Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189448
Published : 6/9/2017 14:42

قطر نے آل سعود کو بتائی ان کی اوقات

قطر نے سعودی عرب کی سربراہی میں 4 عرب ممالک کی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے7.4 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک نئی بندرگاہ بنالی ہے جس کے نتیجے میں 4 عرب ممالک کی اقتصادی پابندیاں غیرمؤثر ہوجائیں گی اس طرح قطر نے سعودی عرب کو اس کی اوقات دکھا دی ہے۔

ولایت پورٹل:الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق قطر نے سعودی عرب کی سربراہی میں 4 عرب ممالک کی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے7.4 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک نئی بندرگاہ بنائی ہے جس کے نتیجہ میں 4 عرب ممالک کی اقتصادی پابندیاں غیرمؤثر ہوجائیں گی اس طرح قطر نے سعودی عرب کو اس کی اوقات دکھا دی ہے۔
قطر کی اہم درآمدات کا مرکز حماد پورٹ دسمبر میں فعال ہوا تھا جو عرب ہمسائیہ ممالک کی جانب سے بری ،بحری اور فضائی راستوں پر پابندی  لگانے سے شدید متاثر ہوا تھا،قطر کے وزیر ٹرانسپورٹ جاسم بن سیف السلیطی نے پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:قطر پر لگائی جانے والی قدغنوں کو توڑنے کے لیے یہ مرکز اہم ہے اور کوئی بھی ہمیں اور ہمارے ارادوں کو نہیں روک سکتا۔
قطری امیرشیخ تمیم بن حمد آل ثانی عرب ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اس خاص سرکاری تقریب میں شریک ہوئے تاہم انھوں نے خطاب نہیں کیا،پورٹ کی افتتاحی تقریب میں بینڈ اور آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا گیا جس کو ٹیلی ویژن کے اسٹیشنوں سے براہ راست نشر کیا گیا،قطر کی جانب سے اس بھرپور تقریب کا انعقاد پڑوسی ممالک کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کو چیلنج کرنے کا واضح اشارہ ہے،سرکاری رپورٹ کے مطابق حماد پورٹ قطر کا سب سے بڑا پورٹ ہوگا جہاں 150 ممالک کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے رسائی دی جائے گی،واضح رہے کہ رواں سال 5 جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی معاونت کا الزام دیتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ قطر نے تمام الزامات کو رد کردیا تھا،قطر کو سعودی عرب کی بربریت اور جارحیت سے بچانے کے لئے ترکی اور ایران سامنے آگئے جس کے بعد سعودی عرب کے قطر کے خلاف ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16