Sunday - 2018 مئی 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189293
Published : 29/8/2017 15:35

داعش کی نابودی ہی ہے نتین یاہو کے رونے کی اصل وجہ:حسن نصر اللہ

حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ الجرود کی جنگ میں حزب اللہ نے فتح حاصل کرلی ہے اور یہ فتح صرف حزب اللہ کی نہیں بلکہ پورے خطےکی فتح ہے۔

ولایت پورٹل:المنار کی رپورت کے مطابق حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنی فوج کے شہیدوں اور داعش کے ہاتھوں اغواء ہونے والے جوانوں کے خاندانوں کو صبر و حوصلے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شھداء کے جنازوں کی مکمل طور پر شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، شناخت کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالے کیا جائیگا۔
واضح رہے کہ سید حسن نصراللہ نے قلمون کی فتح کے موقع پر عوام سے خطاب کیا ،سید کا کہنا تھا کہ جنگ کے ابتداء میں ہی داعشی دہشت گرد جنگ بندی کرنا چاہتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دو طرف سے محاصرے میں ہیں تو تسلیم ہوکر ہتھیار ڈال دئے۔
ہم نے داعش کے ساتھ مذاکرات اس شرط کے ساتھ کئے کہ وہ ہمیں تمام شہداء کے جنازے واپس کریں گے، داعش کے جتنے بھی دہشت گرد رومیہ کے جیل میں ہیں، انہیں کسی بھی صورت میں رہا نہیں کیا جائے گا۔
داعش کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں دو پادری بھی شامل تھے جنہیں داعش کے دہشت گردوں نے اغوا کرلیا تھا تاہم داعش نے کہا کہ پادریوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔
مذاکرات میں 670 عام شہری، 26 زخمی اور 307 داعشی جنگجوؤں کی رہائی پر اتفاق ہوا ہے۔
سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ہم لبنان اور شام کی سرحد پر موجود تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کرسکتے تھے لیکن ہمارے اغواء شدہ جوانوں کی جان خطرے میں تھی اسلئے ہم نے داعش کے ساتھ مذاکرات کرنے کو ہی ترجیح دی تاکہ بے گناہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔
چونکہ ہم نے تمام اہداف پورے کرلئے تھے ہمارا اصل مقصد فجرالجرود سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا تھا، وہ کرلیا اور اب داعش مکمل طور پر تسلیم ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الجرود جنگ میں حزب اللہ کے 11 اور شامی فوج کے 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
سید حسن کا کہنا تھا کہ لبنان کی شام سے ملحقہ سرحد کی تمام چوٹیوں سے دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کردیا گیا ہے اب اس علاقے میں ایک بھی تکفیری نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ البادیه، رقه، حلب اور حماه میں داعشیوں کو شدید دھچکا لگا تھا جس کی وجہ سے وہ الجرود میں بھی جلد تسلیم ہوگئے۔
سید حسن نے کہا کہ ہم لبنان سے تکفیریوں اور صہیونیوں کو مکمل طور پر باہر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں دنیا پر واضح ہوتا جارہا ہے کہ داعش کے اصلی پیداوار امریکہ اور اسرائیل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج داعش کی شکست کی سب سے زیادہ تکلیف اسرائیلی وزیراعظم کو ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ گریہ کناں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28 اگست کو لبنان کے اہم تاریخی دنوں میں شمار کیا جائے گا۔

تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 20