Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189411
Published : 4/9/2017 16:54

کسی گناہ کو چھوٹا سمجھنا ہی گناہ کبیرہ ہے

اس بناء پر انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کون سا گناہ کیا ہے ؛گناہ کبیرہ انجام دیا ہے یا گناہ صغیرہ،بلکہ اسے خداوندعالم کی عظمت کو نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیئے کہ اس نے کس کے حضور گناہ کیا ہے۔اگر اس نے ایسا نہ کیا تو یہی چھوٹے چھوٹے گناہ اس کے قلب کو تاریک کرکے اسے توفیق توبہ سے روک دیں گے۔

ولایت پورٹل:دینی تعلیمات کے پیش نظر علماء اخلاق نے گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں،گناہ صغیرہ و گناہ کبیرہ؛اور پھر گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ دونوں کی الگ الگ تعریفیں اور معیار بیان کئے ہیں،چنانچہ گناہ کبیرہ کے متعلق بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ ہر وہ گناہ کہ قرآن یا روایات میں  جس کے ارتکاب پر وعدہ عذاب بیان ہوا ہو؛جیسا کہ نفس محترمہ کو قتل کرنا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:«وَ مَنْ یَقْتُل مُوْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاوُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِیها [نساء/93]  اگر کوئی جان بوجھ کر کسی مؤمن کو قتل کردے اسکی سزا جھنم ہے در حالیکہ وہ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔
لیکن کچھ دیگر گناہ ایسے ہیں کہ جن کے مرتکب ہونے والےکو وعدہ عذاب تو نہیں دیا گیا لیکن تکرار کو منع کیا گیا ہے چونکہ ان گناہوں کی تکرار ہی گناہ کبیرہ کا روپ اختیار کرلیتی ہے،مثلاً سود خوری وغیرہ۔
اس لحاظ سے کسی گناہ کا کبیرہ ہونا یا صغیرہ ہونا ایک نسبی چیز نہیں ہے بلکہ یہ دونوں اقسام الگ الگ ہیں اور ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک گناہ صغیرہ بھی ہو اور کبیرہ بھی۔
لیکن ایک ایسا مقام کہ جہاں گناہ صغیرہ گناہ کبیرہ میں تبدیل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی گناہ کو چھوٹا تصور کرے۔چنانچہ ایک روایت میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے وارد ہوا ہے«قالَ عليه السلام: مِنَ الذُّنُوبِ الَّتى لا يُغْفَرُ قَوْلُ الرَّجُلِ: لَيْتَنى لا أُؤاخِذُ إلاّ بِهذا».(بحارالا نوار، علامه مجلسی، ج 50، ص 250، ح 4)
وہ گناہ جو بخشا نہیں جاتا وہ انسان کا یہ کہنا ہے:اے کاش! مجھے اسی مخالفت کی سزا مل جاتی(یعنی در واقع اس کی نگاہ میں گناہ بہت چھوٹا ہے کہ جس کی اسے سزا نہیں ملی ہے)۔
اس بناء پر انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کون سا گناہ کیا ہے ؛گناہ کبیرہ انجام دیا ہے یا گناہ صغیرہ،بلکہ اسے خداوندعالم کی عظمت کو نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیئے کہ اس نے کس کے حضور گناہ کیا ہے۔اگر اس نے ایسا نہ کیا تو یہی چھوٹے چھوٹے گناہ اس کے قلب کو تاریک کرکے اسے توفیق توبہ سے روک دیں گے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21