Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189096
Published : 19/8/2017 15:39

دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ کیوں پھیرتے ہیں؟

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:دعا کے بعد اپنے سر اور چہرے پر ہاتھ پھیرو۔


ولایت پورٹل:دعا وہ عمل ہے جو اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے یہاں تک کہ اسے مؤمن کے ہتھیار سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔
بعض اوقات خلوص و انہماک سے کی گئی دعا بہت سی مشکلات کو حل کر دیتی ہے اور بگڑے کام بنا دیتی ہے،دعا کی اہمیت اور افادیت سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔
غرض دعا کرنے کے کچھ خاص آداب روایات میں وارد ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب انسان دعا سے فارغ ہوجائے تو ہاتھوں کو اپنے چہرے اور سر پھیرے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ: «مَا أَبْرَزَ عَبْدٌ یَدَهُ إِلَى اللَّهِ الْعَزِیزِ الْجَبَّارِ إِلَّا اسْتَحْیَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ یَرُدَّهَا صِفْراً حَتَّى یَجْعَلَ فِیهَا مِنْ فَضْلِ رَحْمَتِهِ مَا یَشَاءُ فَإِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا یَرُدَّ یَدَهُ حَتَّى یَمْسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَ رَأْسِهِ».
ترجمہ: جب بندہ خداوند متعال کی بارگاہ میں دست طلب دراز کرتا ہے تو خداوند عالم کو گوارا نہیں ہوتا کہ اسے خالی ہاتھ پلٹا دے وہ جو چاہتا ہے اپنی رحمت کے صدقے ان ہاتھوں کو عطا کر دیتا ہے لہٰذا جب بھی دعا کرو اپنے ہاتھوں کو اپنے سر اور چہرے پر ضرور پھیرو۔(کافی جلد 2، ص ، 471)۔
اس سلسلے میں آیۃ اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام کی سنت کے مطابق مستحب ہے کہ  جب انسان دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اپنے سر اور چہرے پر پھرائے کیونکہ خداوند متعال کا لطف و رحم ان ہاتھوں پر نازل ہو چکا ہے جو دست طلب خداوند متعال کی بارگاہ میں اٹھا ہو اور وہ خالی نہیں رہتا اور خدا کی عطا سے مالامال ہوجاتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ اسے سر اور چہرے پر ملے۔
امام سجاد علیہ السلام جب کسی سوالی کو کچھ دیتے تھے تو اپنے ہاتھوں کو سونگھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہاتھ خداوند متعال تک پہنچ گیا ہے کیوںکہ خداوند عالم نے فرمایا ہے کہ:{هو یقبل التوبه عن عباده و یأخذ الصدقات} وہ اپنے بندوں سے توبہ اور صدقات  قبول کرتا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21