Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189263
Published : 27/8/2017 17:59

مولانا محمد حسین نوگانوی

اوائل رجب سن ۱۳۰۰ ہجری سے لکھنؤ آگئے اور پھر ۱۳۰۵ ہجری تک لکھنؤ کے نابغہ افراد سے تلمذ کیا،جن میں بحرالعلوم،ملاذ العلماء جیسی علمی شخصیات سر فہرست ہیں،اور پھر شہر سہارنپور میں آکر تبلیغ دین میں مصروف ہوگئے،چنانچہ ۱۳۰۹ میں حج بدل کے لئے حرمین کا سفر کیا اور اسی طرح ۱۳۳۱ ہجری میں مع اہل و عیال عتبات عالیات ایران و عراق کی زیارت کی اور علامہ الحاج شیخ محمد حسین مازندرانی سے اجازہ لیا۔


ولایت پورٹل:مولانا محمد حسین ابن سید حسین بخش نوگانواں ضلع مرادآباد (ابھی کچھ برسوں پہلے نوگانواں سادت ضلع امروھہ کی تحصیل کے طور پر سرکاری کاغذات میں درج ہوچکا ہے)میں ۲۳ محرم الحرام سن ۱۲۸۳ ہجری کو پیدا ہوئے،قرآن مجید اور دینیات کے بعد شیخ جعفر حسین صاحب بدایونی نے نوگانواں میں دینی مدرسہ قائم کیا جس میں مولانا سید اصغر حسین صاحب مدرس ہوئے،موصوف سے دستور المبتدی تک درس لیا،مولانا اصغر حسین صاحب سن ۱۲۹۸ ہجری میں حج کے لئے گئے ادھر سادات بارھہ کے ایک گانوں میرانپور میں دینی مدرسہ قائم ہوا،چنانچہ مولوی شیخ سجاد حسین صاحب سے شرح ملا جامی،شرح تہذیب اور مختصر النافع تک پڑھا اور پھر آکر اپنے وطن نوگانواں سادات ہی میں مولوی محرم علی سے پڑھنے لگے۔
اوائل رجب سن ۱۳۰۰ ہجری سے لکھنؤ آگئے  اور پھر ۱۳۰۵ ہجری تک لکھنؤ کے نابغہ افراد سے تلمذ کیا،جن میں بحرالعلوم،ملاذ العلماء جیسی علمی شخصیات سر فہرست ہیں،اور پھر شہر سہارنپور میں آکر تبلیغ دین میں مصروف ہوگئے،چنانچہ ۱۳۰۹ میں حج بدل کے لئے حرمین کا سفر کیا اور اسی طرح ۱۳۳۱ ہجری میں مع اہل و عیال عتبات عالیات ایران و عراق کی زیارت کی اور علامہ الحاج شیخ محمد حسین مازندرانی سے اجازہ لیا۔
وفات
مولانا محمد حسین صاحب نے ۲۴ محرم الحرام سن ۱۳۶۲ ہجری مطابق فروری ۱۹۴۳ ء کو رحلت کی۔
قلمی آثار
۱۔زینت المجالس ،۳ جلدیں۔
۲۔ترجمہ لہوف ابن طاوؤس۔
۳۔المنشار لقطع الاحجار۔
۴۔شرح الفیہ فقہ(فارسی)۔
۵۔نار حامیہ۔
۶۔رسالہ فدک۔
۷۔مثنوی عقائد اثنا عشریہ۔
۸۔پیراھن یوسفی در مصائب۔
۹۔تحفۃ الاخیار فی نجات المختار۔
۱۰۔حاشیہ اصول کافی۔
۱۱۔زینۃ المنابر۔
۱۲۔کشکول۔
۱۳۔رسالہ استغاثات۔
۱۴۔تذکرہ بے بہا فی تاریخ العلماء۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16