Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189390
Published : 3/9/2017 17:14

نہج البلاغہ کی نظر میں دنیا اور اس کی لذتیں

قرآن و نہج البلاغہ اور دیگر تمام پیشوائوں کے کلمات میں غور و فکر کرنے سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ اسلام نے دنیا کی قیمت کو کم نہیں کیا ہے بلکہ انسان کی قیمت کو بڑھایا ہے،اسلام دنیا کو انسان کے لئے قرار دیتا ہے نہ کہ انسان کو دنیا کے لئے،اسلام کا مقصد اس کی قدروقیمت کو زندہ کرنا ہے نہ کہ دنیا کو بے قدرو قیمت بنانا ہے۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے گذشتہ روز،قرآن مجید کی نظر میں دنیا اور اس کی لذتوں کے متعلق تفصیلی طور پر روشنی ڈالی تھی،آج پھر اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی نظر میں دنیا اور اس کی لذتوں کا دائرہ کہاں تک ہے اور کس حد تک ہمیں اپنی زندگی میں دنیا کو اہمیت دینی چاہیئے،چونکہ دنیا کا حصول رضائے خدا کے لئے ہو تو پھر وہ دنیا دنیا نہیں بلکہ آخرت کی کھیتی بن جاتی ہے لیکن اگر انسان ریشم کے کیڑے کی طرح صرف مادیات میں الجھ جائے تو پھر اس کی زندگی بامقصد شمار نہیں ہوسکتی،آئیے کل کے کالم کو پڑھنے کے لئے اور اس موضوع پر قرآنی نقطہ نظر کو سمجھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
قرآن مجید کی نظر میں دنیا اور اس کی لذتیں
گذشتہ سے پیوستہ:نہج البلاغہ میں بھی قرآن کی پیروی میں مطالب کی یہی دوقسمیں ملتی ہیں ،پہلے دستہ میں زیادہ تر باریک بینی ،موشگافی،تشبیہات اور بلیغ کنایات واستعارات اور ایک موثر آہنگ کے ذریعہ دنیا کی بے ثباتی اور اس سے دل نہ لگانے کی تشریح ہوئی ہے اوردوسرے دستہ میں وہی نتیجہ نکالا گیا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔
آپ بتیسویں خطبہ کی ابتداء میں لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم فرماتے ہیں،اہل دنیا اور اہل آخرت،دنیا والے اپنی تربیت کے لحاظ سے چار حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں:
پہلا گروہ:ان لوگوں کا ہے جو آرام طلب اور گوسفند صفت ہیں،ان سے فریب کاری اور زور و زر سے تباہ کاری دیکھنے میں نہیں آتی ہے کہ ان کے پاس حیلہ اور فریب کاری نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے دل میں اس کی تمنا بھی نہیں ہے،حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر تباہی مچانے کی طاقت وقوت نہیں ہے۔
دوسرا گروہ:آرزومند امیدوار اور طاقت وقوت والوں کا ہے اور وہی کمرکو کس کے مال ثروت کو سمیٹتے ہیں یا قدرت وحکومت پر قابض ہوجاتے ہیں یا کسی شہر وغیرہ پر حملہ کردیتے ہیں اور دل کھول کر فساد پھیلاتے ہیں۔
تیسرا گروہ:گوسفند کی کھال میں (ملبوس) بھیڑیوں کا ہے،گندم نما جو فروش اہل دنیا ہے۔
لیکن اہل آخرت کی ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ وہ تقدس کی بناء پر گردن جھکائے رہتے ہیں،اپنے نپے تلے قدم اٹھاتے ہیں، لباس سمیٹے رہتے ہیں،ان کا یہ اظہار لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے اور امین بن جانے کے لئے ہوتا ہے۔
