Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189103
Published : 19/8/2017 16:53

مرے ہوئے لوگوں کی سب سے بڑی حسرت

انسان جب تک زندہ ہے اسے نماز پڑھنے اور دعا کرنے کی فرصت کو ہاتھوں سے نہیں چھوڑنا چاہیئے،تاکہ قیامت میں اسے حسرت کا سامنا نہ ہو،چونکہ قیامت حسرت کا دن ہوگا اس دن ہر انسان کسی نہ کسی طرح حسرت کرے گا کہ کیوں میں نے اپنی زندگی کا صحیح استعمال نہیں کیا،چنانچہ ایک وہ چیز جس کے لئے انسان قیامت میں حسرت کرے گا وہ مسجد اور اہل مسجد کے بارے میں سوچ کر حسرت میں مبتلا ہونا ہے۔


ولایت پورٹل:انسان جب تک زندہ ہے اسے نماز پڑھنے اور دعا کرنے کی فرصت کو ہاتھوں سے نہیں چھوڑنا چاہیئے،تاکہ قیامت میں اسے حسرت کا سامنا نہ ہو،چونکہ قیامت حسرت کا دن ہوگا اس دن ہر انسان کسی نہ کسی طرح حسرت کرے گا کہ کیوں میں نے اپنی زندگی کا صحیح استعمال نہیں کیا،چنانچہ ایک وہ چیز جس کے لئے انسان قیامت میں حسرت کرے گا وہ مسجد اور اہل مسجد کے بارے میں سوچ کر حسرت میں مبتلا ہونا ہے،لہذا پیغمبر اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں:«ما مِن يَومٍ إلاّ و مَلَكٌ يُنادي فِي المَقابِر: مَن تَغبِطونَ؟ فَيقولونَ: «أهلَ المَساجِدِ؛يُصَلّونَ و لا نَقدِرُ».(مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل‏،ج‏3، ص363).
ترجمہ:کوئی بھی دن اہل قبور کے لئے ایسا نہیں گذرتا کہ جس دن ایک فرشتہ انہیں ندا  نہ دیتا ہو اور ان سے  یہ سوال نہ پوچھتا ہو:تم لوگوں کو کس چیز کی آرزو اور تمنا ہے؟تو وہ جواب دیتےہیں کہ ہم اہل مسجد کو دیکھ کر اپنے اوپر حسرت کرتے ہیں کہ وہ تو نماز پڑھ رہے ہیں لیکن ہم نماز نہیں پڑھ سکتے۔
انسان قیامت کے دن بڑی آرزو کرے کہ کیوں میں مسجد ۔زمین پر اللہ کا گھر ۔سے کیوں مانوس نہیں تھا،جبکہ خداوند عالم نے حدیث قدسی میں مجھے مسجد سے مانوس ہونے کی ترغیب دلائی ہے:«اِنَّ بُيُوتِي فِي الْأَرْضِ اَلْمَسَاجِدُ، فَطُوبَي لِعَبْدٍ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ زَارَنِي فِي بَيْتِي أَلا إِنَّ عَلَي الْمَزُورِ كَرَامَةَ الزَّائِرِ»
ترجمہ:زمین پر میرے گھر مسجدیں ہیں،خوش نصیب ہے وہ بندہ کہ جو اپنے گھر پر طہارت(وضو) کرکےمیرے گھرے میں میری زیارت کو آتا ہےاب یہ میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا خیال رکھے اور اس کا اکرام کرے۔(من لا يحضره الفقيه،ج1، ص239).

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17