Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189542
Published : 11/9/2017 18:19

اسی دنیا میں جنت کی تعمیر؛بندگی کا مقصد

خداوند عالم نے قرآن مجید میں اپنے بندوں سے وعدہ قبولیت دعا کیا ہے لہذا تکبر کرنا اور اپنے کو اس سے بے نیاز سمجھنا انسان کو دوزخ میں لے جانے کا سبب ہے،لہذا انسان کو ہمیشہ اللہ سے لو لگانی چاہیئے اور ہمیشہ اس کے کرم اور فیض کی دعا کرنی چاہیئے چونکہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔


ولایت پورٹل:خداوندعالم یہ چاہتا ہے کہ ہم سب بہشت  میں جائیں،اور ہم میں سے ایک فرد بھی جہنم میں نہ جائے،لیکن کیا کیا جائے کہ کرہ زمین پر رہنے والے لوگ اللہ کی اس منشاء کو نہیں سمجھتے،چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:«ان الله لا یرضی لعباده الکفر»؛اس فرمان کی حقیقت یہ ہے کہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ کوئی بھی انسان جہنم میں نہ جائے،بلکہ سب جنت میں جائیں یہی اللہ کا ارادہ تشریعی ہے۔
آئمہ معصومین(ع) کی معرفت اتنی بلند ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی بنیادوں کو انہیں ستون پر تعمیر کیا ہوا ہے لہذا کبھی زندگی کی عمارت خراب نہیں ہوسکتی،چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:میری زندگی ۴ ستونوں پر استوار ہے،اور یہ وہی ستون ہیں جو کبھی خراب نہیں ہونگے اور آخرت میں بصورت بہشت آشکار ہونگے،چونکہ قیامت میں ہمارے پاس عمارت بنانے کا کوئی مصالحہ اور مٹیریل نہیں ہوگا کہ انسان اس سے اپنی جنت کو تعمیر کرسکے۔
خداوند عالم نے قرآن مجید میں اپنے بندوں سے وعدہ قبولیت دعا کیا ہے لہذا تکبر کرنا اور اپنے کو اس سے بے نیاز سمجھنا انسان کو دوزخ میں لے جانے کا سبب ہے،لہذا انسان کو ہمیشہ اللہ سے لو لگانی چاہیئے اور ہمیشہ اس کے کرم اور فیض کی دعا کرنی چاہیئے چونکہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17