے والی دوعالمی جنگوں میں دنیائے بشریت کو مختلف النوع مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے لہٰذا ہم آئندہ نسل کو جنگ کے مصائب سے محفوظ رکھیں گے۔
ہم انسان کے بنیادی حقوق، عـزت و آبرو، مرد و عورت کے مساوی حقوق اور دنیا کی چھوٹی و بڑی قوموں کے درمیان مساوات اور برابری پرزور دیںگے،ہم ایسے حالات پیدا کریں گے جس میں عدالت اور تمام بین الاقوامی معاہدوں اور قرار دادوں کا بھرپور احترام کیا جائے گا،ہم انسان کی سماجی ترقی کی زمین ہموار کریں گے تاکہ بہتر معیاروں کے ساتھ انسانی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل ہوسکے،ان اغراض ومقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہم تمام ممبر ملکوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تحمل وبرد باری سے کام لیتے ہوئے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ صلح آمیز زندگی بسر کریں گےاورصلح وسلامتی کے قیام و دوام کی ظاہر ہم آپسی تعاون کی تقویت میں سرگرم رہیں گے۔
بنیادی اصولوں کو قبول کرتے ہوئے اور اپنی راہ و روش کو ان بنیادی اصولوں کا پیرو قرار دیتے ہوئے ہم ممبر ممالک یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ فوجی طاقت کا سہارانہ لیتے ہوئے مشترکہ مفاد و منافع کی حفاظت کریں گے اور دنیا کے تمام لوگوں کے سماجی و اقتصادی حالات کی ترقی کی ترویج کے لئے تمام بین الاقوامی وسائل وامکانات کا بھرپور استعمال کریں گے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں بالخصوص بڑی طاقتوں نے ان وعدوں پر عمل نہیں کیا بلکہ عالمی سلامتی کاؤنسل کے بعض دائمی ممبر ملکوں نےجو اقوام متحدہ منشور کی دفعہ۔۷۰ کے مطابق عالمی صلح و سلامتی کے محافظ ہیں عالمی سطح پر صلح وسلامتی کے قیام و دوام کی کوشش نہیں کی اور اپنی راہ روش کو اس عالمی تنظیم کا پیرو نہیں بنایا،صرف اتنا ہی نہیں بلکہ منشورنے ان دائمی ممبروں کوVeto Powerنامی جو خصوصی قانونی حق دیا تھا اسے ان ملکوں نے اپنی وسعت طلبانہ خواہشات کی تکمیل اور عالمی سطح پر اپنا غیر قانونی رعب و دبدبہ قائم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
افغانستان کی گذشتہ بیس سالہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اقتصادی،ثقافتی اور سماجی اعتبار سے پسماندہ ملک میں بھی جس کی عالمی اور آزاد بحری راہوں تک کوئی رسائی نہیں ہے،بڑی طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت عالمی صلح و سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔۱۹۷۸ء میں جب محمد تَرکی نے سوویت یونین کی بھر پور حمایت کے ساتھ افغانستان جیسے غریب اور غیر صنعتی ملک میں اشتراکی بغاوت کا سلسلہ شروع کیا تو اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کے آقا کی وسعت پسندی اور اقتدار طلبی آئندہ سال تک افغانی عوام کی تباہی وبربادی اور قتل وغار تگری کا باعث ہوجائے گی دیکھتے ہی دیکھتے سوویت یونین کاشیرازہ منتشر ہوجائے گا اور خود حملہ آوروں کی قربانی کا سبب بن جائے گا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں اشتراکی فوجی بغاوت کے ساتھ طرح طرح کی مجاہدین جماعتیں بھی ابھر کر سامنے آگئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں بڑی مغربی سرمایہ دارانہ طاقتوں کی مداخلت کے لئے زمین ہموار اور ماحول سازگار ہوگیا۔
۱۹۹۰ء میں تَرکی کے ہاتھوں افغانی عوام کے وسیع قتل عام کے باوجود حالات بہتر نہ ہوئے،حفیظ اللہ امین نے تَرکی کے قتل کے بعد اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھالی،اسی سال دسمبرکے مہینے میں افغانستان میں روسی فوج کی آمد کے ساتھ اس ملک میں بیرونی اور بڑی طاقت کی براہ راست فوجی مداخلت کا سلسلہ جاری ہوگیا،دوسری طرف تنظیم القاعدہ( جس کے خلاف آج امریکہ غیر معمولی زمینی اور ہوائی جنگ میں سرگرم ہے) کے مجاہدین امریکی وسائل وامکانات کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے مختلف علاقوں سے افغانستان لائے گئے تھے تاکہ وہ روسی حملہ آوروں کو اس سرزمین سے باہر نکال سکیں۔
