Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189484
Published : 7/9/2017 17:38

کامیاب شادی میں عمر کا فاصلہ

شادی دو انسانوں اور انھیں کی وساطت سے دو خاندانوں کے درمیان ایک مقدس رابطہ ہے جس کے اصلی اجزاء شوہر اور بیوی ہوتے ہیں،اب ان دونوں کے درمیان جتنی چیزوں میں مناسبت اور مشارکت پائی جائے اتنا ہی ان دونوں کے درمیان یہ رابطہ گہرا،عمیق،محکم و مستحکم ہوگا چونکہ تحقیقات کے پیش نظر بیوی اور شوہر کے درمیان اکثر اختلاف اور چقلش کی اصل وجہ ان کے درمیان تناسب اور ھماہنگی کا نہ ہونا ہے،لہذا شادی سے پہلے ایسے امور کے متعلق معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے جو ازدواجی زندگی میں تناسب اور ھماہنگی کا سبب قرار پاتی ہیں،چنانچہ میاں اور بیوی کے درمیان عمر کا مناسب فاصلہ بھی انھیں چیزوں میں سے ایک ہے۔


ولایت پورٹل:شادی کرنا اور گھر گھرستی کو آباد کرنا انسان کی زندگی کا سب سے حساس اور تقدیر ساز مرحلہ ہوتا ہے،لہذا اس نازک وادی میں قدم زن ہونے سے پہلے ضروری معلومات،دقت نظری،ہوشیاری اور باتجربہ افراد سے مشورہ ایک ناگزیر امر ہے چونکہ اس مرحلہ میں غفلت،بے توجہی اور اشتباہ ایک طولانی عمر پشیمانی ،رنج و ملال کا سبب بن سکتاہے۔
شادی کی بنیاد جذبات،احساسات اور جلد ختم ہونے والے عواطف پر موقوف نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کو عقلانی اور منطقی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیئے۔(۱)ہمسفر کا انتخاب ان صحیح معیاروں پر  ہونا چاہیئے کہ جو استحکام و ثبات قدمی کا ضامن ہوں۔(۲)چنانچہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی شادیوں میں صحیح معیارات کا لحاظ نہ کرنا اور سنجیدگی سے اس مرحلہ پر غور نہ کرنا جلد ہی میاں بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بن جاتا ہے۔لہذا یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان عمر کا فاصلہ کتنا ہونا چاہیئے؟اس کا صحیح معیار و ملاک کیا ہے؟
تو اس کے جواب یہ ہے کہ:شادی دو انسانوں اور انھیں کی وساطت سے دو خاندانوں کے درمیان ایک مقدس رابطہ ہے جس کے اصلی اجزاء شوہر اور بیوی ہوتے ہیں،اب ان دونوں کے درمیان جتنی چیزوں میں مناسبت اور مشارکت پائی جائے اتنا ہی ان دونوں کے درمیان یہ رابطہ گہرا،عمیق،محکم و مستحکم ہوگا چونکہ تحقیقات کے پیش نظر بیوی اور شوہر کے درمیان اکثر اختلاف اور چقلش کی اصل وجہ ان کے درمیان تناسب اور ھماہنگی کا نہ ہونا ہے،لہذا شادی سے پہلے ایسے امور کے متعلق معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے جو ازدواجی زندگی میں تناسب اور ھماہنگی کا سبب قرار پاتی ہیں،چنانچہ میاں اور بیوی کے درمیان عمر کا مناسب فاصلہ بھی انھیں چیزوں میں سے ایک ہے۔
اپنی زندگی میں ہمسفر کے انتخاب میں دو طرح کےمعیارات اور ملاکات کو پیش نظر رکھنا چاہیئے:
الف)اصلی اور حقیقی معیار:جو چیزیں ایک مشترکہ زندگی میں کمال تک پہونچنے میں مددگار ہوتی ہیں،اور شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے میں مؤثر ہوتی ہیں انھیں اصلی اور حقیقی معیار کہا جاتا ہے۔اور وہ درج ذیل ہیں:
دینداری،اخلاق،نجابت و اصالت،صحت و سلامتی۔
ب)فرعی اور جنبی معیار:جیسے عمر میں تناسب،خوبصورتی میں تناسب،تناسب علمی،ثقافتی،و اقتصادی وغیرہ۔(۳)
