Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189437
Published : 5/9/2017 16:54

فتح فدک اور عطائے فاطمی(س)

۱۴ ذی الحجہ سن ۷ ہجری کو رسول خدا(ص) نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت صدیقہ طاہرہ کو فدک بخشا جسے بعد میں غصب کرلیا گیا۔

ولایت پورٹل:سن ۷ ہجری میں خیبر کی فتح کے بعد،پیغمبر اکرم(ص)کی وفات سے تقریباً ۴ سال پہلے، جبرئیل امین نازل ہوئے اور اللہ کی طرف سے فدک کو فتح کرنے کا حکم لے کر آئے لہذا رسول اللہ(ص) حضرت امیر(ع) کے ہمراہ رات کے وقت ضروری اسلحہ کے ساتھ فدک کی طرف روانہ ہوئے، حکم خدا کی تعمیل میں رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) کو اپنے کندھوں پر بلند کیا ،الہی معجزہ سے حضرت قلعہ فدک کی دیورار پر چڑھ گئے اور صدائے تکبیر بلند کی۔
قلعہ فدک کے یہودیوں نے یہ گمان کیا کہ مسلمانوں نے حملہ کردیا ہے اور سب دیواروں پر موجود ہیں لہذا راہ فرار کے لئے دروازہ قلعہ کا انتخاب ناگزیر تھا اب جیسے ہی باہر نکلے پیغمبر اکرم(ص) دروزہ قلعہ پر موجود تھے اور اسی اثناء میں علی علیہ السلام بھی دیوار سے نیچے اتر آئے،اب ان کی طرف سے حملہ کیا گیا اس درگیری میں یہودیوں کے ۱۸ لوگ مارے گئے لہذا باقی دوسرے تسلیم ہوگئے۔
اہل فدک کے لئے رسول اللہ(ص) کا یہ حکم عام ہوا کہ ان میں سے جو مسلمان ہوجائے اس کے مال کا خمس لے لیا جائے اور جو دین یہود پر باقی رہے اس کے تمام اموال کو ضبط کرلیا جائے لہذا اس طرح مسلمانوں کی دخالت کے بغیر ہی قلعہ فدک فتح کرلیا گیا،اور سورہ حشر کی اس آیت کی رو سے جو سرزمین مسلمانوں کی لشکر کشی کے بغیر فتح ہو یا کسی علاقہ کے لوگ خود بخود تسلیم ہو جائیں تو ایسے غنائم اور اسراء رسول خدا(ص) کی خاص ملکیت ہے آپ اسے جہاں خرچ کرنا چاہیں کرسکتےہیں،اس میں عام مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہے۔
رسول خدا(ص) کا فاطمہ(س) کو فدک عطا کرنا
اس واقعہ کے بعد جبرئیل نازل ہوئےاور پیغمبر اکرم(ص) کے سامنے اس آیت کی تلاوت  فرمائی:«و آت ذا القربى حقه»اپنے قریبی افراد کا حق انھیں دیدیجئے!پیغمبر اکرم(ص) نے سوال کیا:ان سے کون لوگ مراد ہیں؟تو جبریل نے باذن خدا جواب دیا:یا رسول اللہ(ص) فدک فاطمہ(س) کو دیدیجئے!
حضرت نے شہزادی کو بلا کر فدک ان کے سپر د کردیا! اور فرمایا:فاطمہ!خدا نے تمہارے باپ کو فدک دیا ہے اور مجھے مامور کیا ہے کہ میں تمہیں فدک عطا کردوں لہذا یہ آج سے تمہاری اور تمہاری اولاد کی ملکیت ہے۔
شہزادی کونین(ع) نے عرض کیا:بابا جان!جب تک آپ حیات ہیں آپ میرے اور میرے مال کے مختار ہیں!
حضرت(ص) نے فرمایا:میری بیٹی میری حیات میں تمہارا اس ملکیت میں تصرف نہ کرنا کہیں میرے بعد نااہلوں کے لئے یہ بہانہ نہ بن جائے کہ وہ ایک دن تمہیں اس مال سے بے دخل کردیں
شہزادی کونین(س) نے فرمایا:بابا جان! آپ کو جیسے مناسب لگے عمل کیجئے!
اسی وقت رسول اسلام(ص) نے علی(ع) کو طلب کیا اور فرمایا:یا علی! تم فدک کو میری بخشش کے طور پر فاطمہ کے لئے تحریر کردو!
علی نے وہ تحریر لکھی اور خود سرکار رسالتمآب اور ام ایمن نے اس رقعہ پر اپنی شھادت و گواہی کی مہر ثبت کی۔
فدک کی در آمد
رسول خدا(ص) نے یہ وثیقہ لکھنے کے بعد لوگوں کو حضرت زہرا(س) کے گھر میں جمع کیا اور انھیں یہ خبر دی  کہ آج سے فدک فاطمہ کی ملکیت ہے اور اس کی در آمد عطائے فاطمی کے طور پر ضرورتمندوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
اہل تاریخ کے درمیان فدک کی آمدنی کے متعلق اختلاف پایا جاتا ؛بعض مورخین نے فدک کی سالانہ آمدنی ۷۰ ہزار سونے کے سکے جبکہ بعض نے ایک لاکھ بیس ہزار سکے نقل کی ہے،غرض!مدینہ کے سینکڑوں ضرورت مند و یتیم اس عطائے فاطمی کے منتظر رہتے تھے۔
غصب فدك
لیکن افسوس! رحلت رسول خدا(ص) کے بعد ابوبکر کے کارندوں نے شہزادی کونین (س) کے مامور کو فدک سے نکال دیا اور اس کی تمام آمدنی غاصبانہ طور پر حکومت کے تصرف میں لے لی۔
حضرت صدیقہ طاہرہ(س) وہی سند کہ جسے حکم رسول(ص) سے علی(ع) نے تحریر کیا تھا دربار میں لائیں لیکن اس نے نہ سند کو قبول کیا اور نہ ہی گواہوں کی گواہی کو۔
اس واقعہ کے کچھ دن بعد شہزادی مخدرات بنی ہاشم کے ہمراہ مسجد میں تشریف لائیں اور اپنا وہ معرکۃ الآراء خطبہ ارشاد فرمایا کہ جسے خطبہ فدکیہ کہا جاتا ہے،لہذا مجبور ہوکر ابوبکر نے ایک تحریر شہزادی کے سپرد کی جس میں فدک کو شہزادی کی طرف لوٹانے کا حکم تھا،ابھی آپ دربار سے نکل رہی تھیں کہ عمر نے شہزادی کے ہاتھ سے لیکر وہ نوشتہ پھاڑ دیا اس طرح کائنات میں اس نے اپنی رسوائی کی تاریخ رقم کی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18