Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189553
Published : 12/9/2017 16:49

ہم تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں:حسن نصر اللہ

مزاحمتی تحریک نے ایک بہت بڑے فتنہ کو شکست دی ہے اور اس تحریک کے شہدا اور زخمیوں نے خطہ میں حالات کے توازن کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

ولایت پورٹل:الاخبار کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے  محرم الحرام کی آمد پر نوحہ خواں حضرات کے  درمیان تقریر کرتے ہوئے کہا کہ : ہم شام میں بہت سوچ سمجھ کر شامل ہوئے ہیں ، ہمارے شہدا ، زخمیوں اور اسیروں نے  حالات کا توزان بدل دیا ہے ، ہم نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطہ کی تاریخ  کا رخ موڑ دیں گے،مزاحمتی تحریک شام  کی جنگ میں سربلند رہی ہے اور اس کا دشمن شکست کھا چکا ہے اسی لیے اب مذاکرات کی دھائیاں دے رہا ہے  تا کہ کچھ تو اپنی عزت بچا سکے ، ہماری راہ کامیابی کی راہ ہے  جس پر چلنے کے لیے اور اس کو اسلامی امت کے حق میں موڑنے کے لیے ہم نے بہت مصیبتیں برداشت کی ہیں ، سید نے مزید کہا: داعش اور النصرہ فرنٹ کے خلاف لڑنا ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا جس  کو ہم نے آج تک  جھیلا ہے یہ دونوں دہشتگرد گروہوں سے لڑنا  2006ء کی  جنگ سے بھی زیادہ  خطرناک تھا اس لیے کہ امریکہ ، اسرائیل، قطر اور آل سعود نے  مشترکہ پلان بنا رکھا تھا کہ مزاحمتی تحریک کو ختم کرنا ہے  جس کا ہمیں 2011ء سے علم تھا، حزب اللہ کے سربراہ نے شام کے  بحران کے ابتدائی دنوں میں رہبر معظم سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان دنوں سب کو یقین  ہوگیا تھا  کہ بشار اسد کی حکومت دو یا تین مہینوں کی مہمان ہے لیکن ہم نے جب رہبر عالی قدر کے سامنے دشمن کے پلان کی وضاحت کی اور کہا کہ اگر دمشق میں ان دہشتگردوں کا راستہ نہیں روکا گیا تو یہ لبنان کے اندر داخل ہوجائیں گے،  آپ نے فرمایا کہ نہ صرف لبنان بلکہ ایران میں بھی آجائیں گے، سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ شام کےبحران کے ڈیڑھ یا دوسال کے بعد آل سعود نے بشار اسد کو پیغام دیا ہے  کہ کل پریس کانفرانس میں اعلان کرو  کہ  ایران اور حزب اللہ سے رابطہ ختم کر دوگے  تو ہم فورا بحران ختم کر دیں گے!!!حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اگر ہم جہاد  نہ کرتے تو لبنان کا کیا حشر ہوتا خدا ہی جانتا ہے اسی طرح اگر عراقی آیت اللہ سیستانی کی طرف سے دیے جانے والے فتوی پر عمل نہ کرتے تو  نہیں معلوم عراق کا کیا حال ہوتا، ہم نے شام میں اپنا مقدس فریضہ پورا کیا ہے  ورنہ ہمارے جوان حلب یا دیر الزور میں کیوں جا کر لڑتے یہ  سبق ہم نے کربلا سے سیکھا ہے۔
مہر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25