Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189597
Published : 14/9/2017 17:24

آیہ مباہلہ دلیل برتری نسل پیغمبر(ص)

امام علیہ السلام نے اپنے جواب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:ہارون!علی فاطمہ،حسن و حسین صلوات اللہ علیھم کے علاوہ کوئی رسول اللہ(ص) کے ہمراہ نہیں گیا،پس اس آیت میں ابناءنا سے مراد حسنین(ع) ہیں،لہذا خداوند عالم نے آیت مباہلہ میں امام حسن و حسین(ع) کو پیغمبر اکرم(ص) کا بیٹا کہا ہے اور یہ سب سے واضح اور ظاہر دلیل ہے کہ ہم اہل بیت نسل و آل رسول خدا(ص) ہیں۔


ولایت پورٹل:آئمہ معصومین(ع) اپنے کو رسول خدا(ص) کی ذریت اور اولاد سمجھتے اور اس پر افتخار کیا کرتے تھے،لیکن عباسی خلفاء کو معصومین(ع) کی رسول اللہ(ص) سے یہ نسبت زیادہ بھلی نہیں لگتی تھی بلکہ وہ حسد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ لوگ ذریت اور آل رسول خدا(ص) نہیں ہیں،بلکہ ہماری طرح رسول اللہ(ص) کے چچا کی نسل سے ہیں،چنانچہ اس حسد میں مبتلاء ایک شخص ہارون رشید بھی تھا اس نے ایک دن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے سوال کیا:آپ حضرات اپنے کو کیوں رسول خدا(ص) کی ذریت کے طور پر پہچنواتے ہیں، آپ حضرات رسول اللہ کی بیٹی کی اولاد سے ہیں،لیکن نسل اور نسبت باپ سے چلتی ہے ماں سے نہیں؟اور ہارون نے اپنے سوال کے جواب کو قرآن مجید سے طلب کیا،لہذا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے سب سے پہلے آیت مباہلہ کی تلاوت فرمائی:«فَمَنْ حَاجَّکَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَي الْکاذِبينَ[آل عمران/۶۱]
ترجمہ: پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔
امام علیہ السلام نے اپنے جواب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:ہارون!علی فاطمہ،حسن و حسین صلوات اللہ علیھم کے علاوہ کوئی رسول اللہ(ص) کے ہمراہ نہیں گیا،پس اس آیت میں ابناءنا سے مراد حسنین(ع) ہیں،لہذا خداوند عالم نے آیت مباہلہ میں امام حسن و حسین(ع) کو پیغمبر اکرم(ص) کا بیٹا کہا ہے اور یہ سب سے واضح اور ظاہر دلیل ہے  کہ ہم اہل بیت نسل و آل رسول خدا(ص) ہیں۔
الميزان فى تفسير القرآن، طباطبايى، سيد محمد حسين، دفتر انتشارات اسلامى، قم، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۲۹۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18