Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189069
Published : 16/8/2017 18:11

مکہ مدینہ کے قانون اور؛ ریاض ظہران کے قانون اور!!!

سعودیہ کے سیاسی کردار کے اندر دینی تشخص اور اسلامی احکامات کے نفاذ میں تضادات کا بغور ملاحضہ کیا جاسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:سعودی معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک وہ جہاں دینی احکامات کو اس کی سخت ترین شکل میں نافذ کیا جاتا ہے یعنی دینی شدت پسندی کی شکل میں، اور ایک وہ جہاں احکامات بالکل نافذ ہی نہیں کیئے جاتے، حتی ظاہری طور پر بھی نہیں،اس ملک کے میڈیا کے بھی دو حصے ہیں ایک ہی اخبار کے اندورنی نسخوں میں عام تصویریں شائع ہوتی ہیں، اور اسی اخبار کے لندن کے پرنٹ میں ننگی تصاویر شائع کی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے سعودی مفتیوں سے کہا گیا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی شرعی حل نکالا جائے،اسی طرح سعودی شہر بھی دو طرح کے ہیں ایک جن میں ظواہر اسلامی کا خیال رکھا جاتا ہے، جیسا کہ مکہ، مدینہ۔ اور کچھ میں ایسا بالکل نہیں، جیسا کہ ظہران شہر میں،اس شہر میں تیل کی کمپنی ارامکو کا دفتر ہے اس دفتر کے زیادہ شیئر امریکہ کے ہیں اس وجہ سے کافی تعداد میں امریکی یہاں موجود ہیں، اور اس شہر کا ماحول آزاد طرح کا ہے،سعودیہ میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت تک نہیں ہے پر اس شہر میں وہ ڈرائیونگ کرسکتی ہیں، اور آزاد ہیں، البتہ امریکیوں کو ان سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے۔
Iuvmpress





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22