شاید اس وقت امریکہ القاعدہ سے وابستہ جنگجو جوانوں کو آلۂ کار کی حیثیت سے استعمال کرتے ہوئے اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور مکمل تسلط قائم کرنے کی فکر میں سرگرداں تھا کیونکہ ایران میں شاہی حکومت کی نابودی اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کی وجہ سے اس علاقے میں امریکی اثر و رسوخ محدود ہوگئے تھے،بہرحال دس سال کی لگاتار مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے افغانستان پر مسلط روسی کٹھ پتلی حکومت کی چولیں ہل گئیں اور حکومت کی باگ ڈور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے لگی،حفیظ سے کارمل اور کارمل سے نجیب اللہ نے افغانی حکومت کی باغ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھالی، لیکن ان میں سے کوئی بھی افغانی حکمراں مشرقی بڑی طاقت کے منصوبوں اور ارمانوں کو پورا نہ کرسکا،آخر کار سوویت یونین کو افغانستان پر اپنے دس سالہ غاصبانہ تسلط کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور ہزاروں فوجیوں کے قتل کے بعد روسی فوج کو ۱۵فروری ۱۹۸۹ء کو شرمناک شکست کے ساتھ افغانستان کی سرحدوں سے ہاہر نکلنا پڑا اور۱۵اپریل ۱۹۹۲ء کو مجاہدین نے کابل کو اپنے قبضے میں لے لیا،مغربی بالخصوص امریکی حمایت کے سایہ میں افغانی مجاہدوں نے بیرونی حملہ آوروں کو تونکال دیا لیکن افغانی مجاہدوں کی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات کی وجہ سے باہمی قتل وغارتگری کا سلسلہ جاری ہوگیا اور سرزمین افغانستان میں صلح وسلامتی کی فضابحال نہ ہوسکی۔
ایسے حالات میں مغربی اور بعض علاقائی ملکوں کی بھرپور حمایت کے ساتھ افغانستان میں صلح وسلامتی قائم کرنے کے لئے۱۹۹۴ء میں طالبان اس ملک کے سیاسی میدان میں داخل ہوئے تاکہ نہایت آسانی کے ساتھ اس علاقے میں گیس پائپ لائن بچھائی جاسکے اور وسطی ایشیا کے معدنی ذخائر یعنی گیس اور دیگر اشیاء کو اس علاقے میں منتقل کیا جاسکے،۲سال کی مسلسل جنگ وخونریزی کے بعد ۱۹۹۶ء میں طالبان نے کابل پر قبضہ جمالیا،اپنی کم مدت حکومت کے دوران افغانستان کے اکثر بڑے علاقے پر قابض ہوگئے اور مزار شریف نامی بڑے افغانی شہر پر اپنے وحشیانہ حملوں کے دوران طالبانی فوج نے اس شہر میں واقع اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفارتی مشن پر دھاوا بول دیا اور نہایت بے رحمی کے ساتھ سفار تخانہ کی عمارت کے تہہ خانے میں تمام ایرانی سفارت کاروں نیز ایک ایرانی صحافی کو بھی قتل کرڈالا۔
جماعت طالبان نے اپنی چند سالہ حکومت کے دوران ایرانی سفارت کاروں کے قاتلوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی چارہ جوئی کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔
اگرچہ آج بھی امریکہ کایہ دعویٰ دنیاکی کسی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکا کہ نیویارک میں عالمی تجارتی مرکز اورپنٹاگن کی عمارتوں پر جو جو دھماکہ خیز حملے ہوئے ہیں وہ طالبانی خودکش افراد نے کئے ہیں یا ان حملوں میں طالبان ملوث تھے نیز یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ان حملوں میں طالبان کس حد تک شریک رہے ہیں لیکن یہ بات ایک مسلم الثبوت حقیقت کی طرح ابھر کر سامنے آچکی ہے کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت چاہے وہ دنیا کے دورافتادہ اور پسماندہ ترین ملک میں ہی کیوں نہ کی گئی ہو،عالمی صلح وسلامتی کے لئے بہت بڑا اور مہلک خطرہ بن سکتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بنیادی اصول و آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس میں اقوام عالم کے درمیان عدالت و مساوات کے قیام اور دوملکوں کے درمیان اختلاف کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی بات کہی گئی ہے،آج کی بعض بڑی طاقتوں نے بین الاقوامی روابط پر فوجی ماحول کو مسلط کردیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے صلح دوست افراد و عوام بے حد پریشان ہیں۔
ایسے افسردہ ماحول میں بارگاہ عالیۂ خداوندی سے امید ہے کہ وہ ملت اسلامیہ افغانستان کو خوشحالی اور اقوام عالم کو حقیقی صلح وسلامتی عطافرمائے اور بین الاقوامی روابط کے سلسلے میں مہلک طاقتوں کو نہیں بلکہ عقل ومنطق اور عدالت و سعادت کو بالا دستی حاصل ہوجائے۔
آمین

پروفیسرسید اختر مہدی رضوی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21