Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189169
Published : 22/8/2017 17:33

مولانا محمد علی حسن شمس صاحب

شمس صاحب کی بہت سی نظمیں ہیں،لیکن ان میں سب سے اہم تین ہزار اشعار عربی کا وہ قصیدہ ہے جس میں آنحضرت(ص) سے واقعہ کربلا تک کے واقعات نظم ہیں۔


ولایت پورٹل:آغا علی شمس جن کا اصل نام سید محمد علی حسن صاحب،خراسانی الاصل تھے،لکھنؤ میں پیدا ہوئے کمسنی میں ماں اور باپ نے رحلت کی،کندن لال اشکی نے گیارہ سالہ یتیم پر شفقت کا ہاتھ رکھا،ہونہار بچے نے متداول علوم حاصل کرنے کے لئے،سبحان علی خان کمبوہ،اوحدالدین بلگرامی،مولوی فضل حق خیرآبادی،سلامت کشفی،قاضی محمد صادق اختر اور مفتی محمد عباس صاحب اور مرزا دبیر کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا،وہ خوش خطی میں کندن لال اشکی کے شاگرد تھے اور محمد علی شاہ بادشاہ اودھ نے«رنگین رقم» اور «مشکیں رقم» اور خان بہادر کا خطاب دیا تھا،آپ نے معقولات و ادب بھی اعلٰی درجہ کے اساتذہ سے پڑھے تھے، اس لئے باحیثیت صاحب علم و ادب مانے جاتے تھے،آخر میں ہائی کورٹ کی وکالت کا پیشہ اختیار کرلیا تھا اور اس طرح انہوں نے مسلمانوں کے الجھے مسائل سلجھانے کی سعی تمام کی۔
شمس صاحب کی بہت سی نظمیں ہیں،لیکن ان میں سب سے اہم تین ہزار اشعار عربی کا وہ قصیدہ ہے جس میں آنحضرت(ص) سے واقعہ کربلا تک کے واقعات نظم ہیں۔
وفات
مولوی محمد علی حسن شمس نے ۱۳۱۲ ہجری میں رحلت کی
قلمی آثار
۱۔قلائد الفراسۃ
۲۔سبعہ سیارہ
۳۔مترجم اصول کافی
۴۔مثنوی طلعۃ الشمس
۵۔شمشیر تبریز



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22