پس شوہر و بیوی کے درمیان عمر کا لحاظ اور اس میں تناسب بھی کامیاب شادی کا ایک معیار و ملاک ہے،لڑی اور لڑکے کے درمیان بہتر ہے کہ ۴ برس سے زیادہ کا فاصلہ نہ ہو،مگر یہ کہ دوسرے شرائط اس حد تک ایک دوسرے کے لئے مناسب ہوں کہ جن کے پیش نظر اس فاصلہ کو نظر انداز کرکے اپنے ھم سن و سال سے بھی شادی کی جاسکتی ہے،بہر حال شادی میں مناسب عمر کا فاصلہ ایک اہم نقطہ ہے۔(۴)
لیکن ہمیں  ہدایت کے جیالوں سے کچھ نور اور ہدایت لینی چاہیئے تاکہ یہ موضوع ہماری سمجھ میں آجائے چنانچہ صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:انما المراة قلادة فانظر ما تتقلد۔(۵)
بےشک عورت ایک گلوبند ہے پس تم یہ دیکھو کہ کیسا گلوبند اپنے لئے انتخاب کررہے ہو۔
قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم: تزوجوا الابکار فانهن اعذب افواها و ارتق ارحاما و اسرع تعلما و اثبت للمودة۔(۶)
رسول خدا (ص) کا ارشاد ہے:باکرہ لڑکیوں سے شادی کرو!چونکہ ان کے دہن خوشبو دار اور ان کے رحم تولید کے لئے مناسب ہوتے ہیں،اور وہ جلد ہی کسی چیز کو سیکھ لیتی ہیں اور ان کی محبت پایدار ہوتی ہے۔
اور اسی طرح حضرت نے ارشاد فرمایا:ایّاکم و خضراء الدّمن. قیل یا رسول اللَّه و ما خضراء الدّمن قال المرأة الحسناء فی منبت سوء۔(۷)
کوڑے کے ڈھیر پر اگے سبزہ سے پرہیز کرو! آپ سے سوال کیا گیا:یا رسول اللہ(ص) اس سے آپ کی مراد کیا ہے؟ فرمایا:ایک برے خاندان میں پلی بڑھی خوبصورت عورت!
نتیجہ:اگرچہ عمر کا اختلاف و فرق بیولوجی اعتبار سے بہت اہم مانا جاتا ہے لیکن اسلام نے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ انسان کا دین،اخلاق،سیرت اور کردار ہے جس کے سبب انسان مشترکہ زندگی کے کمال تک پہونچ سکتا ہے اگر شوہر کو بیوی باایمان مل جائے اور اسی طرح اگر کسی بیوی کو شوہر مؤمن،اور دیندار مل جائے اب چاہے عمر کا فاصلہ کتنا بھی ہو تو وہ ایک دوسرے کی عزت کریں گے ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے،اور دونوں کندھے سے کندھا ملا کر مقصد تخلیق تک پہونچ جائیں گے جیسا کہ جب علی(ع) کی شادی ہوئی اور حضرت زہرا(ع) شیر خدا کے یہاں دلہن بن کر آئیں اگلے دن سب سے پہلا سوال اللہ کے رسول(ص) نے علی(ع) سے یہ پوچھا:یا علی! تم نے فاطمہ کو کیسا پایا؟
علی علیہ السلام نے بصد احترام جواب دیا:میں نے فاطمہ(س) کو عبادت خدا میں اپنا سب سے بڑا معاون پایا۔
یہ ہے مشترکہ زندگی کا کمال کہ شوہر بیوی کو عبادت میں معاون پائے اور بیوی شوہر کو اللہ کی طرف راغب رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔علی قائمی، نظام حیات خانواده در اسلام، چ هشتم، قم، انجمن اولیاء و مربیان، 1382، ص 74.
۲۔محمد علی صفری، زن و شوهر، چ دوم، نشر هاشمی نژاد، 1373، ص 11.
۳۔علی اکبر مظاهری، جوانان و انتخاب همسر، قم، انتشارات پارسایان، 1380، ص 106 و 134.
۴۔مروری بر مشکلات ناشی از تفاوت سنی زیاد زوجین، واحد مشاوره و راهنمایی، ناشر مؤسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی، قم.
۵۔ وسائل الشیعه، ج 20، ص 33
۶۔بحار الانوار، ج 103، ص 237
۷۔ بحار جلد 23 صفحه 54     




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16