Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 189704
Published : 24/9/2017 13:53

اگر مرجعیت کا فتویٰ نہ ہوتا تو آج کربلا اور مکہ مدینہ پر داعش کا قبضہ ہوتا:حسن نصر اللہ

سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے ہی داعش کا شکست دی ہے۔


ولایت پورٹل:حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے ضاحیہ علاقہ میں  عزاداروں کے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرجعیت عراق کا فتویٰ نہ ہوتا  تو داعش اب تک کربلا،بصرہ،کویت اور سعودی عرب پر قبضہ کر چکی ہوتی، انھوں نے دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:ہم  اپنی شرعی ذمہ داری پر عمل کرتے ہوئے اسلامی امت کے حق میں لڑ رہے ہیں  جس کی وجہ سے صہیونیوں کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ خاک میں مل چکا ہے، اگر حزب اللہ کے جوان مقابلہ نہ کرتے تو اس وقت صہیونی لبنان میں مکان بنا  رہےہوتے، سید حسن نصر اللہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بعض عرب حکمرانوں کی تقریروں  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ان حکمرانوں  میں سے کسی نے بھی اسرائیل  کے ایٹمی خطرہ کے متعلق منھ  بھی نہیں کھولا،مزاحمتی تحریک کے سربراہ نے  داعش کی شکست میں عراقی مرجعیت کے اہم کردار  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراقی عوام آیت اللہ سیستانی کے فتوی پر عمل نہ کرتی تو  کربلا اور بصرہ کے سا تھ ساتھ  کویت اور سعودی عرب پر  بھی داعش قابض ہوجاتی اسی طرح اگر شام، عراق اور لبنا ن کی عوام اپنے جوانوں کو میدان میں نہ بھیجتی تو سب کے گلے کاٹ دیے جاتے  اورعزتیں پائمال ہو جاتیں ، یہ خدا کے کرم اور ان شہدا کی فداکاریوں کا نتیجہ ہے  اسلام اور مذہبی مقامات پر آنچ نہیں آنے پائی۔
العالم


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16