Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189193
Published : 23/8/2017 16:43

ام الفضل سے امام تقی(ع) کا رشتہ اور مامون کے درپردہ مقاصد

مامون کا چوتھا مقصد، عوام کو دھوکا دینا تھا،کیونکہ وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے یہ رشتہ اس لئے دیا ہے تاکہ ابو جعفر کو میری دختر سے اولاد ہو اور میں ایک ایسے بچے کا نانا کہلاؤں جس کا تعلق نسل رسول وعلی علیہم السلام سے ہو،لیکن خوش قسمتی سے اس کا یہ فریب کار گرنہ ہوسکا، کیونکہ ان کی اس دختر سے کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی،بلکہ امام علیہ السلام کی جو بھی اولاد ہے وہ آپ کی دوسری زوجہ سے ہے۔

ولایت پورٹل:قارئین گرامی! جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں  چونکہ مامون الرشید عباسی بڑی حدتک سیاسی دشواریوں  میں  گھر چکا تھا اور اس نے ان مشکلات اور دشواریوں  سے نکلنے کیلئے جو تجویز سوچی وہ یہ کہ جتنا جلدی ہوسکے وہ ائمہ اہل بیت(ع) کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرے،اسی لئے ان نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام  کو زبردستی اپنا ولی عہد قرار دیا جس سے وہ گویا ایک تیر سے کئی شکار کرتا رہا۔
ادھر بنی عباس حضرت امام رضا علیہ السلام  کی ولی عہدی سے اس لئے خوش نہیں  تھے کہ کہیں  اس طرح سے خلافت بنی عباس سے اولاد علی(ع) میں  نہ منتقل ہوجائے،اسی وجہ سے وہ مامون الرشید کے مخالف ہوگئے تھے،لیکن جب امام علیہ السلام  کو مامون کے ذریعے شہید کر دیا گیا تو وہ بھی مطمئن ہوگئے، بلکہ اس سے اپنی ناراضی دور کرکے اس کی طرف واپس آگئے۔
مامون نے امام علی رضا علیہ السلام  کو بڑے راز دارانہ اور مخفیانہ طورپر زہر دیا تھا،اور اس کی کوشش تھی کہ معاشرہ میں  یہ مجرمانہ راز کھل نہ جائے، اسی لئے اپنے اس مجرمانہ فعل پر پردہ ڈالنے کیلئے وہ اکثر و بیشتر امام علیہ السلام  کی موت پر مگر مچھ کے آنسو بہاتا تھا اور رنج و غم کااظہار بھی کرتا تھا،لیکن ان تمام سر گرمیوں  کے باوجود آخر کار یہ راز علویوں  پر آشکار ہو ہی گیا،اور انہیں  پتہ چل گیا کہ امام مظلوم کا قاتل مامون عباسی کے علاوہ اور کوئی نہیں  ہے،اسی لئے وہ بہت دل آزردہ اور غمگین تھے اور ان کے اندر غم وغصے کی لہر دوڑ گئی،اب مامون کو ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت ڈانواڈول ہوتی نظر آنے لگی،اور برے انجام کو دیکھتے ہوئے حفظ ماتقدم کے پیش نظر ایک اور سازش کو کامیاب بنانے کی کوشش شروع کردی، وہ یہ کہ اس نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  سے دوستانہ اور مہربانہ برتاؤ شروع کر دیا،اور مکمل طور سے طے کر لیا کہ اپنی بیٹی«ام الفضل» کا رشتہ امام علیہ السلام  سے کرے گا،تاکہ جو مقاصد اس نے حضرت امام رضا علیہ السلام  کو ولی عہد بنا کر حاصل کیے تھے، وہی مقاصد امام محمد تقی علیہ السلام  کو یہ رشتہ دے کر حاصل کرے۔
اسی منصوبے کے تحت مامون نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  کو سن ۲۰۴ ھ میں  مدینہ سے بغداد بلایا، یعنی حضرت امام رضا علیہ السلام  کی شہادت کے ایک سال بعد۔ اور یحیٰ بن اکثم سے امام علیہ السلام  کے ساتھ مناظرے کی تفصیل ہم پہلےبیان کر چکے ہیں ،اس مناظرے سے پہلے اس نے اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  کے ساتھ کردیا تھا۔ سن ۲۱۵ ہجری میں  تکریت میں  حضرت امام جواد محمد تقی علیہ السلام  کے گھر منتقل ہوگئی۔
مامون کیا چاہتا تھا؟
مامون جس عقد پر اصرار کر رہا تھا اس کا ایک خاص سیاسی پہلو تھا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اس سے کئی ایک مقاصد وابستہ تھے۔
۱۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی بیٹی کو امام کے گھر بھیج کر اس کے ذریعے امام علیہ السلام  کی ہمیشہ نگرانی کرتا رہے اور ان کی ہر نشست و برخاست سے با خبر رہے،اور اس بیٹی نے بھی اپنے باپ کی طرف سے مقررشدہ فریضہ کو خوب نبھایا، تاریخ جس کی شاھد ناطق ہے۔
