Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189178
Published : 23/8/2017 13:3

کائنات کی وہ شادی جو اسلام کا مقدر بن گئی

رسالت کا مستقبل اور دین کی تقدیرحضرت علی علیہ السلام اورحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی کے مرہون منت تھی اور اللہ تعالی نے ایک ایسے تعلق کی راہ ہموارکی کہ جس کے نتیجے میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلام کے جانشین پیدا ہوئے۔

ولایت پورٹل:حوزہ علمیہ کے گروہ تاریخی مطالعات کے رکن حجۃ الاسلام امیر علی حسنلو نے حضرت علی علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی سے متعلق شکوک وشبہات کے بارے میں کہا ہیکہ اہل سنت کی روایات کےمطابق بہت سے لوگوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سےشادی کی درخواست کی تھی کہ جن میں ابوبکر، عمر اور بعض دیگرمہاجروں کا نام لیا گیا ہے۔
اہل سنت کی ایک معتبرکتاب سنن نسائی میں ایک روایت ہے کہ ابوبکر،عمراور بعض مہاجرین حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کی درخواست لے کرگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا:فاطمہ کے حوالے سے میں اللہ کے حکم کا منتظرہوں۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ یعقوبی نے اس بارے میں لکھا ہےکہ مہاجرین کےایک گروہ نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاطمہ سلام اللہ علیہا سےشادی کی درخواست کی تھی،اس کےعلاوہ بن ہشام، طبری، بلاذری، کلینی، شیخ مفید اورشیخ طوسی نے بھی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کرنے کے خواہشمند افراد کے بارے میں لکھا ہے۔
حجۃ الاسلام حسنلو نےکہا ہےکہ معتبرتاریخی معتبرتحقیقات کی بنا پرحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بعثت کے پانچ سال کےبعد اس دنیا میں آئیں اورحضرت علی علیہ السلام کی شادی کی خواہش کے وقت آپ کی عمرنو سال تھی،البتہ جن حضرات نے آپ کی عمراٹھارہ سال بتائی ہے وہ درست نہیں ہے۔
انہوں نےامیرالمؤمنین علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی کےسال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوم ہجری کو یہ اہم واقعہ رونما ہوا تھا اورجب بہت سے افراد نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکرحضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کی درخواست کی توآنحضرت نے انہیں منفی جواب دیتے ہوئےحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا: میں آپ کی شادی ایک ایسے شخص سے کروں گا کہ جوسب لوگوں سے زیادہ نیک اورسب سے پہلے اسلام قبول کرنا والا ہے۔
ابن سعد نے اپنی کتاب میں اس طرح لکھا ہےکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منفی جواب ملنے کے بعد ابوبکر اورعمر حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور انہیں فاطمہ سے شادی کی درخواست کرنے کی تجویزپیش کی،امام علی علیہ السلام نے اس تجویزکوقبول کیا،ان دونوں کےعلاوہ انصارکی ایک جماعت نے بھی اس طرح کا مشورہ دیا تھا،جب علی علیہ السلام اس موضوع کے حوالے سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے توآنحضرت نے پوچھا علی جان کس لیے آئے ہیں تو آپ نے انتہائی شرم و حیاء کےساتھ سرجھکائے ہوئےعرض کیا کہ میں فاطمہ سے شادی کی درخواست لےکرآیا ہوں،پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی علیہ السلام کی زبان سے یہ سن کر بہت خوش ہوئے اورانہیں خوش آمدید کہا۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ علامہ مجلسی نےعیون اخبارالرضا کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ آنحضرت نے امیرالمؤمنین کے جواب میں فرمایا کہ قریش کے کچھ لوگ مجھ سےناراض ہوگئے ہیں کہ میں نے انہیں اپنی بیٹی کا رشتہ کیوں نہیں دیا ہے جبکہ میں نے انہیں کہا ہے کہ یہ اللہ کا ارادہ ہے اور علی کے علاوہ  فاطمہ کا کوئی کفو نہیں ہے۔
انہوں نےکہا ہے کہ بعض مستشرقین نے ضعیف روایات کا حوالہ  دیتے ہوئے شکوک وشبہات ایجاد کرتے ہوئے کہا ہےکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس شادی پرراضی نہیں تھیں جبکہ مذکورہ بالا گفتگوسےمعلوم ہوتا ہےکہ اس طرح نہیں تھا اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی رضایت سے یہ شادی ہوئی تھی۔
حجۃ الاسلام حسنلو نے اس شادی کی اہمیت اور اسلام کی تقدیر پر اس کی تاثیرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ رسالت کا مستقبل اور دین کی تقدیراس شادی سے وابستہ ہے اور یہ واقعہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے تعلق اور ازدواج کی بنیاد رکھی کہ جس کے نتیجے میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین پیدا ہوئے کہ جنہوں نے اللہ کے نظرخاص سے پرورش پائی اورانسانوں کی ہدایت کابیڑہ اٹھایا اوراس طرح دین کی تقدیر،اس خاندان اوراس شادی کی تقدیرسے جڑگئی۔

شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21