Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189371
Published : 2/9/2017 17:52

قرآن مجید کی نظر میں دنیا اور اس کی لذتیں

ظاہر ہے انسان چاہے یا نہ چاہے ،پسند کرے یا نہ کرے قرآن کی نظر سے مادی زندگی کی حقیقت گھاس سے زیادہ نہیں ہے۔ایسا سانحہ اس کے انتظار میں ہے،اگر یہ فرض کیا جائے کہ انسان کا اس دنیا سے استفادہ کرنا حقیقت بینی پر موقوف ہے نہ کہ خام خیالی پر اور انسان حقیقت کا انکشاف کرکے اپنی سعادت حاصل کرسکتا ہے نہ کہ وہمی فرض اور آرزؤں سے تو اسے حقیقت کو اپنا نصب العین قرار دینا چاہیئے اورتغافل سے کام نہیں لینا چاہیئے۔

ولایت پورٹل:اسلام کی رو سے انسان اور دنیا کے رابط میں جو چیز ناشائستہ اور ایک آفت و بیماری شمار ہوتی ہے اور اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس پر تنقید کی ہے وہ انسان کا دنیا سے دل لگانا اور وابستگی پیدا کرنا ہے نہ کہ علاقہ و ارتباط برقرار کرنا۔اور یہ انسان کا دنیا میں زندگی گزارنا ایک قیدی کی حیثیت سے ہے نہ کہ آزادی کی زندگی گزارنا،دنیا کو مستقل ٹھکانہ سمجھنا ہے نہ کہ وسیلہ و راستہ قرار دینا۔
اگر انسان اور دنیا کا تعلق و رابطہ انسان کی دنیا سے وابستگی اور اس کے طفیلی ہونے کی صورت میں برقرار ہوتا ہے تو انسان کی عالی اقدار کی نابودی کا سبب قرار پائے گا،انسان کی قدر و قیمت اس میں ہے کہ وہ اپنے مطلوبہ کمال کی جستجو کرتا رہے،ظاہر ہے کہ اگر بطور مثال انسان کا مقصد و مطلب شکم سیر ہونا ہے اور بس۔ تو اس کی تمام کوششیں اسی کے لئے ہوں گی اور اس کی نظروں میں سب کچھ پیٹ ہی ہوگا۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔
جس شخص کا مقصد پیٹ بھرنا ہی ہے تو اس کی قدر و قیمت پیٹ سے خارج ہونے والی چیز کے برابرہے۔
تمام کلمات اس سلسلہ میں ہیں کہ انسان کا دنیا سے کیسا تعلق اورکس نوعیت کا ارتباط ہونا چاہئے ۔اس کی شکل وصورت کی کیا کیفیت ہونی چاہیئے ؟ایک صورت میں انسان نابود اور قربان ہوجاتا ہے (قرآن کی تعبیر کے لحاظ سے مقصد سے ہٹ کر دوسری کمتر چیزوں کا متلاشی) اسفل السافلین ہوجاتا ہے۔دنیا کی پست ترین اور افتادہ ترین مخلوق بن جاتا ہے۔اس کی انسانی خصوصیات اور قدروقیمت تباہ ہوجاتی ہے اور دوسری شکل میں اس کے برعکس ،دنیا اور اس کی تمام چیزیں انسان پر قربان ہوجاتی ہیں اور اس کی خدمت گزار قرار پاتی ہیں اور پھر انسان اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرلیتا ہے۔
چنانچہ حدیث قدسی میں بیان ہوا ہے:
یَابْنَ آدَمَ خَلَقْتُ الْاَشْیَاءَ لِاَجْلِکَ وَخَلَقْتُکَ لِاَجْلِیْ
فرزند آدم! میں نے تمام چیزیں تیرے لئے پیدا کی ہیں اور تجھے اپنے لئے پیدا کیا ہے۔
اب کچھ مثالیں قرآن سے نقل کریں گے انسان کے دنیا سے رابطہ کے بارے میں آیات قرآنی کی دو قسمیں ہیں۔ایک قسم دوسری کے لئے مقدمہ وتمہید ہے،اور دوسری قسم اس کے نتیجہ کے حکم میں ہے ۔
آیتوں کے پہلے دستہ میں دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری ہے، اس نوعیت کی آیتوں میں مادیات کی بدلتی ہوئی حقیقت اور ناپائیداری پیش کی جاتی ہے ،مثلاً گھاس کی مثال پیش کی ہے کہ زمین سے اگتی ہے ،ابتداء میں ہری بھری ہوتی ہے ،بڑھتی ہے لیکن چند روز کے بعد زردی میں بدل جاتی ہے اور خشک ہوجاتی ہے اور ہوا اسے اکھاڑ پھینکتی ہے اور پراگندہ کردیتی ہے پھر فرماتا ہے:یہ ہے دنیاوی زندگی کی مثال!
ظاہر ہے انسان چاہے یا نہ چاہے ،پسند کرے یا نہ کرے قرآن کی نظر سے مادی زندگی کی حقیقت گھاس سے زیادہ نہیں ہے۔ایسا سانحہ اس کے انتظار میں ہے،اگر یہ فرض کیا جائے کہ انسان کا اس دنیا سے استفادہ کرنا حقیقت بینی پر موقوف ہے نہ کہ خام خیالی پر اور انسان حقیقت کا انکشاف کرکے اپنی سعادت حاصل کرسکتا ہے نہ کہ وہمی فرض اور آرزؤں سے تو اسے حقیقت کو اپنا نصب العین قرار دینا چاہیئے اورتغافل سے کام نہیں لینا چاہیئے۔
