Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189255
Published : 27/8/2017 16:26

تاریخ اسلام کا ایک ورق:

غزوہ ذات السويق

اس نے اپنے لشکر والوں کو حکم دیا کہ جو ستو وہ اپنے ہمراہ غذا کے طور پر لائے ہیں اسے پھینک دیں تاکہ بوجھ ہلکا ہوسکے اور فرار کرنے میں آسانی ہوجائے،لہذا جب مسلمان وہاں پہونچے مشرکین فرار کرچکے تھے اور ان کا چھوڑا ہوا ستو ابھی وہیں موجود تھا،لہذا مسلمانوں نے غنیمت کے طور پر ستو کو اٹھا لیا،چونکہ عربک ڈکشنری میں سویق،ستو کو کہتے ہیں لہذا تاریخ میں یہ غزوہ بھی غزوہ «ذات سویق» کے نام سے معروف ہے۔


ولایت پورٹل:ماہ ذی الحجہ ۵ تاریخ سن ۲ ہجری کو تاریخ اسلام کا ایک غزوہ جسے غزوہ «ذات السویق» کہتے ہیں واقع ہوا،جنگ بدر میں کفار کی شکست کے بعد ابوسفیان نے یہ نذر کی کہ جب تک ہم اپنے لشکریوں کا محمد(ص) اور ان کے ساتھیوں سے انتقام نہ لے لیں اس وقت تک نہ تو ہم اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے اور اور نہ ہی اپنے سروں میں کنگھی کریں گے،لہذا اپنی نذر کو پورا کرنے کے لئے ابوسفیان ۲۰۰ کفار کے ہمراہ شہر مدینہ کے مضافات میں واقع ایک نخلستان پر حملہ آور ہوا اور اس نے وہاں انصار کے دو بزرگوں کو قتل کردیا اور کچھ کھجوروں کے درختوں کو جلا دیا اس طرح اس نے اپنی نذر کو پورا کیا۔
جیسے ہی اس حادثہ کی خبر پیغمبر اکرم(ص) کو ملی آپ نے ابولبابہ کو مدینہ میں چھوڑا اور مہاجرین و انصار کے ۲۰۰ افراد لیکر ابوسفیان کے تعاقب میں نکلے کہ جس میں لشکر کا علمبردار حیدر کرار علی(ع) کو بنایا اور مقام عریض کی طرف چل پڑے،جیسے ہی ابوسفیان کو پیغمبر(ص) کی آمد کی خبر ملی کہ آنحضرت(ص) اس کے تعاقب میں نکل چکے ہیں،اس نے اپنے لشکر والوں کو حکم دیا کہ جو ستو وہ اپنے ہمراہ غذا کے طور پر لائے ہیں اسے پھینک دیں تاکہ بوجھ ہلکا ہوسکے اور فرار کرنے میں آسانی ہوجائے،لہذا جب مسلمان وہاں پہونچے مشرکین فرار کرچکے تھے اور ان کا چھوڑا ہوا ستو ابھی وہیں موجود تھا،لہذا مسلمانوں نے غنیمت کے طور پر ستو کو اٹھا لیا،چونکہ عربک ڈکشنری میں سویق،ستو کو کہتے ہیں لہذا تاریخ میں یہ غزوہ بھی غزوہ «ذات سویق» کے نام سے معروف ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20