Thursday - 2018 June 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189573
Published : 13/9/2017 17:37

علی(ع)کی محبت مؤمن اور منافق کی پہچان کا معیار

غدیر خم سے کئی سال پہلے پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) کی دوستی کو حق و باطل اور مؤمن و منافق کی پہچان کا معیار قرار دیا، اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) ایمان اور کفر کا معیار ہیں،صرف مؤمنین ہی آنحضرت کے دوست ہو سکتے ہیں اور صرف منافقین ہی آپ سے دشمنی کر سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل:غدیر خم سے کئی سال پہلے پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) کی دوستی کو حق و باطل اور مؤمن و منافق کی پہچان کا معیار قرار دیا، اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) ایمان اور کفر کا معیار ہیں،صرف مؤمنین ہی آنحضرت کے دوست ہو سکتے ہیں اور صرف منافقین ہی آپ سے دشمنی کر سکتے ہیں۔
یہ حدیث شریف جس سے شیعہ اور سُنّی کتابیں بھری ہوئی ہیں حد تواتر سے گذر چکی ہیں اور امیرُالمؤمنین کے لئے ایسی فضیلت کا درجہ رکھتی ہے کہ جو آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں،اس حدیث کو مختلف تعابیر کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا گیا کہ آپ (ص) نے فرمایا:یٰا عَلِیُّ لَا یُحِبُّکَ إِلّٰا مُؤْمِن ٌوَلَا یُبْغِضُکَ إِلّٰا مُنٰافِق ۔
حارث ہمدانی کہتے ہیں:میں نے ایک دن حضرت علی(ع) کو دیکھا کہ منبر پر تشریف فرما ہیں اور پروردگار کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:قَضٰاءٌ قَضٰاہُ اﷲ تَعٰالیٰ عَلیٰ لِسٰانِ النَّبِیِّ إِنَّہٗ قٰالَ: لاَ یُحِبُّنِی إِلّٰا مُؤمِنٌ و لَا یُبْغِضُنِیْ إِلّٰامُنٰافِقٌ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَریٰ۔
یہ منظورِ خدا تھا جو رسولِ اکرم(ص) کی زبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری ہوئے کہ مجھے دوست نہیں رکھے گا سوائے مؤمن کے اور مجھے دشمن نہیں جانے گا سوائے منافق کے جس نے باطل دعویٰ کیا وہ جھوٹا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 June 21