یہ آیتیں اس بات کی نقشہ کشی کررہی ہیں کہ مادیات کو کمال مطلوب اور معبود نہ بناؤ،انہیں آیات کے ساتھ ساتھ بلکہ ان کی ضمن میں فوراً ہی یہ لفظ بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ ائے انسان دوسری دنیا پائیدار ودائم ہے !یہ نہ سمجھو !کہ سب کچھ ہی رہ گزر (دنیا) ہے ،اسے مقصد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے،پس زندگی بے فائدہ اور حیات بیکار ہے !
اس قسم کی آیتوں کا دوسرا دستہ صاف وصریح طور پر انسان کے ارتباط والی شکل کو واضح کرتا ہے،ان آیتوں میں ہم صریحی طور پر دیکھتے ہیں کہ جس چیز کی مذمت ہوئی ہے وہ ناپائیدار اور وقتی تعلق ووابستگی قیدوبند والی چیزوںپرقناعت کرنا ہے،یہ آیات اس بحث میں قرآن کی منطق کو روشن کرتی ہیں:
اَلْمَالُ وَالْبَنُونَ زِیْنَةُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌاَمَلاً.(۱)
مال واولاد (تو) زندگانئی دنیا کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیاں پروردگار کے نزدیک ثواب اور امید دونوں کے اعتبار سے بہتر ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں اس آیت میں موضوع بحث وہ چیز ہے جو آرزؤں کی انتہا ہے،آرزوؤں کا منتہی وہ چیز ہے کہ جس کی خاطر انسان زندہ ہے اور اس کے بغیر زندگی بے معنی اور بیکار ہے۔
اَلَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ لِقَائَنَا وَرَضُوا بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ اَطْمَأَنُّوا بِھَا وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ آیَاتِنَا غَافِلُوْنَ۔(۲)
یقیناً جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہیں اور زندگانی دنیا پرراضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور جو لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں۔
اس آیت میں ناشائستہ نظریہ کی نفی ہوئی (یعنی دوسری زندگی کی توقع نہ رکھنا) اور مادیات ہی پر راضی وقانع ہوجانا ہے۔
فَاَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلّیٰ عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا،ذٰلِکَ مَبْلَغُھُمْ مِنَ الْعِلْمِ۔(۳)
جو شخص بھی ہمارے ذکر سے رو گردانی کرے اور دنیا کی زندگی کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ آپ بھی اس سے الگ ہوجائیں،یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔
وَفَرِحُوا بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَاالْحَیَاۃُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ اِلَّامَتَاعٌ۔(۴)
یہ لوگ صرف زندگانی دنیا پر خوش ہوگئے ہیں لیکن آخرت کے مقابلہ میں زندگانی دنیا صرف ایک وقتی لذت کا درجہ رکھتی ہے اور بس۔
یَعْلَمُوْنَ ظَاھِراً مِّنَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الْآخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُوْنَ۔(۵)
یہ لوگ صرف دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت کی زندگی سے بالکل بے خبر ہیں۔
بعض دوسری آیات سے بھی یہی مفہوم بخوبی سمجھ میں آتا ہے۔ ان تمام آیتوں میں انسان اور دنیا کے درمیان اس رابطہ کو ناشائستہ قرار دیا گیا اور اس کی نفی کی گئی ہے کہ جس میں انسان دنیا کو آرزؤں کی انتہا سمجھے اور اس پر راضی وقانع ہوکر اس میں اپنا آرام تلاش کرتا ہو۔یہ رابطہ کی وہ شکل ہے کہ جس میں انسان کو دنیا سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دنیا کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے اور انسانیت کے زمرہ سے نکالا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ کہف:۴۶۔
۲۔ سورہ یونس:۷۔    
۳۔سورہ نجم:۳۰۔
۴۔ سورہ رعد: ۲۶۔
۵۔ سورہ روم:۷۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18