Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189556
Published : 12/9/2017 17:10

حدیث غدیر کی خواتین راوی

حجۃ الوداع میں خواتین کا شریک ہونا بھی اجتماعی مشارکت کی ایک اہم کڑی ہے چنانچہ اس عظیم و جلیل القدر واقعہ کی بہت سی تفصیلات انھیں خواتین کے ذریعہ کتب تواریخ و احادیث میں نقل ہوئی ہیں، جو خود اس امر کی غماز ہے کہ خواتین نے اس عظیم میراث کو بعد والی نسلوں تک منتقل کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔


ولایت پورٹل:کتب تاریخ میں موجود شواھد اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے آغاز رسالت سے  ہی مردوں کی طرح خواتین پر بھی دین اسلام کو پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا،چنانچہ سب سے پہلے اللہ کے رسول پر ایمان لانے والی شخصیت بھی ایک خاتون یعنی حضرت خدیجہ(س) ہی تھیں،اور اللہ کی راہ میں سب سے پہلے شہید ہونے والی پہلی شخصیت بھی ایک خاتون یعنی حضرت سمیہ ہی تھیں کہ جو سابقین میں سے تھیں لہذا یہ وہ سب شواہد ہیں  کہ جو خواتین کی اجتماعی امور میں شرکت کی عکاس ہیں۔
اسی طرح حجۃ الوداع میں خواتین کا شریک ہونا بھی اجتماعی مشارکت کی ایک اہم کڑی ہے چنانچہ اس عظیم و جلیل القدر واقعہ کی بہت سی تفصیلات انھیں خواتین کے ذریعہ کتب تواریخ و احادیث میں نقل ہوئی ہیں، جو خود اس امر کی غماز ہے کہ خواتین نے اس عظیم میراث کو بعد والی نسلوں تک منتقل کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے، لہذا  روایات غدیر کو نقل کرنے والی خواتین کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
الف)صحابیات
سن ۱۰ ہجری میں رسول خدا(ص) کے اعلان کے بعد مؤمنین کثیر تعداد میں مختلف شہروں سے عازم مدینہ ہوئے اور بیرون شہر قیام کیا تاکہ حج کا موسم پہونچ جائے،وہ حج کہ جسے بعد میں حجۃ الوداع،حجۃ الاسلام،حجۃ البلاغ،حجۃ الکمال اور حجۃ التمام کہا گیا،چنانچہ ماہ ذی الحجہ شروع ہونے سے ۵ یا ۶ دن پہلے رسول خدا(ص) نے مدینہ سے مکہ کی طرف کوچ کیا،اس سفر میں رسول اللہ(ص) کی تمام حرم اور اہل بیت کی مخدرات آپ کے ہمراہ تھیں،چنانچہ ان میں سے بہت سی خواتین نے حدیث غدیر کو نقل کیا:
۱۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ،رسول خدا(ص) کی تنہا یادگار اور لخت جگر ہیں،چنانچہ غصب خلافت کے بعد ،آپ نے متعدد بار مدینہ میں انصار و مہاجرین کی عورتوں کو واقعہ غدیر اور حدیث غدیر یاد دلائی ،لہذا جب انصار کے ایک گروہ نے اپنی خطا کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا:آپ جو بات اب کہہ رہی ہیں اگر بیعت سے پہلے کہتیں تو ہم علی کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے!
شہزادی کونین سلام اللہ علیہا نے فرمایا:کیا میرے بابا نے غدیر کے دن کسی کے لئے کسی بہانے کی گنجائش چھوڑی تھی جو تم اب بہانہ تلاش کررہے ہو؟ اسی طرح جب محمود بن لبید نے سوال کیا کہ: کیا علی کی امامت پر رسول(ص) کی کوئی حدیث پیش کرسکتی ہیں؟تو آپ نے جواب میں فرمایا:مگر کیا تم نے روز غدیر کو بھلا دیا ہے؟
۲۔ام سلمہ
حجۃ الوداع میں ازواج رسول اللہ(ص) خاص طور پر جناب ام سلمہ کا اس عظیم واقعہ میں موجود رہنا بہت سی کتب میں مرقوم ہے چنانچہ روضۃ الصفا کے مؤلف رقمطراز ہیں:جیسے ہی رسول خدا(ص) مقام غدیر خم میں اپنے خطبہ سے فارغ ہوئے تو آپ اپنے مخصوص خیمہ میں تشریف لائے اور علی(ع) کو ایک دوسرے خیمہ میں تشریف فرما ہونے کا حکم دیا؛پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ علی کے دست حق پرست پر بیعت کریں،چنانچہ جب مرد حضرات بیعت سے فارغ ہوچکے تو امھات المؤمنین علی(ع) کے قریب گئیں اور آپ کو مبارکباد پیش کی۔( فیض الغدیر، ص 388 -389.)
لہذا ام سلمہ رسول اللہ (ص) کی ان بیویوں میں سے ایک ہیں کہ جنھوں نے  حدیث غدیر کو بیان کیا ہے۔
۳۔اسماء بنت عمیس
