Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189003
Published : 13/8/2017 16:5

فکر قرآنی:

نعمت اور امتحان؟

پس اے انسان! تو صرف نعمت کو ہی دیکھتا ہے اور امتحان کو نظر انداز کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حب دنیا اور اس کی لذتوں کی خواہش نے ہمارے پورے وجود پر قبضہ کررکھا ہے،ہم یتیم کا مال بھی ناحق کھاجاتے ہیں،مسکین کو بھوکے رہنا پڑتا ہے،ان کے مال و میراث کو فنا کردیا جاتا ہے،اور تو اور ہم دوسروں کو مساکین کو کھانا کھلانے کی تشویق بھی نہیں کرتے،لہذا تمام مشکلات کی جڑ یہ دنیا کی محبت ہے۔


ولایت پورٹل:جب ہم کسی کے پاس اللہ کی نعمات اور لذات کی فراوانی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمارے ذھن میں یہ سوال آتا ہے کہ اس شخص پر اللہ بہت مہربان ہے،اسے بہت چاہتا اور پسند کرتا ہے اسی وجہ سے اسے نعمتوں میں غرق کررکھا ہے،اور وہ شخص خود بھی یہی کہتا ہے کہ اللہ کی نوازش ہے،لیکن جب کسی نادار اور غریب انسان کہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا،جس کی زندگی سختیوں اور مشکلات کا مرقعہ ہوتی ہے،اس سے جب یہ سوال کرتے ہیں تو بے ساختہ اس کی زبان پر یہ جملہ آجاتا ہے:جناب کیا کریں بس جو اللہ کو منظور؟
اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون صحیح کہہ رہا ہے اور کون غلط؟کیا کسی کو نعمتیں مل جانا امتحان کا ذریعہ ہے،اور اصل چیز امتحان اور آزمایش ہے؟یا ایسا نہیں بلکہ ہر نمعت میں کوئی نہ کوئی امتحان چھپا ہوتا ہے لہذا دوسرے انسان کو نعمتوں کی فراوانی تو نظر آتی ہے لیکن اس تہہ میں موجود امتحان و آزمایش دکھائی نہیں دیتا،پھر کیا فرق ہے اس شخص کے درمیان کہ جو یہ کہتا ہے کہ:«خدا نے مجھے نعمتوں سے نواز کر میری تکریم کی ہے» اور اس شخص کے درمیان جو یہ کہتا ہے:«خدا نے مجھے نعمت نہ دیکر میری توہین کی ہے»؟
شاید اس کا جواب یہی ہے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے،چونکہ دونوں کی فکر غلط ہے یہ اصل حقیقت سے غافل ہیں ،ان کا سب سے بڑا ہم و غم صرف «نعمتیں»ہیں۔
لہذا جو اس نگاہ کے ساتھ نعمتوں کا مشاہدہ کرے گا اس کی نظر میں نعمتوں کا ملنا کرامت و عزت اور نہ ملنا توہین و بے احترامی ہی ہوگا،لیکن اگر ہم قرآن مجید کے سورہ فجر کی ان آیات میں تدبر کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ نعمت منظور خدا نہیں ہے بلکہ جو چیز اہم ہے وہ امتحان،ابتلاء اور آزمایش ہے،اگر نعمت اہم ہوئی تو اس کا ملنا اکرام و عزت جبکہ نہ ملنا توہین شمار کیا جائے گا لیکن اگر امتحان و آزمایش اہم ہوا تو نعمت کا ملنا یا نہ ملنا کوئی معنی نہیں رکھتا لہذا ارشاد ہوتا ہے: َأَمَّا الْإِنْسانُ إِذا مَا ابْتَلاهُ رَبُّهُ فَأَکْرَمَهُ وَ نَعَّمَهُ فَیَقُولُ رَبِّی أَکْرَمَنِ (15) وَ أَمَّا إِذا مَا ابْتَلاهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهُ فَیَقُولُ رَبِّی أَهانَنِ (16) کَلاَّ بَلْ لا تُکْرِمُونَ الْیَتیمَ (17) وَ لا تَحَاضُّونَ عَلى‏ طَعامِ الْمِسْکینِ (18) وَ تَأْکُلُونَ التُّراثَ أَکْلاً لَمًّا (19) وَ تُحِبُّونَ الْمالَ حُبًّا جَمًّا (20)
پس اے انسان! تو صرف نعمت کو ہی دیکھتا ہے اور امتحان کو نظر انداز کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حب دنیا اور اس کی لذتوں کی خواہش نے ہمارے پورے وجود پر قبضہ کررکھا ہے،ہم یتیم کا مال بھی ناحق کھاجاتے ہیں،مسکین کو بھوکے رہنا پڑتا ہے،ان کے مال و میراث کو فنا کردیا جاتا ہے،اور تو اور ہم دوسروں کو مساکین کو کھانا کھلانے کی تشویق بھی نہیں کرتے،لہذا تمام مشکلات کی جڑ یہ دنیا کی محبت ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20