۲۔ وہ اپنے خیال خام سے چاہتا تھا کہ اس«تعلق داری» کے ذریعہ امام علیہ السلام  کو بھی اپنے پر عیش و نوش دربار سے منسلک کردے جس سے امام علیہ السلام  دربار میں  نعوذ باللہ لہو و لعب اور فسق وفجور کی محفلوں  میں  حصہ دار بن جائیں  گے اور اس طرح سے اسے امام علیہ السلام  کی شخصیت کوخدشہ دار کرنے اور تقدس کو پامال کرنے کا موقع مل جائے گا،اور لوگوں  کی نظروں  میں  امام کی جو قدرو منزلت اور عزت و وقار ہے اور عصمت امامت کا جو مقام ہے وہ گرجائے گا۔
۳۔اس تعلق داری سے اولاد علی(ع) کے اس کے خلاف جو اعتراضات اور تحریکیں  ہیں  وہ ختم ہوجائیں  گی اور وہ خود کو ان کا دوست اور رشتہ دار ثابت کر سکے گا۔
۴۔ مامون کا چوتھا مقصد، عوام کو دھوکا دینا تھا،کیونکہ وہ کہا کرتا تھا کہ میں  نے یہ رشتہ اس لئے دیا ہے تاکہ ابو جعفر کو میری دختر سے اولاد ہو اور میں  ایک ایسے بچے کا نانا کہلاؤں  جس کا تعلق نسل رسول وعلی علیہم السلام سے ہو،لیکن خوش قسمتی سے  اس کا یہ فریب کار گرنہ ہوسکا، کیونکہ ان کی اس دختر سے کوئی اولاد ہی نہیں  ہوئی،بلکہ امام علیہ السلام  کی جو بھی اولاد ہے وہ آپ کی دوسری زوجہ سے ہے۔
(ملاحظہ ہو، تاریخ یعقوبی جلد ۳ ص۱۸۹، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴ ص۳۸۰ نوٹ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مامون نے اسی نظرئیے کے تحت اپنی ایک بیٹی کا عقد حضرت امام رضا علیہ السلام  سے بھی کیا تھا،وہ بھی لاولد اس دنیا سے رخصت ہوئی اور مامون کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا)
یہ تو تھے مامون کے  رشتہ دینے کے مقاصد اب دیکھنا یہ ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام  نے یہ رشتہ قبول کیوں  فرمایا؟
امام علیہ السلام  نے رشتہ کیوں  قبول کیا؟
اس میں  تو شک ہی نہیں  کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  مامون کے اس قسم کے اقدام سے اس کے اہداف و مقاصد کو اچھی طرح سمجھتےتھے اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے ان کے والد بزرگوار حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو زہر سے شہید کیا ہے لہٰذا اس بات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام  نے یہ رشتہ برضا و رغبت قبول نہیں فرمایا بلکہ مامون کا وہ دباؤ تھا جو امام پر پہلے ڈالا جا چکا تھا،کیونکہ اس قسم کا رشتہ صرف مامون کی مصلحت پسندی کی وجہ سے ہوا تھا نہ کہ امام علیہ السلام  کی خوشی  سے! البتہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ امام علیہ السلام  کا دربار سے قرب معتصم عباسی کی طرف سے آپ کے مخفیانہ قتل کو روک سکتا تھا،اور خلیفہ کے کارندوں  کے ذریعہ امام کے برجستہ اصحاب اور سربر آوردہ شیعہ حضرات کے گھر وں  کو تباہی و بربادی سے بچایا جاسکتا تھا،اور یہ اقدام علی بن یقطین کا ہارون کی طرف سے وزارت کی پیشکش قبول کرنے کی مانند تھا،یعنی شیعوں  کے تحفظ کی خاطر دربار خلافت میں  ایک مؤثر اور باوقار شخصیت کی موجودگی تھی،حضرت امام محمد تقی جواد علیہ السلام  کے ایک دوست حسین مکاری کہتے ہیں کہ:ایک دن میں  بغداد میں  حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  کی خدمت میں  حاضر ہوا،اور میں  نے امام علیہ السلام  کے وسائل زندگی دیکھ کر دل میں  کہا:اب جبکہ امام علیہ السلام  کو یہ مرفہ حال  زندگی نصیب ہوئی ہے اب وہ اپنے وطن«مدینہ» واپس نہیں  جائیں  گے۔
میری یہ حالت دیکھ کر امام(ع) نے کچھ دیر سر کو جھکا لیا، پھر اپنا سر اوپر کیا اس وقت آپ کے چہرے پر غم و اندوہ کے آثار نمایاں  تھے فرمایا:حسین! حرم رسول میں  رہ کر جو کی روٹی اور صرف نمک مجھے زیادہ محبوب ہے اس مرفہ حال  زندگی سے جو تم دیکھ رہے ہو!
(الخرائج والجرائح راوندی جلد ۱ ص ۳۴۴۔ بحار الانوار مجلسی جلد ۵۰ ص ۴۸ الامام الجواد من المھدالی اللحد قزوینی ص۱۵۲)
یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام  بغداد میں  زیادہ عرصہ نہیں  رہے اور اپنی زوجہ کے ہمراہ مدینہ تشریف لے آئے، اور سن ۲۲۰ ھ تک مدینہ ہی میں  رہے۔

نقل از سیرت چہارد معصومین علیہم السلام،تالیف: علامہ محمد علی فاضل مدظلہ العالی
مؤسسہ علمی عالم آل محمد علیہ السلام

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22