Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189510
Published : 10/9/2017 16:59

حدیث غدیر خود علی(ع) کی زبانی

امیر المؤمنین(ع) نہج البلاغہ کے ۶ خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:خدا کی قسم! جب سے پیغمبر اکرم(ص) نے رحلت فرمائی ہے لوگوں نے میرا مسلم حق مجھ تک نہیں پہونچنے دیا ہے۔


ولایت پورٹل:اس دعوی کے لئے سب سے محکم دلیل کہ حدیث غدیر میں لفظ مولا ولایت اور حاکمیت کے معنی میں ہیں،خود آئمہ اہل بیت(ع) کا مخالفین غدیر کے سامنے اس حدیث سے استدلال کرنا ہے اور خود علی علیہ السلام نے بھی اسی حدیث سے کئی جگہ استدلال فرمایا ہے چنانچہ:
۱۔حادثہ سقیفہ کے بعد حضرت امیر علیہ السلام حضرت زہرا(س) کے ہمراہ انصار کے گھروں میں جاتے تھے اور لوگوں سے نصرت طلب فرماتے تھے اور واقعہ غدیر کی یاد دہانی کراتے تھے۔
۲۔جب عمر نے خلافت کو ۶ رکنی کمیٹی کے درمیان چھوڑا اور حضرت علی(ع)  کو بھی ان میں سے ایک قرار دیا،تو آپ نے شوری کے باقی ارکان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ،کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کے لئے رسول اللہ(ص) نے من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ فرمایا ہو؟تو سب نے جواب دیا: نہیں!
۳۔خطبہ شقشقیہ (نہج البلاغہ کا تیسرا خطبہ) اگرچہ آپ نے یہ خطبہ اپنے ظاہری دور خلافت میں ارشاد فرمایا ہے،لیکن آپ نے اس میں یہ بیان فرمایا کہ آپ سے پہلے تین خلیفہ،کیسے خلافت تک پہونچے،اور اس میں آپ نے اپنی مظلومیت کو بھی برملا فرمایا ہے۔
۴۔امیر المؤمنین(ع) نہج البلاغہ کے ۶ خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:خدا کی قسم! جب سے پیغمبر اکرم(ص) نے رحلت فرمائی ہے لوگوں نے میرا مسلم حق مجھ تک نہیں پہونچنے دیا ہے۔
حوالہ:
براهین و نصوص امامت، علی ربانی گلپایگانی، نشر رائد، قم 1390، چاپ اول، ص274.


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20