Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189314
Published : 29/8/2017 18:55

امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی خدمات

اگر شیعی روایات کو کتابوں میں خصوصاً کتب اربعہ میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان روایات میں سب سے زیادہ روایات حضرت امام محمد باقر اورحضرت امام جعفر صادق علیہما السلام کی ہیں،کیونکہ حقائق کی نشر واشاعت کا جو موقعہ ان دونوں بزرگوار اماموں کو ملا کسی دوسرے امام کو نہیں مل سکا۔


ولایت پورٹل:حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے میں حکومت وقت کے خلاف علم جہاد بلند کرنا ممکن نہیں تھا،ورنہ امام پر واجب ہو جاتا ہے کہ ظالمانہ نظام کا تختہ الٹ دیں اور اس زمانہ میں جن سادات علویہ نے اپنی طرف سے ایسا اقدام کیا وہ بنی امیہ کے ہاتھوں شہید کر دیئے گئے۔
البتہ علمی جہاد کے لیے کسی حد تک زمین ہموار تھی،اور اس کی نہایت اہم ضرورت بھی تھی چونکہ دربار سے وابستہ علماء کہ جن کا زیادہ تر شاہان وقت پر بھروسہ تھا اور ہر ایک نے از خود ایک مذہب گھڑ رکھاتھا،جس کی وجہ سے امت میں ہر طرف اختلاف  و انتشار پیدا ہو چکا تھا وہاں پر زیادہ تر لوگ گمراہی اور بے راہ روی کا شکار بھی ہو چکے تھے تو اس دور میں امام علیہ السلام نے علمی موشگافیاں کیں اور علم کو شگافتہ کیا،جس کی وجہ سے آپ کو «باقر العلوم» کہا جانے لگا۔جو لقب آپ کو حضور سرور کائنات(ص) نے عطا فر مایا تھا،اور جابر بن عبد اللہ نے آپ سے کہا:«یَا بَاقِرُ اَنْتَ الْبَاقِرُ حَقاَ اَنْتَ الَّذِی تَبْقُرُ الْعِلْمَ بَقْرا»۔
ترجمہ:اے امام باقر آپ ہی حقیقی معنی میں علم کے باقر ہیں اور آپ ہی علم کو کما حقہ ظاہر اور شگافتہ کرنے والے ہیں۔
اگر شیعی روایات کو کتابوں میں خصوصاً کتب اربعہ میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان روایات میں سب سے زیادہ روایات حضرت امام محمد باقر اورحضرت امام جعفر صادق علیہما السلام کی ہیں،کیونکہ حقائق کی نشر واشاعت کا جو موقعہ ان دونوں بزرگوار اماموں کو ملا کسی دوسرے امام کو نہیں مل سکا۔
شیعہ اور اہل سنت حضرات میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کسب فیض کیا ہے چنانچہ تاریخ نے  ایسے چار سو چونسٹھ (۴۶۴)راویوں  کا نام بتایا ہے کہ جنہوں نے آپ سے روایات نقل کی ہیں اور شیعہ رجال میں سے جن بزرگواروں کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔
ابان بن تغلب
ان کا تعلق کوفہ سے ہے حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام محمد باقر  اور حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام کی شاگردی کا شرف حاصل ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے آپ سے فرمایا:«اِجْلِسْ فِی مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِ وَاَفْتِ النَّاسَ».
ترجمہ:مسجد مدینہ  میں بیٹھو اور لوگوں کے مسائل حل کرو،میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ تمہارے جیسے لوگ ہمارے شیعوں میں دکھائی دیں۔
۲۔ برید بن معاویہ عجلی:
حضرت امام باقر اورحضرت امام جعفر صادق علیہما السلام کے اصحاب میں سے تھے،ان کا شمار اصحاب اجماع میں ہوتاہے یعنی علماء کی فہرست میں جس مسئلے میں آپ کا نام ہوگا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ علماء شیعہ کا اس پر اجماع ہے اور اس میں امام علیہ السلام کی شمولیت ہے چنانچہ ان کے متعلق ملتا ہے کہ جب ان کی وفات کی خبر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:«خدا کی قسم اللہ نے انہیں اپنے رسول(ص)اور امیر المومنین(ع) کے درمیان بلا لیاہے.
۳۔ ابو حمزہ ثمالی:
ان کا نام ثابت بن دینار ہے اور ماہ رمضان المبارک کی مشہور دعاؤں میں سے ایک دعا انہی کے نام سے مشہور ہے جسے«دعائے ابوحمزہ ثمالی» کہتے ہیں۔
۴۔ جابر بن یزید جعفی:
آپ کا تعلق کوفہ سے ہے اور فریقین کے علماء آپ کو قبول کر تے ہیں۔
۵۔ محمد مسلم کوفی ثقفی:
اصحاب اجماع میں شامل ہیں:«وَقَدْ اَجْمَعَتِ الْعِصَابَۃُ عَلٰی تَصْحِیْحِ مَایَصِحُّ عَنْہٗ ».
ترجمہ:علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ سے بیان ہونے والی ہر  روایت صحیح ہوتی ہے،آپ چار سال تک مدینہ منورہ میں رہے اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کسب فیض فرماتے رہے۔
۶۔ حمران بن اعین:
آپ کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:«حَمْرانُ مِنَ  الْمُؤمِنِینَ حَقاَ لَایَرْ جَعْ اَبَداَ».
ترجمہ:حمران ایسا پکا مؤمن ہے  کہ جو حق سے کبھی نہیں  پھرسکتا۔
۷۔ زرارہ بن اعین:
کا شمار مشہور شیعہ رجال میں ہوتا ہے۔
۸۔ عبد الملک بن اعین شیبانی:
حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہما السلام سے حدیث نقل کرتے تھے۔
چونکہ اختصار ملحوظ خاطر ہے  لہٰذا اس سے زیادہ کو ذکر نہیں کر سکتے اور ایسے اصحاب کی تعداد تقریباً تین سو بنتی ہے۔
ابن شہر آشوب اپنی کتاب مناقب میں لکھتے ہیں کہ:جابر بن عبد اللہ انصاری جیسے صحابہ رسول(ص)جابر بن یزید جعفی اور کیسان سختانی جیسے تابعین،ابن مبارک، زہری، اوزاعی، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور زیاد بن منذر جیسے فقہاء نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایات کو نقل کیا ہے۔
طبری، بلاذری، سلامی اور خطیب جیسے مصنفین نے بھی آپ سے روایات نقل کی ہیں۔
مؤطا امام مالک، شرف المصطفیٰ، حلیۃ الاولیاء،سنن ابی داود،مسند احمد،مسند مروزی، ترغیب اصفہانی بسیط واحدی، تفسیر نقاش، زمخشری، معرفۃ اصول الحدیث،اور رسالہ سمعانی غرض بہت سی کتابوں نے کہا ہے:قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِی ٍ ( محمد بن علی باقر یوں فرماتے ہیں)
اور کبھی کہتی ہیں:قَالَ مُحَمَّدُ نِ الْبَاقِر ( امام محمد باقر(ع) نے فرمایا)
یہ جو بتایا گیا ہے ایک نمونہ ہے ورنہ کلینی نے کافی میں جو سولہ ہزار تین سو ننانوے(۱۶۳۹۹ )  احادیث لکھی ہیں اگر اصل کتاب کی طرف رجوع کیا جائے کہ ان میں سے کتنی حدیثیں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی گئی ہیں؟اس کیلئے بہت بڑے حوصلے کی ضرورت ہے۔

چہاردہ معصومین علیہم السلام ص۵۷۲
تالیف: علامہ محمد علی فاضل ادام اللہ عزہ



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22