Friday - 2018 مئی 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189302
Published : 29/8/2017 16:50

۷ ذی الحجہ ۱۴۳۸ ہجری پر خصوصی:

امام باقر(ع) کی شہادت

آپ (ع)کے جسم اطہر کو آپ کے پدر بزرگوار امام زین العابدین(ع) اور امام حسن(ع)کے جوار میں دفن کر دیا گیا،آپ(ع) کے ساتھ علم ،حلم امر بالمعروف اور لوگوں کے ساتھ احسان بھی چلا گیا۔

ولایت پورٹل:اسلامی روایات کی روشنی میں ٧ ذی الحجۃ الحرام اہلبیت رسول اسلام اور ان کے دوستداروں کے لئے نہایت ہی غم و اندوہ کی تاریخ ہے سن ١١٤ ہجری میں اسی تاریخ کو آسمان علم و ہدایت کا وہ درخشاں آفتاب مدینہ منورہ میں غروب ہوا ہے کہ جس کی علمی و فکری تابندگی سے بنی امیّہ کی ایجاد کردہ گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں بھی عالم اسلام کے بام و در روشن و منور تھے۔
یہ شب و روز فرزندِ رسول امام محمد باقر علیہ السلام ، وہ جن کو خود پیغمبرِ اسلام(ص) نے اپنے بزرگ و معتبر صحابی جابر ابن عبداللہ انصاری کے ذریعے سلام کہلوایا تھا،امام محمد باقر علیہ السلام جن کو دستِ قدرت نے ان کے پدر بزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام کی مانند کرب وبلا کی ایک عظیم قربان گاہ اور کوفہ و شام کی اسارت گاہ سے ڈھائی سال کی عمر میں صحیح سالم واپس مدینہ پہنچایا تھا اور جن کے دسترخوان علم سے تقریباً تمام مذاہب و مسالک کے علماء و فقہا نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر خوشہ چینی کی ہے اور کر رہے ہیں،ہم اس عظیم فقدان پر ملتِ اسلام کے تمام سوگواروں کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
امام(ع) کی شہادت
امام محمد باقر(ع)کو ان گناہگار ہاتھوں نے زہر دغا سے شہید کیا جن کا نہ اللہ پر ایمان تھا اور نہ وہ قیامت پر ایمان رکھتے تھے،اس مجرم کے سلسلہ میں کہا گیا ہے:وہ ہشام تھا۔دوسرا قول یہ ہے:وہ ابراہیم تھا لیکن زیادہ تر احتمال یہی ہے کہ وہ ہشام ہی تھا ،چوںکہ وہ خاندان عصمت و طہارت سے بغض و کینہ رکھتا تھا ہشام وہی ہے جس نے شہید زید بن علی(ع) کو قیام و انقلاب برپا کرنے کے لئے ابھارا،چونکہ اس نے زید بن علی(ع) پر بہت زیادہ ظلم و ستم روا رکھا یہاں تک کہ آپ حکومت کے خلاف قیام کر نے پر مجبور ہو گئے اور اسی کے دور حکومت میں شہید کر دیئے گئے،لیکن امام محمد باقر(ع)کو قتل کرنے کی وجہ آپ کے فضل و شرف ،علم کی شہرت ہونا ،اور مسلمانوں کا آپ کی ہیبت اور عبقریات کے سلسلہ میں گفتگو کرنا تھا۔
جب امام(ع) کو زہر دیا گیا تو وہ آپ(ع)کے تمام بدن میں سرایت کر گیا،زہر نے بہت ہی تیزی کے ساتھ اثرکیا،جس سے آپ(ع) موت کے بہت نزدیک پہنچ گئے ،آپ(ع) اللہ کی یاد میں منہمک ہو گئے ،قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے جب آپ(ع)کو موت کے آنے کا بالکل یقین ہو گیا تو آپ(ع) اللہ کے ذکر ویاد  میں مشغول رہے،آپ(ع) کی عظیم روح اللہ کی بارگاہ میں پہنچی جس کا اللہ کے ملائکہ مقربین نے بڑھ کر استقبال کیا،آپ(ع) کی موت سے رسالت اسلامیہ کے ایک متقی و پرہیز گار صفحہ کا خاتمہ ہو گیا اور اسلامی معاشرہ علوم کے درمیان پیچ و خم کھاتا رہ گیا۔
آپ (ع)کے جسم اطہر کو آپ کے پدر بزرگوار امام زین العابدین(ع) اور امام حسن(ع)کے جوار میں دفن کر دیا گیا،آپ(ع) کے ساتھ علم ،حلم امر بالمعروف اور لوگوں کے ساتھ احسان بھی چلا گیا۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 مئی 25