Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189304
Published : 29/8/2017 17:21

امام محمد باقر(ع) کا دروازہ ہر تشنہ علم کے لئے وا رہتا تھا:رہبر انقلاب

امام محمد باقر(ع) نے اپنے دورِ امامت میں قدم آگے بڑھایا اور شیعی جدوجہد اورسعی و کوشش کو نقطۂ آخر سے قریب کیا، اسی وجہ سے امام محمد باقر(ع)کا عہدِامامت ممتاز نظرآتا ہے۔


ولایت پورٹل:طائوس یمانی، قتادہ بن دعامہ  ابوحنیفہ اور دوسرے مشہور علماء دین جو امامت اور شیعیت سے الگ فکر رکھتے تھے جب انہوں نے امام(ع) کا علمی آوازہ وشہرہ سنا تو استفادہ اور مباحثہ و محادثہ کے لئے آپ(ع) کے پاس آجاتے ہیں۔ کمیت اسدی ایسا فصیح اللّسان اور فنکار شاعر کہ جس کے فن کا اہم شاہکار وہ قصیدے ہیں جو ہاشمیات کے نام سے مشہورہیں اور لوگوں کے ہاتھوں اور زبانوں پر ہیں، لوگوں کو آل محمدؐ کے حق، ان کے علمی فضل اور معنوی اقتدار سے آشنا کررہا ہے  دوسری طرف مروانی خلفاء، عبدالملک بن مروان (متوفی  ۸۶ہجری)کے بیس سالہ دورِ اقتدار کے بعد اور مخالفتوں کے سارے شعلوں کو بجھانے اور حریفوں کو کچلنے کے بعد اطمینان و سکون محسوس کررہے تھے اور چونکہ انہیں خلافت مالِ مفت کی طرح ملی تھی لہٰذا وہ اپنے اسلاف کی مانند اس کی قدر نہیں جانتے تھے اور کچھ ایسی سرگرمیوں میں مست رہتے تھے جو عام طور پر جاہ و جلال کا لازمہ ہوتی ہیں انہیں تشیّع کی کوئی فکر نہیں تھی، نتیجہ میں امام محمد باقر(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کسی حد تک ان کے عتاب سے محفوظ تھے۔
یکبارگی امامت اور تشیع کے حالات سازگار ہوگئے جس کا قہری طور پر نتیجہ یہ ہوا کہ امام محمد باقر(ع) نے اپنے دورِ امامت میں قدم آگے بڑھایا اور شیعی جدوجہد اورسعی و کوشش کو نقطۂ آخر سے قریب کیا، اسی وجہ سے امام محمد باقر(ع)کا عہدِامامت ممتاز نظرآتا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22