اسماء بنت عمیس نے  اہل بیت(ع) سے قریب ہونے کی وجہ سے بہت سی روایات نقل کی ہیں،تقریباً ۶۰ روایتیں خود رسول خدا(ص) سے نقل کی ہیں کہ جن میں اکثر و بیشتر حضرت علی(ع) کے فضائل ومناقب سے مملوء ہیں،اسماء سابقین الی الاسلام لوگوں میں سے ایک ہیں،ان افراد میں سے ہیں کہ جو ارقم کے گھر کے اندر ایمان لانے والوں سے بھی پہلے اپنے شوہر جعفر طیار کے ہمراہ ایمان لائیں،اور پھر اس کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کی،جعفر طیار کی شہادت کے بعد ابو بکر سے عقد کیا اور ایک بیٹا (محمد بن ابی بکر) پیدا ہوا،اور جب خلیفہ اول کی بیوی تھیں تو اس وقت علی(ع) کے قتل کی ایک سازش کو ناکام بنایا ،وہ ہمیشہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کے حقیقی محبوں میں سے تھیں،اور شہزادی کونین کی شہادت کے بعد علی کے حرم میں آئیں،انھوں نے اپنے بیٹے محمد کی اس طرح تربیت کی کہ وہ علی(ع) کے حقیقی چاہنے والوں میں سے ایک تھے،جس وقت حجۃ الوداع میں شرکت کی اس وقت آپ ابوبکر کی زوجیت میں تھیں اور اس سفر کے دوران ہی محمد پیدا ہوئے تھے چنانچہ ابن عقدہ  نے اپنی کتاب؛ ولایت ،میں حدیث غدیر کو اسماء سے نقل کیا ہے،اور اسی طرح  یہ حدیث رد الشمس کی بھی راویہ ہیں۔( الغدیر، ج 1، ص 17. )  
۴۔ام ہانی بنت ابی طالب(سلام اللہ علیہا)
آپ حضرت علی(ع) کی خواہر گرامی ہیں، آپ راویان اور صحابیات پیغمبر(ص) میں سے ہیں،خود رسول خدا(ص) نے اپنی ایک حدیث میں آپ کی بڑی تمجید کی ہے،اس بزرگ خاتون نے حدیث ثقلین اور حدیث غدیر کو رسول اکرم(ص) سے روایت کی ہے۔
۵۔عایشہ بنت ابی بکر
عائشہ بنت ابی بکر رسول اکرم(ص) کی ان زوجات میں سے ہیں کہ جو واقعہ غدیر میں حاضر تھیں ،بہت سی اہل سنت کی کتب میں حدیث غدیر ان سے روایت ہوئی ہے۔( الغدیر، ج 1، ص 48; احقاق الحق، ج 2، ص 460.)
۶۔فاطمہ بنت حمزہ بن عبد المطلب
یہ رسول خدا(ص) کی مشہور صحابیات میں سے ایک ہیں،ابن عقدہ اور منصور رازی نے حدیث غدیر کو ان سے نقل کیا ہے۔( الغدیر، ج 1، ص 58.)
۷۔زید بن ارقم کی زوجہ
زید بن ارقم کی زوجہ ان افراد میں سے ہیں جنھوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے،چنانچہ علامہ طباطبائی  نے ان لوگوں کا نام کہ جنھوں نے حدیث (من کنت مولاہ فعلی مولاہ) کو نقل کیا ہے ان میں سے ایک نام زید بن ارقم کی زوجہ کا نام لکھا ہے۔( المیزان فی تفسیر القرآن، ص 59.)
ب)خواتین تابعی
تابعین خواتین کے درمیان جنھوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے ان کی تعداد بہت  زیادہ ہے لیکن ان روایات میں ایک ایسی بھی روایت موجود ہے کہ جس کے تمام راوی صرف خواتین ہیں،چنانچہ ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱. الشیخه ام محمد زینب ابنه احمد بن عبدالرحیم المقدسیه.
۲. فاطمه دختر امام موسی بن جعفر(علیهما السلام)
۳. زینب دختر امام موسی بن جعفر(علیهما السلام)
۴. ام کلثوم دختر امام موسی بن جعفر(علیهما السلام)
۵. فاطمه دختر جعفر بن محمد الصادق(علیهما السلام)
۶. فاطمه دختر محمد بن علی(علیهما السلام)
۷. فاطمه دختر علی بن الحسین(علیهما السلام)
۸. فاطمه دختر حسین بن علی(علیهما السلام)
۹. سکینه دختر حسین بن علی(علیهما السلام)
۱۰. ام کلثوم دختر فاطمه زهرا(سلام الله علیها)
ان سب مخدرات نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے حدیث غدیر کو روایت کیا ہے۔( اسنی المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب »، شمس الدین ابوالخیر الجزری، ص 32; احقاق الحق، ج 21، ص 26 و27; بحارالانوار، ج 36، ص 353; عوالم، ج 11، ص 444; اثبات الهدی، ج 2، ص 553 و ج 3، ص 127; اعلام النساء المؤمنات، ص 578 و مسند فاطمه معصومه(سلام الله علیها)، سید علی رضا سید کباری، ص 56)
اور ان کے علاوہ بھی بہت سی دیگر تابعی خواتین ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کو روایت کیا ہے لہذا اختصار کے پیش نظر ہم صرف ان کے نام ذیل میں بیان کررہے ہیں:
۱۱۔ عایشه بنت سعد
۱۲. دارمیه حجونیه کنانیه
۱۳. حسنیه
۱۴. عمیره بنت سعد بن مالک
۱۵. ام المجتبی علویه
۱۶. فاطمه بنت علی بن ابی طالب(علیهما السلام)

تحقیق:محمد عابدی
ترجمہ:سجاد ربانی





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17