Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189480
Published : 7/9/2017 15:43

امام علی نقی(ع) کا بچپن اور علم لدنی

اے خدائے پاک وپاکیزہ ومنزہ!!جنیدی نے اہل بیت(ع)کے متعلق اپنے دل سے بغض وکینہ و حسد وعدوات کو نکال کر پھینک دیا اور ان کی محبت و ولایت کادم بھرنے لگا۔اس چیزکی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں بیان کی جاسکتی کہ مذہب تشیع کاکہنا ہے کہ خدا نے ائمۂ طاہرین (ع) کو علم وحکمت سے آراستہ کیا اور ان کو وہ فضیلت و بزرگی عطاکی جودنیامیں کسی کونہیں دی ہے۔


ولایت پورٹل:حضرت امام علی نقی(ع) اپنے عہد طفولیت میں بڑے ذہین اور ایسے عظیم الشان تھے جس سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں،یہ آپ کی ذکاوت کا ہی اثر تھا کہ معتصم عباسی نے امام محمد تقی(ع) کو شہید کرنے کے بعد عمر بن فرج سے کہا کہ وہ امام علی نقی(ع) جن کی عمر ابھی چھ سال اور کچھ مہینے کی تھی ان کے لئے ایک معلم کا انتظام کر کے یثرب بھیج دے۔ اس کو حکم دیا کہ وہ معلم اہل بیت(ع)سے نہا یت درجہ کا دشمن ہو، اس کو یہ گمان تھا کہ وہ معلم امام علی نقی(ع)کو اہل بیت(ع)سے دشمنی کرنے کی تعلیم دے گا لیکن اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ائمہ طاہرین بندوں کے لئے خدا کا تحفہ ہیں جن کو اس نے ہرطرح کے رجس و پلیدی سے پاک قراردیا ہے۔
جب عمر بن فرج یثرب پہنچا اس نے وہاں کے والی سے ملاقات کی اور اس کو اپنا مقصد بتایا تو اس نے اس کام کے لئے جنیدی کا تعارف کرایا چوںکہ وہ علوی سادات سے بہت زیادہ بغض و کینہ اور عداوت رکھتا تھا۔ اس کے پاس نمائندہ بھیجا گیا جس نے معتصم کا حکم پہنچایا تو اس نے یہ با ت قبول کر لی اور اس کے لئے حکومت کی طر ف سے تنخواہ معین کر دی گئی اور جنیدی کو اس امر کی ہدا یت دےدی گئی کہ ان کے پاس شیعہ نہ آنے پائیں اور ان سے کوئی رابطہ نہ کرپائیں، وہ امام علی نقی(ع) کو تعلیم دینے کے لئے گیا لیکن امام کی ذکاوت سے وہ ہکا بکا رہ گیا،محمد بن جعفر نے ایک مر تبہ جنیدی سے سوال کیا:اس بچہ (یعنی امام علی نقی)کا کیا حال ہے جس کو تم ادب سکھا ر ہے ہو ؟
جنیدی نے اس کا انکار کیا اور امام(ع) کے اپنے سے بزرگ و برتر ہونے کے سلسلہ میں یوں گویا ہوا:کیا تم ان کو بچہ کہہ رہے ہو؟!!اور ان کو سردار نہیں سمجھ ر ہے ہو، خدا تمہاری ہدا یت کر ے کیا تم مدینہ میں کسی ایسے آدمی کو پہچانتے ہو جو مجھ سے زیادہ ادب و علم رکھتا ہو؟
اس نے جوا ب دیا :نہیں
سنو !خدا کی قسم جب میں اپنی پوری کو شش کے بعد ان کے سا منے ادب کا کوئی باب پیش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں جن سے میں مستفید ہوتا ہوں،سنو! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں ان کو تعلیم دے رہا ہوں لیکن خدا کی قسم میں خود ان سے تعلیم حاصل کررہا ہوں۔
زمانہ گذرتا رہا، ایک روز محمد بن جعفر نے جنیدی سے ملاقا ت کی اور اس سے کہا :اس بچہ کا کیا حال ہے ؟
اس با ت سے اس نے پھر نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور امام(ع)کی عظمت کا اظہارکرتے ہوئے کہا :کیا تم اس کو بچہ کہتے ہو اور بزر گ نہیں کہتے؟ جنیدی نے ایسا کہنے سے منع کرتے ہوئے اس سے کہا:ایسی بات نہ کہو خدا کی قسم وہ اہل زمین میں سب سے بہتر اور خدا کی مخلوق میں سب سے بہترہیں،میں نے بسا اوقات ان کے حجرے میں حاضر ہوکر ان کی خدمت میں عرض کیا!یہاں تک کہ میں ان کو ایک سورہ پڑھاتا تو وہ مجھ سے فرماتے:تم مجھ سے کون سے سورہ کی تلاوت کروانا چاہتے ہو؟تومیں ان کے سامنے ان بڑے بڑے سوروں کا تذکرہ کرتا جن کو انھوں نے ابھی تک پڑھا بھی نہیں تھا تو آپ جلدی سے اس سورہ کی ایسی صحیح تلاوت کرتے جس کو میں نے اس سے پہلے نہیں سنا تھا،آپ(ع) داؤدکے لحن سے بھی زیادہ اچھی آواز میں اس کی تلاوت فرماتے ،آپ قرآن کریم کے آغاز سے لے کر انتہا تک کے حافظ تھے،آپ کو سارا قرآن حفظ تھا اورآپ اس کی تاویل اور تنزیل سے بھی واقف تھے۔
جنیدی نے مزیدیوں کہا:اس بچہ نے مدینہ میں کالی دیواروں کے مابین پرورش پائی ہے اس علم کبیر کے مخزن کو کون تعلیم دے گا؟اے خدائے پاک وپاکیزہ ومنزہ!!جنیدی نے اہل بیت(ع)کے متعلق اپنے دل سے بغض وکینہ و حسد وعدوات کو نکال کر پھینک دیا اور ان کی محبت و ولایت کادم بھرنے لگا۔اس چیزکی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں بیان کی جاسکتی کہ مذہب تشیع کاکہنا ہے کہ خدا نے ائمۂ طاہرین (ع) کو علم وحکمت سے آراستہ کیا اور ان کو وہ فضیلت و بزرگی عطاکی جودنیامیں کسی کونہیں دی ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10