Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189532
Published : 11/9/2017 16:23

مولانا ناصر حسین جونپوری

مولانا ابتداء میں معقولات کا درس دیا کرتے تھے لیکن آخرمیں نحو و ادب و فقہ پڑھانے لگے تھے،طلباء کو اولاد جانتے تھے،ان کی مکمل کفالت کرتے تھے،جھوٹ سے نفرت تھی جو طالب علم ایک مرتبہ جھوٹ بولتا تھا اسے تین دن تک نہیں پڑھاتے تھے،لیکن اگر کوئی قصوروار اقرار جرم کرلیتا تو اسے معاف کردیتے تھے۔


ولایت پورٹل:مولانا الحاج سید ناصر حسین بن مولانا سید مظفر حسین صاحب ملا محمد حفیظ مفتی جونپور کی ساتویں پشت سے تھے،ترویج دین،اعانت مساکین،ہدایت اخلاق،تعلیم و تدریس میں بے مثال تھے،آپ کے درس میں بکثرت طلاب آتے اور عموماً بہت جلد با استعداد ہوجاتے تھے،ابتداء میں معقولات کا درس دیا کرتے تھے لیکن آخرمیں نحو و ادب و فقہ پڑھانے لگے تھے،طلباء کو اولاد جانتے تھے،ان کی مکمل کفالت کرتے تھے،جھوٹ سے نفرت تھی جو طالب علم ایک مرتبہ جھوٹ بولتا تھا اسے تین دن تک نہیں پڑھاتے تھے،لیکن اگر کوئی قصوروار اقرار جرم کرلیتا تو اسے معاف کردیتے تھے۔
سادہ لباس زیب تن فرماتے تھے،صرف منبر پر جاتے تو عبا پہن لیتے تھے،تکلف و تصنع سے نفرت تھی۔
وفات
۱۴ رجب سن ۱۳۱۳ ہجری کو رحلت فرمائی اور اپنے خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔
قلمی آثار
۱۔رونق الصلاۃ
۲۔رشق النبال(اردو مناظرہ)
۳۔ایجاز التجرید فی آیۃ التطھیر
۴۔حل الضابط(شرح تہذیب المنطق اردو)
۵۔شرح زبدۃ الاصول
۶۔ناصر الادب
۷۔مناظرہ فقر و غنا(عربی)
۸۔علم الادب فی محاورات العرب
۹۔کتاب مبسوط در فضائل و مصائب
۱۰۔رد اخباریت
۱۱۔میلاد شریف
۱۲۔بیان نجاست مشرکین



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20