چوتھا گروہ:ان لوگوں کا ہے جو چودھری اور بڑا بننے کی حسرت میں زندگی گزارتے ہیں اور اس حسرت ویاس کی آگ میں جلتے رہتے ہیں لیکن احساس کم تری نے انھیں خانہ نشین کردیا ہے اور اس کی پردہ پوشی کے لئے انھوں نے زہد کا لباس پہن لیا ہے۔
حضرت علی(ع)ان چار گروہوں کو کہ جو وسائل کی فراہمی اور محرومیت کے اعتبار سے اور ان کی رفتار و کردار و احساسات کے لحاظ سے مختلف ہے ایک گروہ میں شمار کرتے ہیں۔
اہل دنیا کیوں؟اس لئے کہ وہ ایک خصوصیت میں مشترک ہیں وہ اس پرندہ کے مانند ہیں کہ جسے دنیا کے مادیات نے شکار کرلیا ہے اور اس کی قوت پرواز و رفتار چھین لی ہے  اس طرح کے لوگ غلام اور قیدی انسان ہیں۔
خطبہ کے آخر میں اہل آخرت کی توصیف فرماتے ہیں،اس گروہ کی توصیف کے ضمن میں فرماتے ہیں:وَبِئْسَ الْمَتْجَرُ اَنْ تَریٰ الدُّنْیَا لِنَفْسِکَ ثَمَناً۔(خطبہ :۳۲)
اور (بہت) بری تجارت ہے کہ تم اپنی شخصیت کو دنیا کے برابر سمجھ رہے ہو،دنیا کو اپنی انسانیت کے عوض خرید رہے ہو۔
یہ مضمون اسلام کے پیشواؤں کے کلمات میں بہت زیادہ ملتا ہے،اصل مسئلہ انسانیت کے تباہ ہونے کا ہے،انسانیت وہ (جوہر بے بہا )ہے کہ انسان کو چاہیئے اسے کسی قیمت پر بھی ہاتھ سے نہ جانے دے۔
امیر المؤمنین(ع)اپنی مشہوروصیت(کہ جو آپ نے امام حسن(ع) کو کی تھی اور وہ،نہج البلاغہ کے مکتوبات کا جزء ہے)میں فرماتے ہیں:اَکْرِمْ نَفْسَکَ عَنْ کُلِّ دَنِیَّةٍ، فَاِنَّکَ لَنْ تَعْتَاضَ بِمَا تَبْذُلُ مِنْ نَفْسِکَ ثَمَناً عِوَضاً۔
اپنے نفس کو پستیوں کی آلودگی سے محفوظ رکھو ،جس چیز کے عوض تم خود (اپنی قوت)کو صرف کروگے اس کی کوئی قیمت نہیں ملے گی۔
بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے حضرت علی(ع) کے حالات لکھنے کے بعد امام صادق(ع)کا قول نقل کیا ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:اُثَامِنُ مِنْ نَفْسِ النَّفِیْسَةِ رَبُّھَا وَلَیْسَ لَھَا فِی الْخَلْقِ کُلِّھِمْ ثَمَنٌ۔
دنیا میں جس چیز کو میں اپنے نفس کی قیمت سمجھتا ہوں وہ (رضائے) پروردگار ہے دوسری کوئی چیز نفس کی قیمت نہیں ہے۔
تحف العقول میں ہے:
امام زین العابدین(ع)سے سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ با عزت کون شخص ہے؟
فرمایا:جو پوری دنیا کو اپنی قیمت نہ سمجھے۔
اس مضمون کی بہت سی حدیثیں ہیں طوالت سے بچنے کے لئے ہم انھیں چھوڑ رہے ہیں۔
قرآن و نہج البلاغہ اور دیگر تمام پیشوائوں کے کلمات میں غور و فکر کرنے سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ اسلام نے دنیا کی قیمت کو کم نہیں کیا ہے بلکہ انسان کی قیمت کو بڑھایا ہے۔
اسلام دنیا کو انسان کے لئے قرار دیتا ہے نہ کہ انسان کو دنیا کے لئے،اسلام کا مقصد اس کی قدروقیمت کو زندہ کرنا ہے نہ کہ دنیا کو بے قدرو قیمت بنانا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16