Tuesday - 2018 Oct. 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190529
Published : 20/11/2017 19:37

امام زمانہ(عج) کا عالمی انقلاب اور نئی نسل کی تربیت

تربیت دینی سے مراد یہ ہے کہ دین کے فرامین پر یقین کامل ،اور اس کی زندگی کا ملجا و محور دین ہی ہو،یعنی وہ اپنے کسی کام کو یہ سوچ کر انجام دے کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہےچونکہ اصطلاح میں دیندار اسے کہتے ہیں کہ جو سب سے پہلے یہ یقین رکھتا ہو کہ خداوندعالم نے ہمارے لئے اور ہماری زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہی دین بھیجا ہے نیز ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے دین نے کوئی مناسب راستہ اور قانون نہ بتایا ہو۔


ولایت پورٹل:کسی بھی انقلاب اور تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے مناسب مقدمات اور تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا امام زمانہ(ع) کا عالمی انقلاب بھی اس قانون سے مستثنٰی نہیں ہے اور چونکہ امام زمانہ(عج) کا عالمی انقلاب،سب سے اہم اور سب سے زیادہ اللہ کی نظر میں معتبر ہے لہذا اس انقلاب کی تیاریوں میں سے ایک،حقیقی منتظرین (اور انتظار کرنے والی نسل) کی صحیح تربیت ہے۔
امام زمانہ(عج) کی معرفت اور امام زمانہ(عج) کی نصرت کا جذبہ یہ وہ اہم عناصر ہیں کہ جو حکومت حضرت حجت(عج) کے لئے تمہید کی حیثیت رکھتے ہیں،اور یہ دو عناصر کا وجود ایسی جوان اور جدید نسل کی ضمیر کے اندر جاگزین کرنا کہ جو ایسے پر فتن دور میں زندگی بسر کررہے کہ جب دینداری اور دین کی بنیادیں ہلانے کی تیاری ہورہی ہے لہذا معرفت اور آگاہی کے ساتھ ساتھ دینی اصول پر نسل جدید کی تربیت بہت ضروری ہے۔
دینی تربیت
قارئین کرام! کہیں آپ دینی تربیت کے متعلق یہ نہ سوچ رہے ہوں کہ یہ کیا چیز ہے؟چونکہ ہر مسلمان اپنے بچے کی تربیت کرنے کے لئے کوشش یہی کرتا ہے کہ اس کی صحیح تربیت کرے،لہذا اس مقالہ میں تربیت دینی سے مراد یہ ہے کہ دین کے فرامین پر یقین کامل ،اور اس کی زندگی کا ملجا و محور دین ہی ہو،یعنی وہ اپنے کسی کام کو یہ سوچ کر انجام دے کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہےچونکہ اصطلاح میں دیندار اسے کہتے ہیں کہ جو سب سے پہلے یہ یقین رکھتا ہو کہ خداوندعالم نے ہمارے لئے اور ہماری زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہی دین بھیجا ہے نیز ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے  جس کے لئے دین نے کوئی مناسب راستہ اور قانون نہ بتایا ہو۔
چونکہ انسانی کرامت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی عقل و فکرکو بروئے کار لاتے ہوئے نظام خلقت میں اپنے مرتبہ کو سمجھے اور ظاہری اعضاء کے ذریعہ عمل کرکے کمال مطلوب تک پہونچ جائے اور یہ آرزو اسی وقت محقق ہوسکتی ہے  جب انسان کا دامن معرفت پر اور وہ دینی فرامین پر عمل کرنے میں سبقت کرتا ہو اور یہ سب دینی تربیت کے بغیر قابل تصور نہیں ہے۔
امام زمانہ(عج) کی حکومت عالمی پیمانہ پر ہوگی لہذا ہمیں بھی اسی زاویہ سے فکر کرنے کی ضرورت ہے چونکہ اسلام دو زاویوں سے تربیت کی طرف متوجہ ہے انفرادی؛اور اجتماعی اور اسلام کی نظر میں اجتماع سے مراد کوئی شہر،محلہ وغیرہ نہیں ہے بلکہ کل عالم مدنظر ہے چنانچہ آئمہ علیہم السلام نے تبلغ دین میں عالمی وسائل سے استفادہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے مثلاً امام حسین(ع) کی عزاداری کو مختلف اقوام کے لئے منعقد کیا جاسکتاہے چنانچہ امام محمد باقر(ع) نے اپنے فرزند امام صادق(ع) کو وصیت فرمائی کہ دس سال تک منٰی میں۔۔ جہاں تمام حاجی آکر ٹہرتے ہیں۔۔ امام حسین(ع) کی عزاداری کریں لہذا یہ امر سبب ہوا کہ دنیا کے دور دراز علاقوں سے آنے والے حاجی اس موضوع سے آگاہ ہوتے تھے،لہذا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح تربیت ان اصولوں پر ہونی چاہیئے کہ انسان اپنے دین کو پورے عالم کے سامنے پیش کرسکے لہذا اسے ہر میدان میں مکمل آمادہ ہونا پڑےگا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 16