Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189225
Published : 26/8/2017 15:39

امام مہدی(ع)مظلوموں کیلئے مایہ امید

ملتِ شیعہ بھی جو اپنے بارہویں امام علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ رکھتی ہے،کہ وہ زندہ ہیں اور سب کو دیکھ رہے ہیں ،اگرچہ انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا، اسی لئے وہ خود کو تنہا نہیں سمجھتی،اور اس عقیدہ کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ دلوں میں چراغِ امید روشن رہتا ہے،اور افراد انسانی کو خود سازی پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اور ایک عظیم عالمی انقلاب کے لئے انہیں تیار کیا جاسکتا ہے،اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کاملاً عیاں اور قابلِ ادراک ہے۔


ولایت پورٹل:کتاب«مھدی انقلابی بزرگ»ص۲۵۵، ۲۵۶ میں  ہے کہ:جنگ کے میدان میں  ہر مخلص اور فداکار سپاہی کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ دشمن کے حملوں  کے مقابلے میں  اپنا پرچم ہر ممکن سربلند اور لہراتا رہے،جبکہ مخالف فوج کی ہر ممکن یہی کوشش ہوتی ہے اسے کسی طرح سرنگوں  کیا جائے،اس لئے کہ جب تک پرچم سربلند اور لہراتا رہتا ہے اس وقت تک لشکر کی امیدیں بندھی رہتی ہیں اور وہ اپنی لگاتار کوششوں  میں  لگارہتا ہے۔
اسی طرح فوج کے کمانڈر کا اپنے کمانڈنگ ہیڈ کوارٹر میں  موجود رہنا،خواہ وہ خاموش ہی بیٹھا رہے،لشکر کی رگوں  میں  گرم اور پُر حرارت خون کی گردش جاری رہتی ہے اور ان کی ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ ہمارا کمانڈر ہمارے اندر موجود ہے،اور ہمارا جھنڈا سرافراز اور سربلند ہے،
اس سے وہ میدان میں  خوب جم کر دادِ شجاعت دیتے ہیں،لیکن اگر کمانڈر کے قتل کی خبر پھیل جائے تو ایک عظیم اور جرار لشکر بھی حوصلے ہار دیتا ہے، اور میدانِ کارزار کو چھوڑ کر ، فرار کو قرار پر ترجیح دیتا ہے۔
ایسے ہی کسی فوج یا گروہ کا سربراہ جب تک زندہ ہوتا ہے،خواہ وہ سفر میں  ہو،یا بالفرض بسترِبیماری پر،پھر بھی اس کیلئے مایہ امید اور موجب سرگرمی ہوتا ہے،لیکن جب اس کے اس دنیا سے چلے جانے کی خبر منظرِ عام پر آتی ہے،تو پورے ماحول پر قنوطیت اور ناامیدی کے بادل چھا جاتے ہیں،اور سب کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں،جس کی وجہ سے دشمن کے غالب آجانے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔
ملتِ شیعہ بھی جو اپنے بارہویں  امام علیہ السلام  کے بارے میں  عقیدہ رکھتی ہے،کہ وہ زندہ ہیں اور سب کو دیکھ رہے ہیں ،اگرچہ انہیں  کوئی نہیں  دیکھ رہا، اسی لئے وہ خود کو تنہا نہیں  سمجھتی،اور اس عقیدہ کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ دلوں  میں  چراغِ امید روشن رہتا ہے،اور افراد انسانی کو خود سازی پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اور ایک عظیم عالمی انقلاب کے لئے انہیں  تیار کیا جاسکتا ہے،اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کاملاً عیاں  اور قابلِ ادراک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب سوربن یونیورسٹی فرانس کے فلسفہ کے پروفیسر اور نامور مستشرق «ہنری کاربن» (Henry Karbun)سے معروف شیعہ مفسر علامہ سید محمد حسین طباطبائی نے تشیع کے بارے میں  سوال کیا:تو انہوں  نے جو جواب دیا وہ سالنامہ «مکتبِ تشیع» کے دوسرے شمارے ص۲۰ مطبوعہ ۱۳۳۹ ہجری شمسی میں  اس طرح درج ہے:میرے عقیدہ کے مطابق، تشیع وہ واحد مذہب ہے جس نے خدا اور خلقِ خدا کے درمیان ہمیشہ کیلئے ہدایت کے رابطے کو برقرار رکھا ہوا ہے اور کبھی اسے منقطع نہیں  ہونے دیا اور وہ ہے ان کا عقیدہ «ولایت»
جو تسلسل کے ساتھ زندہ و پائندہ ہے،کیونکہ یہودیت نے نبوت کو خدا اور عالم انسانیت کے درمیان حقیقی را بطہ سمجھا،لیکن حضرت موسیٰ کلیم اللہ  علیہ السلام  ہی میں  اسے ختم کردیا،اس لئے کہ وہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  اور حضرت محمد (ص) کی نبوت کو تسلیم نہیں  کرتے اور حضرت موسیٰ(ع)پر ہی نبوت کا خاتمہ سمجھتے ہیں اور نبوت ہی حقیقی رابطہ ہوتا ہے جو موسیٰ  علیہ السلام  کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے ساتھ ہمیشہ کیلئے منقطع ہو گیا،اسی طرح عیسائیت نے حضرت مسیح علیہ السلام  میں اس سلسلے کو منحصر کردیا اور ان کے یہاں  سے اٹھ جانے کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوگیا اور مسلمانوں  میں  سے حضرات اہلِ سنت ہیں جنہوں  نے سرکار رسالت مآب(ص)کی ذات پر نبوت کے خاتمے کے ساتھ ہی اس رابطے کو بھی منقطع کردیا ہے، اب ان کے نزدیک خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی رابطہ موجود نہیں یہ صرف مذہب شیعہ ہی ہے جو «نبوت»کو تو حضرت محمد مصطفیٰ کی ذات پر ختم سمجھتے ہیں لیکن «ولایت»کو ہمیشہ کیلئے زندہ و پائندہ مانتے ہیں جو ہدایت و ارتقاء کا خالق اور مخلوق کے درمیان مضبوط رابطہ ہے.

نقل از سیرت چہاردہ معصومین علیہم السلام





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14